آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Around the World

ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ برقرار رکھا جائے: یورپی سفارت کار

8
Written by Taasir Newspaper

واشنگٹن 12جنوری(آئی این ایس انڈیا) یورپی یونین کی بیرونی پالیسی کی سربراہ، فریڈریکا مغیر نی نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والا بین الاقوامی سمجھوتا کارگر ہے، جب کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل تشکیل دینے اور دیگر سر گرمیوں پر مشرق وسطیٰ میں تشویش پائی جاتی ہے، جس معاملے کو علیحدہ طور پر دیکھا جانا چاہیئے۔ا±نھوں نے یہ بات جمعرات کو برسلز میں برطانیہ، فرانس، جر منی اور ایران کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کہی، جس میں 2015ءکے سمجھوتے کو زیر بحث لایا گیا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا گیا تھا؛ اس تشویش کے ساتھ کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔ سمجھوتے کے نتیجے میں ایران پر لاگو مالیاتی تعزیرات میں نرمی برتی گئی۔ایران کہتا آیا ہے کہ ا±س کا جوہری پروگرام محض پ±رامن نوعیت کا ہے۔ اخباری نمائندوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے دیگر سفارت کاروں کے ہمراہ، ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف موجود نہیں تھے، جب کہ بدھ کے روز ا±نھوں نے سمجھوتے کی حمایت جاری رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا، ساتھ ہی امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ”تباہ ک±ن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے“ ۔ مغیرنی نے کہا کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران کے سا تھ تمام معاملات پر قریبی تعاون اور مکالمہ جاری رکھنے کی صورت نکلی؛ اور ا±نھوں نے اس کامیابی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔بقول ا±ن کے، ”بین الاقوامی برادری میں اتحاد لازم ہے، تاکہ سمجھوتے کا تحفظ ہو سکے، جو کام کر رہا ہے، جس کے باعث دنیا محفوظ ہے، اور جس سے خطے میں ممکنہ جو ہری ہتھیاروں کی دوڑ ر±کی ہوئی ہے؛ اور ہمیں توقع ہے کہ تمام فریق اس سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد جاری رکھیں گے“۔فرانسیسی وزیر خارجہ ڑان وزلے ریان نے کہا ہےکہ جوہری معاہدے کے تمام فریق کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیئے، جس میں امریکہ شامل ہے، جو ا± س گروپ کا حصہ رہا ہے جس میں برطانیہ، چین، فرا نس، روس اور جرمنی شامل تھے، جنھوں نے سمجھوتے پر مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ سمجھوتے، ’جوائنٹ کمپر یہنسو پلان آف ایکشن‘ کے لیے ”دنیا بھر میں حما یت“ میں اضا فہ کیا جائے؛ اور ایران کو موقع دیا جائے کہ وہ ”خطے کا ایک اچھا ملک ہے“۔

About the author

Taasir Newspaper