آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
NEW DELHI

ریکس ریمیڈیز چیری ٹیبل ٹرسٹ کے تعاون سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں دو سالہ ڈپلومہ ان یونانی فارمیسی ، ماڈرن لیباریٹری اور موبائل وین کا افتتاح

1
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی 10جنوری (ابصار احمد صدیقی)آج بتاریخ 10 جنوری 2018 کو جامیہ ملیہ اسلامیہ کے محب الحسن بلاک میں دو سالہ ڈپلومہ ان یونانی فارمیسی ، ماڈرن لیباریٹری اور موبائل وین کا افتتاح جامیہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد صاحب ، ڈاکٹر انل کھورانہ (ڈائیریکٹر جنرل ، سی سی آر یو ایم) اور جناب محمد شعیب اکرم صاحب ( صدر، ریکس ریمیڈیز چیری ٹیبل ٹرسٹ ) نے کیا۔ افتتاح کے موقع پروائس چانسلر صاحب نے فرمایاکہ حکیم اجمل خاں صاحب جو کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے ہیں انہوں نے ہی طب یونانی کو ہندوستان میں خوب فروغ دیا اور ہم نے انہیں کی یاد میں اس کورس کی شروعات کی ہے۔ پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ طب یونانی نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں مشہور و معروف ہو رہی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ طب یونانی کے نئے نئے کورس شروع کیئے جائیں جس سے کہ اس فن کو مزید ترقی حاصل ہو۔ اس کورس کو شروع کرنے میں تعاون دینے کے لئے انہوں نے ریکس ریمیڈیز چیری ٹیبل ٹرسٹ کے صدر جناب محمد شعیب اکرم صاحب کا شکریہ ادا کیا۔جناب محمد شعیب اکرم صاحب نے اپنے خطاب کے بعد یونانی فارمیسی کے سبھی طلبہ کو 10-10 ہزار روپے کا چیک دیا۔یاد رہے یونانی طلباءکے لئے تعلیم اور کیرئر کے بہترین مواقع فراہم کرنے کی غرض سے ہندوستان کی سنٹرل یونیورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے نہایت ہی مفید دو سالہ کورس Diploma in Pharmacy (Unani) کا آغاز موجودہ سیشن سے کیا ہے۔ اس نئے کورس کے پہلے بیچ میں 40 طلباءکا داخلہ عمل میں آچکا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈپارٹمنٹ Faculty of Natural Scinces میں مرکزی حکومت کے یونانی ادارے CCRUM کے سابق اسسٹنٹ ڈائیریکٹر جناب ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی کو اس یونانی کورس کا Coordinator مقرر کیا گیا ہے۔ پروفیسر طلعت احمد وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی کی پہل اور کاوشوں سے ہی اس کورس کا آغاز عمل میں آیا ہے۔ طب یونانی کے خیر خواہوں کو یہ جان کر مزید خوشی ہوگی کہ ریکس چیرٹیبل ٹرسٹ نے اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے نوجوان طلباءمیں طب یونانی کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے چند اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ جن کی مختصر تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔: ریکس ریمیڈیز چیریٹیبل ٹرسٹ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مابین ایک معاہدے کے تحت ایک ماڈرن لیباریٹری کا قیام عمل میںلایا گیا ہے، جس میں تمام مطلوبہ Equipments اور Infrastructure ریکس ریمیڈیز چیریٹیبل کی طرف سے فراہم کیئے جا چکے ہیں اور آئندہ بھی لیبارٹری کی Maintenance کی تمام تر ذمہ داری ریکس ریمیڈیز چیریٹیبل ٹرسٹ کے ذمہ ہوگی ۔اس موقع پر ریکس ریمیڈیز چیریٹیبل ٹرسٹ کے سربراہ جناب محمد شعیب اکرم صاحب نے مندرجہ ذیل فلاحی اقدامات کا اعلان کیا اور بتایا کہ ریکس ریمیڈیز طب یونانی کے فروغ کے لئے شب و روز سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔ جہاں بھی طب یونانی کے طالبعلموں کو ہماری خدمات کی ضرورت ہوگی ہم ہمیشہ آپ کا استقبال کریں گے۔ ۱۔ پہلے سال کے ڈپلومہ فارمیسی کے تمام طلباءکو ریکس ریمیڈیز چیریٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے سالانہ دس ہزار (Rs.10,000/-) روپے وظیفہ (Stipend) کے طور پر ادا کیئے جائیں گے۔۲۔ پہلے بیچ کے وہ طلباءجو پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن میں کامیابی حاصل کریں گے انہیں بھی انعامات سے نوازا جائے گا۔ اول پوزیشن پانے والے کو 31 ہزار روپے، دوئم پوزیشن پانے والے کو 21 ہزار روپے اور سوئم پوزیشن پانے والے طالبعلم کو 11 ہزار روپے ریکس ریمیڈیز چیریٹیبل ٹرسٹ کے جانب سے پیش کیئے جائیں گے۔۳۔ یونانی ڈپلومہ فارمیسی کے طالبعلموں کو سال میں تین مرتبہ ریکس ریمیڈیز لمٹیڈ کی فیکٹری واقع گریٹر نوائیڈہ میں پریکٹکل ٹرینگ کے لئے مدعو کیا جائے گا۔ جس میں مفردات۔ نسخہ سازی۔ پیکنگ اور مینوفیکچرنگ کی باریکیاں طلباءکوسکھائی جائیں گی۔ڈپلومہ ان یونانی فارمیسی کورس جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شروع کرنے کے لئے خاص طور پر پروفیسر طلعت احمد صاحب وائس چانسلر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، ڈاکٹر صغیر احمد صدیقی صاحب اور ڈاکٹر محمد خالد صاحب (اسسٹنٹ ڈرگ کنٹرولر یونانی) وغیرہ کی جدوجہد اور کاوشوں کو جناب محمد شعیب اکرم صاحب نے سراہا اور اس کے لئے انہیں مبارکباد پیش کی۔موبائل وین Unani On Wheel : ریکس ریمیڈیز چیری ٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے طب یونانی کے فروغ کے لئے جہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھ ڈپلومہ ان یونانی فارمیسی کا کورس شروع کیا گیا ہے تو وہیں عوام کو فائدہ پہنچانے کے پیش نظر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹاف اور طلبہ کو جامعہ کے کیمپس میں ہی موبائل وین Unani On Wheel کے ذریعہ ریکس ریمیڈیز لمٹیڈ کی اعلیٰ معیار کی ادویات50% ڈسکاﺅنٹ پر فراہم کرائی جائیں گی۔

About the author

Taasir Newspaper