آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

نئی نسل کو جدید تعلیم کے حصول کی خاطر ہر مشکل عبور کرناضروری

8
Written by Taasir Newspaper

سہارنپور 17جنوری(احمد رضا) ہمارے اسلا ف دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تر غیب دیتے تھے اور اس سے وابستہ افراد کی ہمت افزائی بھی کرتے تھے اس لئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عملی میدان میں آگے آئیں اور اپنا مستقبل سنو ا ر یں یوپی سرکار کی طرح اردو زبان کو اسکا سہی حق دینے کے معا ملات اور مسلم بچوں کو اردو کوچنگ سے آئی اے ایس بنانے کے لفظی آئی اے ایس کوچنگ وغیرہ کے نعروں سے سیاسی جماعتوں نے اس قوم کی نئی نسل کو گمراہ کرتے ہوئے اس بہادر قوم کو کافی پیچھے کر دیا ہے۔ قومی دھارے میں قومی زبانوں کے وسیلہ سے ہی مسلمان قوم کے طلباءاور طالبات بہ آسانی ملک کی مین اسٹریم میں شامل ہوکر قوم اور ملک کی ترقی کے علمبردار بن سکتے ہیں۔ہمارے بچے آئی اے ایس ، آئی پی ایس اور پی سی ایس بننے کے اہلرہے ہیں اور آگے بھی ان امتحانات کو عبور کرنیکے بعد اعلیٰ عہدو ںپر فائز ہوکر قوم اور ملک کا نام روشن کرسکےگیں بس شرط ہے کہ ملک کی قیادت اور ملک کی انتظامیہ ہمارے بچو ں کے ساتھ منصفانہ روش اختیار کرے ہمارے راستو ں میں رکاوٹیں پیدانہ کی جائیں بلکہ اپنوں کی ماند ہمیں بھی اپناہی تسلیم کیا جائے ہمارے نوجوانوں کے ساتھ سوتیلا برتاﺅ بند کیاجائے ہمارے ملک کے جو حالات ہیں اس سے ہر کوئی واقف ہے کہ ملک کے آئین کو مسخ کرتے ہوئے آج چند موقع پرست، متعصب اور تنگ نظر سیاست داں ہماری امن پسند ،وطن پرست اور محنت کش قوم کوایک سازش کے تحت سرکاری مراعا ت ، سرکاری نوکریوں اور بنیادی حقوق سے دور رکھ کر بربا دی کے راستہ کی طرف لے جا نا چاہتے ہیں اس لئے وقت کی اہمیت کو بھا نپتے ہوئے آج ہم سبھی کو مسئلہ اور مسائل چھوڑکر مسلکی، جماعتی اور قومی اختلافات بھلا کر اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھتے ہوئے علمی حیثیت کو مضبوط کر نے میں تمام جسمانی اور روحانی طاقت لگائیں تبھی ہماری قوم کے تعلیم یافتہ نوجوان کامیابی کے حقدار بن سکتے ہیں؟ امام وخطیب جامع مسجد گھنٹہ گھر مولانا عقیل الرحمان نے اخبار نویسوں سے کل دیر شام مختصر گفتگو کے دوران کہاکہ دین اسلام نے اپنے و جود سے ہی جدید تعلیم کے حصول پر زور دیا ہے کہ تعلیم حاصل کرو لیکن امت مسلمہ آج تعلیمی میدان میں کافی پیچھے ہے خصوصاََ ہندوستان میں مسلمانوں کی ۰۳ کروڑ کی بھاری بھرکم آبادی اپنے آپ میں کافی بڑی آبادی ہونے کے بعد بھی آبادی کے تناسب سے مسلم قوم تعلیمی اور سماجی سطح پر حد درجہ نیچے ہیں سابقہ حکومت کی جانب سے متعین کی گئی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں میں مال و زر کی کمی نہیں ہے عقل و شعورکی بھی کمی نہیںلیکن اگرکمی ہے تو مسلما نوں میں شعورخفتہ بیدار کرنے والوں کی اگر کمی ہے توتعلیم کی جانب ر غبت دلا نے والوں کی کمی ہے، امام وخطیب نے فرما یا کہ آج کا مسلمان حکومت پر بھر و سہ کررہا ہے اسی حکو مت پر کہ جس کا خفیہ ایجنڈ مسلمانوں کو بربادکرنے کا ہی ہاہے جبکہ مسلمان اول سے تا قیامت اپنے وطن کا وفادار رہاہے اور ہمیشہ ہی رہیگا ملک کا مسلمان ملک کی طاقت کا علمبر دار ،جنگ آزادی کا اہم ستون اور ملک کی خدمت میں پیش پیش رہاہے ملک کی آن کی خاطر آج بھی ہر قربانی کے لئے تیار اہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ حکومتیں الیکشن کے ایام میں مسلمانو ں کی ہمدردی کی بات کرتی ہیں ان کی تعلیمی پسماندگی پر کھڑیال کے آنسو بہاتی ہیں تا کہ ان کا قیمتی ووٹ انکے پالے میںآجائے لیکن ووٹ مل جانے اور کامیا بی کے بعد یہ سیاسی جماعتیں پھر سے اپنے پرانے خفیہ رخ پر گا مز ن ہو جاتی ہیں مسلم قوم کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بنیادی حقوق سے محروم رکھاجاتا ہے، آذان پر بند ش، حج سبسڈی پرقفل، سرکاری نوکریوں سے باہر غر ض یہ کہ ہمیں ہر سطح پر قومی دھارے سے دور رکھا جا تا ہے۔عالم دین عقیل الرحمان نے یہ بھی کہاہے کہ آجہما رے لئے لازم ہے کہ اپنے وقار کی خاطر مسلما ن تعلیم کے میدان بغیر کسی بیسا کھی کے آگے آئیں موجودہ عالم میں ا ایسی بہت سی مثالیں مل جائیں گی کہ کسی طر ح بھارت اور دیگر ممالک میں ہمارے نو جو ا ن صر ف اور صرف تعلیم کی بدولت حکومتوں کےاہم نما ئندے بنے ہوئے رہے یہ کڑوا سچ ہے کہ ملکی حکو متو ں کے تعا و ن کے بغیر بھی مسلم طبقہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے مگر اس کے لئے سخت ہمت اور محنت درکار ہے۔ حکومت سے حق لینا ضروری تو ہے لیکن اس پر تکیہ کر کے بیٹھ جانا ہماری غفلت ہے! قوم کے بڑے سرمایہ دا ر، مدارس، بڑے سیاسی نمائندے اور حیثیت حضرا ت اگر چاہیں تو مسلمانوں کی بڑی آبادی کو اعلیٰ تعلیم سے وابستہ کر کے ان کا بہتر مستقبل تیار کر سکتے ہیں اور انکو مین اسٹریم میں شامل کراسکتے ہیں مگر ایسا نہی ہے اسی لئے آج غفلت اور جوش کے باعث پیارے نبی ﷺ کی یہ خاص امت بے وزن ہوکر رہ گئی ہے۔
آپ نے فرمایاکہ اب ہمیں ذات، نسل،نصب اور حیثیت سبھی کو بلائے طاق رکھ کر اس ملک میں اپنے وجود کے لئے جنگ لڑنی ہے یہ ملک سیکولر ملک ہے ہم سبھی اس ملک کے باشندے ہیں اور اس ملک پر سبھی کاحق ہے! مسلمانوں کو اپنے وجود کی خاطرزمینی کام کرنے کی اشد ضرورت ہے مسلمانوں کو ہر علاقے میں تعلیمی کمیٹی تیار کرنی چاہئے اس کمیٹی کے ذریعہ تعلیمی بیداری مہم چلانی چاہئے اور ضرورت مند طلبا ءکی بھر پور امداد کرنی چاہئے تا کہ طلبا میں تعلیم کے تئیں بیداری آئے ہمارے قابل قدر مدارس بچوں کو صرف دینی تعلیم کی طرف رغبت دلا تے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر بھی زور دینا چاہئے ملک میں حصہ داری کے لئے سرکاری ملازمتوں اوراہم سرکاری منصبوں پر ہماری قوم کے بچوں کی تقرری بیحد ضروری ہے ہمارے لئے جہاں دینی تعلیم ضروری ہے آج اگر دیکھاجائے تو ملک میں دینی علوم سے وابستہ افراد کی کچھ کمی بھی نہی ہے ہاں صرف مسلمانوں کی تیس کروڑ آبادی کے تناسب سے اندنوں بڑی لگن اور محنت کے بعد ایک یا دو فیصد طلباءہی سہی معنوں میں اعلیٰ علوم سے وابستہ رہکر اونچے عہدوں پر فائز ہوکر ملک اور قوم کی خد مت میں شریک ہیں مگراپنا کھویا وقار پانے کے لئے اس قوم کے بچوںکو اب دیگر جدید علوم سیکھنے پر خاص دھیان دینا سخت ضروری ہوگیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper