آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Politics

مذہب اور راستے الگ مگر منزل ایک

RAJGIR, JAN 11 (UNI);- President Ram Nath Kovind addressing a Conference on Dharma Dhamma Organised by Nalanda University, Rajgir in collaboration with Centre for Study of Religion and Society, India Foundation of Ministry of External Affairs at Rajgir on Thursday. UNI PHOTO-46U
Written by Taasir Newspaper

راجگیر11 جنوری(توصیف جمال)راجگیر کے انٹر نیشنل کنوینشن ہال میں نالندہ یونیور سیٹی و انڈیا فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام تین روزہ دھرم و دھما کانفرنس شروع ہوگئی۔کانفرنس کا افتتاح قومی ترانہ کے بعد صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند ، گورنر ستیہ پال ملک ،وزیراعلیٰ نتیش کمار اور سری لنکا کے وزیر خارجہ تلک مارا پانا نے کیا ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ سبھی مذاہب کے راستے الگ الگ ہوسکتے ہیں مگر سبھوں کی منزل ایک ہی ہے۔ اور انسان کو ہر حال میں پرُ امن طریقے سے زندگی بسر کرنی چاہئے، انہوں نے کہا کہ بودھ مذہب نے قیام امن کی راہ دکھائی ہے اور انکے بتائے ہوئے راستے پر چلا جائے تو ملک اور دنیا میں امن و امان قائم رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ظلم کو کیسے روکا جائے اور پھر امن کیسے بحال کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اشوک کو یودھا کے طور پر نہیں بلکہ دھما اشوک کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نالندہ ہماری پسندیدہ جگہوں میں ایک ہے ۔ یہاں کی تعلیم معیار کافی بلند رہا ہے۔ اور تاریخ کے صفحات بھی گواہ ہیں کہ اس وقت جو یہاں تعلیم دی جاتی تھی وہ قابل صلاحیت اساتذہ کرام کی بے پناہ محنت کا نتیجہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نالندہ یونیورسیٹی کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ دھرم و دھما ایک ہی لفظ ہیں اسے سنسکریت و پالی کے ایک ہی معنی ہے اس کا مطلب صرف اور صرف محبت ،پیار، امن ،اخلاق ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امن کے ساتھ بہتر طریقے سے زندگی بسر کرنے کے لئے مو¿ثر اقدامات اٹھائے جاتے رہیں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نتیش کمار نے کہا کہ راجگیر سبھی مذاہب کا سنگم ہے۔ یہاں سبھی مذہب کے صوفی اور سنت کی آمد ہوئی ہے، اور یہاں سے پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا گیا ہے، ہماری دلی خواہش ہے کہ راجگیر کو ورلڈ ہریٹیج میں شامل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ کی موجودگی میں کہا کہ بہار میں اور بھی کئی ایسے مقامات چھپے ہیں جہاں تاریخی وراثت محفوظ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کے صفحات پر جمی دھول کو ہٹایا جائے۔ موصوف نے صدر جمہوریہ سے التجا بھری لہجوں میں کہا کہ آپ سال میں کم از کم دو مرتبہ بہار تشریف لائیں تاکہ بہار مزید ترقیات کی راہ گامزن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ صدر جمہوریہ جب بہار کے گورنر تھے تو اسی سرزمین سے وہ صدر جمہوریہ کے عہدہ پر فائز ہوئے ہیں۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ بہار کے موجودہ گورنر بھی آنے والے دنوں میں ملک کے سب سے پرُ وقارعہدہ پر فائز ہوں۔آخر میں وزیر اعلی نے کہا کہ راجگیر نہایت ہی تاریخی مقام ہے اور یہاں پوری طرح جب یونیورسیٹی بنکر تیار ہوجائےگی تو ملک اور بیرون ممالک سے کافی تعداد میں لوگ آئیں گے۔ ایسی صورت میں ایک اعلی سطح کا اسٹیٹ ہاﺅس بھی بنانے کی ضرورت ہے اسٹیٹ ہاﺅس تمام سہولیات سے لیس رہے تاکہ صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم سمیت ہائی پروفائل گیسٹ بھی یہاں آرام کر سکیں۔اس کے لئے راجگیر میں الگ سے زمین تحویل میں لی جاچکی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper