آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Around the World

امریکی پالیسیوں کے خلاف ایران کا پاکستان سے تعاون بڑھانے پر زور

National Security Advisor Lt. General (Retd) Nasser Khan Janjua talking to Admiral Ali Shamkhani, Secretary of Iran’s Supreme National Security Council at Islamabad on October 28, 2015.
Written by Taasir Newspaper

تہران / اسلام آباد 8جنوری ( آئی این ایس انڈیا ) ایران نے پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ نفاق پیدا کرنے کی امریکی پالیسی سے نمٹنے کے لیے آپس میں قریبی تعلقات استوار کریں۔ایران کے سرکاری ٹی وی’پریس ٹی وی‘ کے مطابق یہ بات شوری اعلیٰ امنیت ملی یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شامخانی نے اتوار کو تہران میں پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ سے ملاقات کے دوران کہی۔شامخانی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی مسلم ممالک بشمول پاکستان اور ایران کے لیے بددیانت، دوغلی اور تقسیم کی پا لیسی سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ چوکنا ر ہتے ہوئے اپنے تعاون کو فروغ دیا جائے، یہی وقت کی ضرورت بھی ہے ۔یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی طرف سے پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کا رر وائی نہ کرنے پر امریکی حکام کی شدید تنقید کا سامنا کر رہا ہے جب کہ ایران سے متعلق بھی ٹرمپ انتظامیہ خاصا تلخ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ ملا قات کے دوران پاکستانی مشیر کا کہنا تھا کہ اسلا می ملکوں کو مسلمانوں کے درمیان نفاق پیدا کر نے کی غیر ملکی پالیسیوں سے نمٹنے کے لیے شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ان کے بقول پاکستان، ایرا ن کے ساتھ سلامتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔پریس ٹی وی کے مطابق شامخانی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستا ن کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دے گا ۔ انھوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اعلان کر دہ نئی قومی سلامتی کی نئی امریکی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں عدم استحکا م پیدا ہو گا۔ایرانی اور پاکستانی رہنما و¿ں کی یہ ملا قات ایسے وقت ہوئی ہے جب خاص طور پر پا کستان سے متعلق امریکی رویے کے تناظر میں امریکی ذرائع ابلاغ سمیت بعض دیگر حلقوں میں بھی یہ تاثرسامنے آیا ہے کہ انسدادِ دہشت گرد ی میں امریکہ کا قریبی اتحادی رہنے والا پاکستان دیگر بڑی طاقتوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے جو کہ خطے میں امریکہ کے مفاد کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوگا۔تاہم امریکی عہدیدار وں کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی سنجیدہ کارروائیوں کی صورت میں اس کی معطل شدہ امداد بحال کر دی جائے گی۔دو روز قبل ہی پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کا کوئی اتحاد نہیں کیونکہ ان کے بقول اتحادیوں کے ساتھ ایسا رویہ نہیں برتا جاتا جیسا امریکہ نے اپنایا ہوا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper