آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Sports

گانگولی نے روہت اور شکھر کے انتخاب پر اٹھائے سوال

ganguli
Written by Taasir Newspaper

دہلی، 10 جنوری (یواین آئی) سابق ہندوستانی کپتان سوربھ گانگولی نے جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹا¶ن میں کھیلے گئے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں سلامی بلے باز شکھر دھون اور روہت شرما کو آخری الیون میں شامل کیے جانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے ۔ ہندوستان کو میزبان جنوبی افریقہ کے ہاتھوں پہلے ٹیسٹ میچ میں 72 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پہلے ٹیسٹ میں ہندوستان کا ٹاپ آرڈر مکمل طور پر فلاپ رہا تھا۔ شکھر نے اس میچ میں 16-16 اور اور روہت نے 11 اور 10 رنز بنائے تھے ۔ ٹیسٹ سیریز کا دوسرا میچ ہفتہ سے سینچورین میں کھیلا جائے گا۔ گانگولی نے منگل کو ایک ٹی وی چینل سے کہا، “غیر ملکی پچوں پر شکھر اور روہت کی تاریخ اچھی نہیں رہی ہے ۔ اگر آپ گھر کے باہر اور بیرون ملکوں ان کے ریکارڈ کو دیکھیں گے تو آپ کو سب کچھ سمجھ میں آ جائے گا۔ بیرون ملک میں ان کے ناکام ہونے کی وجہ سے ہمیں مرلی وجے اور وراٹ کوہلی پر کچھ زیادہ ہی منحصر ھونا پڑتا ہے ۔ ” سابق کپتان نے کہا، “آپ چتیشور پجارا کو دیکھئے ، انہوں نے برصغیر میں قریب 13،14 سنچری بنائی ہے ۔ میں لوکیش راہل کے سلسلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا میں رنز بنائے ہیں۔ یہ صرف فارم کی بات نہیں ہے ، بلکہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کون سے کھلاڑی کہاں رن بناتے ہیں۔ ” انہوں نے ساتھ ہی کہا، “لیکن اب بھی زیادہ کچھ نہیں ہوا ہے ، میں میچ کے نتیجے سے حیران نہیں ہوں۔ ہمارے پاس وراٹ کے طور پر شاندار کپتان ہے اور ہم اگلے میچ میں ضرور اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے ا چھے نتائج دیں گے ۔ گانگولی کا خیال ہے کہ یقینا ہم پہلا میچ ہار گئے ہوں لیکن ہندوستانی ٹیم انتظامیہ کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں کرنی چاہئے . سابق کپتان گانگولی نے کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ کپتان اور کوچ ٹیم کی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی کریں گے ۔ ہاں اس بات کا امکان ضرور ہے کہ رہانے اور راہل میں سے ایک کو آخری الیون میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ اگر رہانے کو روہت کی جگہ شامل کیا جاتا ہے تو ٹاپ آرڈر میں راہل کو موقع ملنے کا امکان ہے ۔ ” گانگولی نے سینچورین کی پچ کے سلسلے میں کہا، “سینچورین کا بھی وکٹ بھی تیز رہے گا۔ وہاں کی وکٹ تو کیپ ٹا¶ن سے بھی تیز اور اوچھال بھری ہوگی۔حالانکہ تیز گیند بازوں کو اتنی سوئنگ نہیں مل سکتی ہے جتنی کہ انہیں کیپ ٹا¶ن میں ملی تھی لیکن وکٹ میں رفتار ضرور ہو گی۔ “

About the author

Taasir Newspaper