آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

پورے ملک میں اقلیتی فرقہ کوخائف کرنے کی سازش؟ ، بھاجپائی ر اشٹرواد نے دکھایا اپنا اصلی رنگ، اقلیتوں کی آزادی پر شکنجہ

3
Written by Taasir Newspaper

سہارنپور ( احمد رضا) بھاجپائی سرکار لوک سبھا ۹۱۰۲ کا الیکشن ہندوتو کے نام پر جیتنی کی اپنی پلاننگ پر تیزی کیساتھ کامزن ہے اسی لئے پچھلے کچھ ماہ سے مسلم مخالف ماحول تیار کیا جارہاہے لوک سبھا ۹۱۰۲ جیتنا بھاجپائی گروپ کے لئے نہ جانے کس مقصد سے اہم ہے یہ تو وہی جانیں مگر اس مقصد کو پانیکے لئے بھاجپائی گروپ نے جو مسلم مخالف کارڈ کھیلاہے اسکا ابھی تک یہاں سیاسی جماعتوں کے پاس متبادل نہی ہے! غور طلب ہےکہ دیوبند میں۳۱۰۲سے غائب اے کے ۷۴ کی تلاش کے نام پر مسلم افراد کے ساتھ سخت رویہ اپنائے جانیکے ساتھ ساتھ سہارنپور، شا ملی، دیوبند، مظفر نگراور میرٹھ میں بنگلہ دیشی افراد کے فرضی پتہ سے پاسپورٹ بنوانیکے نام پر مسلم افراد کے ساتھ کیگئی زور زبردستی کے بیہودہ واقعات کو بڑھا چرحاکر پیش کئے جانے کی کاروائیوں پر کل دیر شام پچھڑا سماج مہاسبھا کے قائد احسان الحق ملک اور شیو نارائن کشواہانے مشترکہ طور پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیکر کہاکہ جو کچھ بھی مرکز کی مودی اور ریاست کی یوگی سرکار حکمت عملی اپنا رہی ہے اسکا سیدھا سا مطلب ملک کے تیس کروڑ مسلم طبقہ کی آزادی پر شکنجہ کسناہے تاکہ آنے والے لوک سبھا الیکشن ۹۱۰۲ اور اسمبلی الیکشنوں میں بھاجپا کے خلاف کوئی بھی اپوزیشن میں آواز نہ اٹھاسکے اور بھاجپائی جیساچاہے قانون پاس کریں یا دستور ہند میں ترمیم کریں! پچھڑا سماج مہاسبھاکے قومی صدر احسان ملک اور قومی سیکریٹری شیو نارائن کشواہااور سوشل کا بار بار ملک کو غنڈوں سے مکتی ( آزاد)دلادینیکا کا نعرہ ، مسلم فرقہ پر ظلم وجبر اور اسپیکر پر آذان دینے پر پابندی کے نام پر پولیس کی آذان پر پابندسی لگادینا اور اقلیتی فرقہ کے ساتھ ہر تنازعہ پر سوتیلا سلوکاقوام کو خائف کرنے والے عملی کام ہیں اب ان معاملات پر مسلم فرقہ کے ساتھ انصاف ہونا ضروری ہے گزشتہ روز آزاد کالونی واقع قاضی ندیم کی بلڈنگ پر بلڈوزر چلوانے کی بیہودہ حرکت بھی اسی سلسلہ کا حصہ ہے! پورے ملک نے ہمیشہ چار سال قبل نریندر مودی کابینہ میں موجود آرایس ایس کے نمائدوں کی زبان سے یہ جملہ بار بار سنے ہونگے کہ یہ ملک ہندو راشٹرا کی جا نب بڑھ رہاہے ہماری سرکار مرکز میں بننے جارہی ہے ہم اس سمت مزید قوت کے ساتھ اگلے اقدام کریں گے آج جبکہ مرکز اور بہت سی ریاستوں میں بھاجپائی سرکاریںکام کاج چلارہی ہیں تو ہمکو لوک سبھا چناﺅ ۴۱۰۲ سے قبل ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی انکی کابینہ کے درجن بھر وزراءکے یہ جملہ یاد آرہے ہیں کہ بھاجپائیوں کا اصل مقصد ملک کے سیکولر ڈھانچہ کو نیست ونابود کر ہندو راشٹرا کا پرچم بلند کرنا ہے آج آذان پر پابندی،مسلم آبادیوں پر زیادتی، وندے ماترم گانالازمی،مسلم تاریخ کو مسخ کرنا، دہشت گردی کا بہانا بناکر اقلیتی فرقہ پر مختلف طرح کی سختیاں اور پابندیاں لگانا سبھی کے سامنے ہے پہلے گﺅ رکشا، ملک کی وفاداری، پاکستانی نعرے بازی جیسے بیہودہ الزام، آذان پر بندش اور اب مسلم طبقہ کو حاصل شدہ پاسپورٹ کی از سر نو جانچ کرائے جانے جیسے مسائل پیدا کرتے ہوئے بھاجپائی سرکاریں ہندو راشٹرا کا خواب دیکھنے میں مشغول ہیں پورا عالم مودی اور یوگی سرکار کی اس حکمت عملی سے واقف ہے؟ پچھڑا سماج کے سوشل قا ئد ین احسان ملک اور شیو نارائن کشواہانے صاف کہاکہ یوپی کے وزیر اعلیٰ ۴۱۰۲ لوک سبھا الیکشن میں فتح حاصل کر نے کے بعد سے ہی لگاتار یہ کہتے اور بار بار ہر تقریب میں دہراتے رہے ہیں کہ وہ ملک میں راشٹر واد لانا چاہتے ہیں اور راشٹر واد کی آڑ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کیا جائیگا خاموش زبان سے بھگوا بریگیڈ اکثر مسلمانوں کو ملک کا تیسرے درجہ کا شہری مانتی اور کہتی رہی ہے اس گروپ نے ہمیشہ ہی ملک کے تیس کروڑ مسلم فرقہ کی دل آزاری کی اور ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا آزادی کے بعد سے کچھ بھگوا سوچ کے پولیس اور خفیہ یونٹ کے افسران بھی مسلم فرقہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کر نے لگے مگر جب سے مرکز میں این ڈی اے سرکار آئی ہے تب سے اس طبقہ پر کچھ زیادہ ہی سختی کردیگئی ہے اور پچھلے چار ماہ سے یوپی میں قائم یوگی سرکار نے تو مسلم طبقہ کی آزادی پر ہی شکنجہ کسنا شروع کردیاہے! میرٹھ، بلند شہر، مراد آباد، دیوبند ،چرتھاول، سہارنپور،مظفر نگر اور شاملی میں بنگلہ دیشی دہشت گردی کے نام پر جانچ پڑتال اور گرفتاریاں صرف اور صرف اقلیتی فرقہ کو دہشت دلانیکے لئے ہی جاری ہیں! گزشتہ پانچ سالوں سے مغربی یوپی میں اکثر دہشت پھیلانے کے نام پر بنگلہ دیشی خواتین، مردوں، بچوں، طالب علموں اور نوجوانوں کو خفیہ یونٹ نے کتنی ہی مرتبہ گرفتارکیا مگر عدالت نے سبھی کو سخت عدالتی کاروائی کے بعد ثبو توںں کی کمی کے باعث سبھی الزامات سےباعزت بری کردیا! گزشتہ روز پورے ملک میں پھر سہارنپور ، دیوبند ، شاملی اور مظفر نگر علاقہ سے بنگلہ دیشی افراد کے ر پاسپورٹ بنوانیکے نام پر دہشت پھیلاتے ہوئے کچھ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلینکا دعویٰ کیا گیاہے ہندی اخباراتکے ساتھ ساتھ دیگراخبارا ت نے بھی بغیرجانچ پڑتا ل کئے پولیس ، اے ٹی ایس اور انتظامیہ کی جانب سے دیوبند وغیر ہ میں چھاپہ کی خبروں کو سرخی بناکر ملک ہی نہی پوری دنیامیں مسلما فراد کو دہشت گردی سے جوڑ نیکی شرمناک کوشش کیہے جو ایک مہذب سماج کے لئے باعث شرم ہے کہ جب تک ہماری قابل عدالت پکڑے گئے شخص کو ملزم یا مجرم ثابت نہی کردیتی تب تک آپکا کسی بھی شخص کو دہشت گردی سے جوڑنابیحد افسوسنا ککا رکردگی ہے ۔پچھڑا سماج کے سوشل قائد ین احسان ملک اور شیو نارائن کشواہانے صاف کہاکہ جنہندو وادیوں نے انگریزوں کی پیٹھ تھپتھپائی، گاندھی کو قتل کرایا اسی آر ایس ایس نے آزادی کے بعد ہی سے ایک سازش کے تحت ملک کے تیس کروڑ مسلمانوں کو ہمیشہ دوغلہ اور تیسرے نمبر کا شہری ثابت کرنیکی بیہودہ کوششیں کیوہی اپنے منھ سے راشٹر واد کی باتکر رہے ہیں کیا مسلم طبقہ کو مارنا ، فرضی مقد مات میں پھنسانا اور دہشت گرد بتاناہی بھاجپا اور آر ایس ایس کا اصل راشٹر واد ہے۔سوشل قائد کشواہا نے کہاکہ ملک کے ساتھ یا ملک کی سچی اور صاف ستھری قیادت کے ساتھ کبھی مسلم یا دلت فرقہ نے دھوکہ نہی کیا جبکہ اعلیٰ ذات کے افراد نے پچھلی کئی صدیوں سے ملک کے دلتوں اور اقلیتی فرقہ کے افراد کا جینا مشکل کر رکھاہے اور یہ سلسلہ آجبھی جاری ہے ! کشواہانیکہاکہ بھاجپائی غنڈوں اور مافیاﺅں کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ وہ کسی بھی صورت جرائم پر جرائم انجام دینے میں بیباک بنے ہیں گزشتہ روز چندیگڑھ کی کمسن لڑکی کے ساتھ بھاجپا ئی ذمہ دار کا جبریہ ریپ معاملہ، اکثر مسلمانوں اور دلتوں کو گﺅ کشی کے نام پر مارنا خاص طور سے یوپی میں پولیس کے مقابلہ گﺅ رکشکو ں، راشٹر وادیوں کی غنڈہ گردی اور مافیائی گروہ کار اج کاج بھا جپا ئی سرکاروں کی پولیس اور انتظامیہ کی چھوٹ کے باعث پھل پھول رہا ہے دیش بھگتی، گﺅ کشی اور نسل پرستی کی آڑ میں مسلم طبقہ کے ساتھ ساتھ دلت فرقہ پر بھی زندگی تنگ کیجارہی ہے۔ مرکز کی بھاجپا سرکار کی شہ پر بھاجپا کی قیادت والی سبھی ریاستی سرکاریں اقلیتی طبقہ اور دلتوں کا تحفظ کرنے میں بری طرح سے ناکام ہیں ملک میں بھاجپائی دہشت پسندوں کی اپنی پراﺅیٹ سرکار چلتی نظر آرہی ہے کہ جہاں دستور ہند اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہاہے ۔

About the author

Taasir Newspaper