آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Around the World

چیلسی حملہ آ ور پر ساتھی قیدیوں کو شدت پسندی پر مائل کرنے کا الزام

Ahmad Khan Rahimi, the man accused of setting off bombs in New Jersey and New York in September, injuring more than 30 people, is led into court Tuesday, Dec. 20, 2016, in Elizabeth, N.J. (AP Photo/Mel Evans)
Written by Taasir Newspaper

چیلسی / واشنگٹن 17جنوری ( آئی این ایس انڈیا )امریکہ میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جسے نیویارک شہر میں وا قع مین ہیٹن کے علاقے چیلسی میں خود ساختہ بم نصب کرنے کا مجرم قرار دیا تھا، اس پر الزام ہے کہ ا±س نے جیل میں دیگر قیدیوں کو داعش کے شدت پسندی پر مبنی نظریے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔احمد خان رحیمی کو وفاقی قانون کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کے استعمال اور عوامی مقامات پر بم دھماکے کر نے کے جرم میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اس کو یہ سزا 13 فروری کو سنائی جائے گی۔مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں منگل کو جمع کروائی گئی دستاویزات میں استغاثہ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کے جیل میں رحیمی نے اپنے ساتھی قیدیوں میں دہشت گردی سے متعلق پروپیگنڈا مواد تقسیم کیا۔استغاثہ نے کہا کہ اس مواد میں داعش کے ایک رسالے کے شمارے اور القاعدہ کے سابق رہنما اور اسامہ بن لادن کی تقاریر شامل تھیں۔جیل کے عملے کو رحیمی کے سامان سے ایک ایسی نوٹ بک ملی ہے جس پر جیل میں بند دیگر قیدیوں کے نام در ج ہیں جنہیں دہشت گردی کے الزامات کا سا منا ہے۔استغاثہ کے مطابق دیگر قیدیوں میں سجمیر علی محمدی بھی شامل ہے جس پر الزام ہے کہ ا±س نے قا نو ن نافذ کرنے والے ایک اہلکار کو شام میں جا کر داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی ، تاہم اس اہلکار نے اپنی شناخت کو ظاہر نہیں کیا تھا ۔ اس کے علاوہ مہند محمود علی الفارغ بھی شامل ہے جسے افغانستان میں ایک امریکی فوجی اڈے پر القاعدہ کی طرف سے بم نصب کرنے کے منصوبے میں مدد د ینے پر گزشتہ سال ستمبر میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔فیڈرل ڈ یفنڈر آف نیویارک نامی غیر سرکاری تنظیم کا ایک وکیل رحیمی کی طرف سے عدالت میں پیش ہوا تھا، اس گر و پ نے رواں ماہ قبل ازیں اس مقدمے سے یہ علیحدگی اختیار کر لی تھی۔رحیمی کے موجودہ وکیل زیوئیر ڈونلڈ سن سے جب منگل کو ان کا ردعمل جاننے کے لیے را بطہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور کچھ بھی نہیں کہا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper