آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Around the World

امریکی نائب صدر 20 جنوری سے مصر ، اردن اور اسرائیل کا دورہ کریں گے

U.S. Vice President Mike Pence introduces U.S. President Donald Trump before he delivers remarks regarding the Administration's National Security Strategy at the Ronald Reagan Building and International Trade Center in Washington D.C, U.S., December 18, 2017. REUTERS/Joshua Roberts
Written by Taasir Newspaper

واشنگٹن،۹جنوری(پی ایس آئی)امریکی نائب صدر مائیک پینس 20 جنوری سے مصر ، اردن اور اسرائیل کا چار روزہ دورہ کریں گے ۔ وائٹ ہاو¿س نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ مائیک پینس قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی ، عمان میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے با ت چیت کریں گے۔وہ مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں واقع غربی دیوار (دیوار گریہ) بھی جا ئیں گے اور اسرائیلی پا رلیمان سے خطاب کریں گے۔ مائیک پینس کی خاتون ترجمان ایلیسا فرح نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ” صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نائب صدر مشر ق وسطیٰ کے دور ے پر جائیں گے اور وہ خطے میں امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل جل کر ریڈ یکل ازم کو شکست دینے کے عزم کا اعادہ کریں گے جس سے مستقبل کی نسلوں کو خطرات لاحق ہیں“۔ان کے بہ قول وہ مذکورہ تینوں لیڈروں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ہماری قومی سلامتی کو بہتر بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیا ل کریں گے۔واضح رہے کہ مسٹر مائیک پینس نے دسمبر میں مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر آنا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس ( یر وشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد ان کا یہ دورہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ وہ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے زبردست حامی ہیں لیکن مسلم اور عرب ممالک نے اس فیصلے کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس نے نائب صدر سے ملاقات سے ہی انکار کردیا تھا۔یروشلیم مسلما نوں ، یہود اور عیسائیوں تینوں کے ایک مقدس شہر ہے۔فلسطینی شہر کے مشرقی حصے کو اپنی مسقبلص میں قائم ہونے والی آزاد ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیل اس کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس شہر کی حیثیت پر تنازع ہی درحقیقت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اسرائیل نے 1967ءکی جنگ میں بیت المقدس اور غرب اردن کے علاقے پر قبضہ کیا تھا۔اس نے بعد میں بیت المقدس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا اور اب وہ اس کو اپنا دائمی دارالحکومت قراردیتا ہے لیکن عالمی برادری نے کبھی اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا ہے۔القدس کے مشرقی حصے میں واقع مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اوّل اور ان کے لیے تیسرا مقدس مقام ہے۔ یہود بھی اس کو ٹیمپل ماو¿نٹ کی وجہ سے اپنے لیے مقدس خیال کرتے ہیں۔یہیں ان کی مشہور دیوار گریہ واقع ہے جس کے نیچے وہ عبادت کرتے ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper