آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Around the World

مالی امداد منقطع کرنے کی دھمکی ٹرمپ کی بلیک میلنگ ہے : فلسطینی موقف

Palestinian President Mahmoud Abbas delivers a statement accompanied by U.S. President Donald Trump during a visit to the White House in Washington D.C., U.S., May 3, 2017. REUTERS/Carlos Barria
Written by Taasir Newspaper

بیت المقدس4جنوری ( آئی این ایس انڈیا )فلسطینیوں کی جانب سے مذاکرات کی طرف لوٹنے سے انکار پر اصرار کی صورت میں امریکہ کی طرف سے مالی امداد منقطع کرنے کا عندیہ قطعا غیر متوقع نہیں ہے ۔ امریکی کانگریس فلسطینیوں کے لیے امریکی مالی سپور ٹ کو کم کرنے کے واسطے ایک سے زیادہ قراردادیں جاری کر چکی ہے۔ ان میں آخری قرارداد کے لیے یہ حیلہ بنایا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی فلسطینی قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مالی وظائف جاری کرتی ہے جو اسرائیل کے لیے اشتعال انگیز اور دہشت گردی کی سپورٹ کے مترادف ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امداد منقطع کرنے کی دھمکی یا اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نِکی ہیلی کی جانب سے عالمی تنظیم اونروا کی فنڈنگ روک دینے کی دھمکی پر عمل ہوا تو فلسطینی اتھارٹی سب سے زیادہ متاثر فریق نہیں ہو گی کیوں کہ امداد کا زیادہ تر حصّہ درحقیقت فلسطینی اتھارٹی کے پاس نہیں پہنچتا ہے ۔سال 1993 میں اوسلو معا ہدے پر دستخط کے بعد سے واشگنٹن فسلطینیوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر کے قریب پیش کرتا ہے۔ اس رقم کا بڑا حصّہ USAID کے ذریعے ترقیاتی اور اقتصا د ی منصوبوں میں سرماریہ کاری کی صورت میں ہوتا ہے جب کہ بہت تھوڑا حصّہ فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ میں آتا ہے۔ مثلا سال 2017 کے لیے امریکی سپورٹ کی رپو ر ٹ کے مطابق مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں منصوبوں کے لیے 36.3 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی گئی جب کہ فلسطینی اتھارٹی کا حصّہ صرف 3.6 کروڑ ڈالر تھا۔ جہاں تک اونروا تنظیم کا تعلق ہے تو امریکہ اس بین الاقوامی تنظیم کو سالانہ 36.8 کروڑ ڈالر فنڈ دیتا ہے۔ ان میں 15.2 کر و ڑ ڈالر براہ را ست فنڈنگ جب کہ 21.6 کروڑ ڈالر منصوبوں کی فنڈنگ کی صورت میں ہوتے ہیں۔ اسرا ئیلی ما ہر ین کے بھی تجزیے کے مطابق غزہ میں 2014 کی آ خری جنگ کے اسباب میں ایک وجہ محصور غزہ پٹی میں مالی اور انسانی بحران تھا۔ اونروا کی جانب سے ترقیاتی اور انسانی امداد کے منصوبے روک دیے گئے تو آئندہ جنگ کے لیے ا±لٹی گنتی کا آغاز ہو سکتا ہے ۔ ایک جا نب ٹرمپ کے اعلانِ ق±دس کے بعد سے اسر ائیل نسبت پرسکون حالت میں ہے اور وہ دو خود بھی مذا کرا ت اور دو ریاستی حل کی جانب نہیں جانا چاہتا۔ تاہم دوسری طرف اسرائیل ایک دوسرے امکا ن کے واقع ہونے کے حوالے سے پریشانی کا شکار بھی رہے گا۔ وہ ہے فلسطینی اتھارٹی کی تحلیل اور اوسلو معاہدوں کی منسوخی ۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل کو فلسطینی اراضی پر قبضے کی قیمت چکانا پڑے گی۔ سکیورٹی ، سیاسی اور اقتصادی طور پر قبضے کی براہ راست ذمّے داری اسرائیل پر آن پڑے گی۔ معلوم رہے کہ اس ڈرامائی اقدام کی تجویز فلسطینی مرکزی کونسل کی میز پر موجود ہے جو رواں ماہ کی 14 اور 15 تاریخ کو رام اللہ میں اپنا اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ اس اجلاس میں حماس اور اسلامی جہاد کے علاوہ دیگر گروپوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اقدام کیا جائے گا یا نہیں۔ اس لیے کہ یہ تنازع کو واقعتا بنیادی طور پر اپنی اولین پوزیشن پر واپس لے جائے گا۔ اس طرح فسلطینی اسرائیلی تعلق ممکنہ طور پر بدترین اور خطرناک ترین شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper