آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

اسلامی تہذیب و تمدن کا مرکز ہیں اسلامی مدارس

2
Written by Taasir Newspaper

لکھنو¿۔ ۵۱ جنوری(پریس ریلیز) شیعہ علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا علی حسین قمی نے کہا کہ مدارس میں اسلامی تہذیب و تمدن کا درس دیا جاتا ہے اور اسلام کے زریں اصولوں کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کا دہشت گردی سے نہ کوئی تعلق تھا نہ ہے اور نہ ہی رہ سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں جگہ جگہ اسلا م کے نام پر دہشت گرد انہ تنظیمیں قائم ہور ہی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ تنظیمیں صرف اسلام کو بدنام کر نے کے لیے بعض نام نہاد مسلمانوں نے قائم کررکھی ہیں ، اسی طرح ہوسکتا ہے کہ بعض مدرسو ں میں بھی کٹر اسلام پسندی کے نام پر دہشت گردی کی علاحدہ سے تعلیم دی جاتی ہے جس کا مجھے کوئی علم نہیں ہے لیکن اگر کوئی ایسا مدرسہ ہے تو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔مولانا قمی نے کہا کہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا کوئی فرد اگر دہشت گرد ہے تو یہ اس کا انفرادی فعل ہے ، مدرسہ اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ مولا نا قمی نے کہا کہ شیعہ مظلوم قوم ہے اور کسی بھی شیعہ مدرسے میں نہ دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے اور نہ دی جاسکتی ہے ، انھوںنے کہا کہ اگر کوئی شیعہ دینی مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دینے کی بات کہتا ہے تو یہ اس کا انفرادی فعل ہے شیعیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ، انھوں نے وسیم رضوی کے بیان ردعمل ظاہر کر تے ہوئے کہا کہ ان کا اس بیان کا تعلق نہ دین اسلام سے ہے اور نہ ہی شیعیت سے۔

About the author

Taasir Newspaper