آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

جرائم ذاتی شخصیت کی دین ہوتی ہے معاشرے یا مدارس کی نہیں:اے ایچ ہاشمی

4
Written by Taasir Newspaper

شمین پوری11جنوری(حافظ محمد ذاکر ) وسیم رضوی کا مدرسوں کے متعلق متنازع بیان سے مسلم سماج میں غم وغصہ پایا جارہا ہے ، اس سلسلے میں مدرسہ عربیہ در س القرآن کے مہتمم حاجی محمد اسحا ق نے کہا ،یہ وسیم رضوی کا یہ بیان انکی گندی ذہنیت کی عکاسی کرتاہے ،جبکہ مدارس دینیہ سے دین ودنیا کی تعلیم حاصل کر کے غیر ملکوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں ،یہ مدارس علم و عمل کے گہوارہ ہیں ، یہاں انسانیت کا درس دیا جاتا ہے ،تہذیب و تمدن سکھایا جاتا ہے ،ملک سے وفاداری کا درس دیا جاتا ہے ،بھائی چارگی کا سبق پڑھایا جاتا ہے ،مدارس عربیہ کے طلباءکو دہشت گرد کہنے والے ذرایہ بھی بتائیں کہ طلباءکو کب اور کہاں روڈ جام کر تے دیکھا ،ٹرین ،اور بسوں کے کب چکہ جام کر تے دیکھا ،اپنے مدرسوںمیں، لاٹھی، ڈنڈے ، بندوقیں،کب چلاتے دیکھا ،اور اسی کے برعکس کا لجوں ،یو نیور سٹیوں کے طلباءپر بھی نظر ڈالی جا ئے ،تو یہ سار ی چیزیں وہاں پائی جاتی ہیں ،اگر بند کرنا ہے تو ان کالجوں کو بند کرو،مگر یہ بھی غلط ہے ؟سچائی یہ ہے کہ رضوی جیسے فر،قہ پرست، موقعہ پرست، کی زبا ن قانو نی طورپر سزا دے کے بند کی جائے ،اقلیتی وکلاا یسوس یشین کے ریاستی صدر اے،ایچ ہاشمی نے کہا ،اگر کسی بھی طالب علم کے ہاتھوں میں اسلحہ دکھائی بھی دیتا ہے ،تو اسکو کسی بھی ادارے کی تر بیت نہیں کہا جاسکتا ،جرائم ذاتی شخصیت کی دین ہو تی ہے معاشر ے یا مدارس کی نہیں ،اگر رضوی جیسے نا اہل کے نظر یہ سے دیکھا جائے تو جرائم کی ہسٹری میں ملوث مدارس کے طلباءنہیں بلکہ کا لج، یونیورسٹی کے طلباءملیں گے ، اے،ایچ ہاشمی نے کہا میرا اپنا ماننا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو دہشت گرد کا اڈا نہ کہا جائے ،وہاںانسانیت سازی کی جاتی ہے ،خصوصاً مدارس عربیہ میں اس بات کا اہتمام زیادہ پایا جاتا ہے ،اگر کسی طالب علم کے ہاتھوں میں اسلحہ دیکھ کر کسی ادار ے پر پابندی عائد کرنا ہی نیک فعال ہے ،تو پھر سب سے پہلے یونیورسٹیوں کو بند کیا جانا چاہیئے، ریا ست تمل ناڈوکی ایک یونیورسٹی میں ایک دلت طلباءروہت نے انے ساتھیوں کے تشدد کی وجہ سے خود کشی کی ،اسی طرح دہلی میں جواہر لال نہرو یونیو ر سٹی کے طلباءپر دیش دیروہی کا مقدمی درج ہوا ، اس طرح کی بہت سی یونیو ر سٹیو ن ،کالجوں کے طلباءکے خلاف شددت کے معا ملا ت سامنے آ تے رہتے ہیں ، تو کیا کالجوں کو بند کر دیا جائے ؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں ،یہ ادارے تو انسان کو انسان بنا تے ہیں ، اے،ایچ ہاشمی نے کہا رضوی کا یہ بیان ،آ ر،ایس ، ایس،اور بی،جے ،پی کو خوش کر نے کے لئے ہے ،کیو نکہ موجودہ حالات میں ہر ایک مجرم وزیر اعظم نریندر مودی ،اور ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے بچنے کے لئے اس طرح کی شوشے بازی (مدارس اسلامیہ او ر مسلمانو ں کو خلاف بیان بازی )کرتے نظر آر ہے ہیں،اور اپنے جرائم کو حکومت سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ،رضوی اپنے جرائم سے ریاستی سرکار کا دھیان ہٹا نا چاہتے ہیں ،خود وسیم رضوی پر بدعنو انی کے تمام مقدمات درج ہیں ،گزشتہ سماجواد ی حکو مت میں بھی کچھ قد آور نیتاﺅں کی چاپلوسی کر کے خود کو بچاتا رہا ہے، مدارس کے خلاف زباں در ازی کر کے وسیم رضوی نے ملک میں بد امنی پیدا کر نے اور نفرت پھیلانے کی ناپاک کوشش کی ہے۔
، اے،ایچ ہاشمی نے کہا میں اقلیتی وکلاایسوسیشین کے ریاستی صدر ہونے کے ناطے حکومت سے مطالبہ کرتا ہو ں کہ ایسے شخص کے مقدمات کو ،اور تمام بد عنوانیوں کی فائلوں کو ازسرِنو تحقیقات کر کے مناسب کار روائی کی جائے ، اے،ایچ ہاشمی نے کہا کہ اسی رضوی نے گزشتہ سرکار میں ایک شریف انسان کلب جواد پر غلط پروپیکنڈہ کر کے حکومت سے بد ظن کر دیا تھا ، اے،ایچ ،ہاشمی نے کہا کہ اگر حکومت نے رضوی پر قانونی کارروائی نہ کی تو ہم تمام ثبوت یکجاءکر کے وسیم رضوی کے خلاف عدالت میں قانونی لڑائی لڑیں گے ۔

About the author

Taasir Newspaper