آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
NEW DELHI

ذہن کی یہ جنگ حقیقی جنگ بن کر انسانی بستیوں کو تباہ وتاراج کردیتی ہے: مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی

3+3
Written by Taasir Newspaper

نئی دہلی، 18جنوری (ےو اےن اےن) آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت امن کی ہے،پوری دنیا میں انتشار انارکی ظلم اور تشدد کا بازار گرم ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کائنات کا بڑا حصہ خوف کے حصار میں گرفتار ہے ان خیالات کا اظہار تنظیم علماءحق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے منعقد عالمی امن کانفرنس انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے آڈیٹوریم میں کیا،انھوں نے کہا کہ خوف ایک ایسی منفی صورت ہے جس کی وجہ سے انسانی ارتقاءکی ساری راہیں بند ہوجاتی ہیں،تہذیب اور انسانیت کی بقا کی راہ میں خوف ایک بڑی دیواربن جاتی ہے اور اسی خوف کی وجہ سے ملکوں اور قوموں کے درمیان غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور پھر انہی غلط فہمیوں سے ذہنوں میں جنگ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ذہن کی یہ جنگ حقیقی جنگ بن کر انسانی بستیوں کو تباہ وتاراج کردیتی ہے،فلسطین کے سفیر محترم عدنان محمدجابر ابوالحئی نے فلسطےن کی صورت حال کو دھماکہ خےز قرار دےتے ہوئے کہاکہ امرےکی صدر مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کا ےروشلم کو اسرائےل کی راجدھانی قرار دےنا فلسطےن کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے مسجد اقصی سے مسلمانوں کی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی قےمت پر اس سے دستبردار نہےں ہوں گے اور ےہ ان کا حق ہے گرچہ اسرائےلی وزےر اعظم بنےامن نےتن ےاہو نے اس سلسلے مےں اپنی ترجےحات کا اعلان کردےا ہے۔ انہوںنے کہاکہ دنےا کو سمجھ لےنا چاہئے کہ صےہونی قوم کسی کا وفادادار نہےں ہے ےہاں تک مسلمان اور عےسائی ان کا مشترکہ دشمن ہےں۔ انہوں نے ہندوستان کی تعرےف کرتے ہوئے کہاکہ اس نے قدس کے معاملے مےں ہماری حماےت کی ہے اور اس کے لئے ہم ان کے شکرگزار ہےں۔ انہوں نے امےد ظاہر کی ہندوستانی حکومت ہماری حماےت جاری رکھے گی۔ انہوں نے عالم اسلام کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ مضبوط طور پر ےہ معاملہ نہ اٹھانے کی وجہ سے اب تک ےہ مسئلہ حل نہےں ہوا ہے اور عالم اسلام نے اس سلسلے صرف اپنی سرگرمی کالم نوےسی اور خبر شائع کرنے تک محدود رکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگےا ہے کہ عالم اسلام اس سلسلے مےں متحدہ طور پر اپنا مضبوط کردار ادا کرے۔مسلم پولٹےکل کونسل کے چےرمےن ڈاکٹر تسلےم احمد رحمانی نے اس موقع پر اپنی تقرےر مےں کہاکہ دنےا مےں اس وقت تک امن قائم نہےں ہوسکتا جب تک فلسطےنےوں کو ان کے گھر مےں نہ پہنچادےا جائے اور ارض فلسطےن سے اسرائےلےوں کونہ نکال دےا جائے۔ انہوں نے کہاکہ 1951مےں ٹو اسٹےٹ تھےوری کی بات ہوئی تھی لےکن کےا حقےقت مےں اےسا ہے۔ کےا فلسطےن کو برابر کا حصہ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حقےقت تو ےہ ہے کہ فلسطےن کو محدود حصوں تک محدود کردےا گےا ہے اور عملاً پورے علاقے پر اسرائےل کا جابرانہ قبضہ ہے اور اگر آپ فلسطےن جانا چاہےں تو اسرائےل سے وےزا لےنا پڑے گا۔ تو پھر ٹو اسٹےٹ تھےوری کہاں گئی۔انہوں نے غزہ کے محاصرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اسرائےل غزہ کا 2007سے محاصرہ کےا ہوا ہے لےکن عالمی برادری نے اس کے لئے اب تک کوئی م¶ثر قدم نہےں اٹھاےا ہے۔ انہوں نے سوال کےا کہ فلسطےن مےں فلسطےنی کہاں ہےں اور ان کی نوے فےصد آبادی فلسطےن سے باہر، اردن، شام، لےبےااور دیگرممالک مےںہےں۔ دارالعلوم وقف دےوبند کے شےخ الحدیث مولانا خضر احمدشاہ کشمیری نے پوری دنےا مےں امن کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ اس دور مےں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور امن کی بات کرنا سب سے بہادر ی کا کام ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت صورت حال بہت بھےانک ہے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو انگلےوں پر گنا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزےد کہاکہ اسلام ہمےشہ ظلم کے خلاف رہاہے اور ظلم کا مقابلہ کرنے کے لئے اسلام دعوت دےتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ اقتد ار کاامن پسند ہونے کا ثبوت اس وقت ملتا ہے جب وہ برسراقتدار ہو اور امن قائم کرےں۔ صرف امن کے بارے مےں بات کرنے سے کچھ حاصل نہےں ہوتا۔اس عالمی کانفرنس کے اختتام کے بعد امن ویکجہتی کے فروغ میں اردو کا کردار پر سیمنار کا انعقاد عمل میں آیا جس میں نامور قلم کاروں نے اپنے مقالا ت پیش کئے،جن میں سہیل انجم ،حقانی القاسمی،فیاض وجیہہ،فاروق اعظم، اسعد مختاراور عمران عاکف قابل ذکر ہیں۔اس کانفرنس میں ’فکر انقلاب کا ضخیم شمارہ ’مدار س نمبر‘کا اجراءبھی عمل میں آیااور مختلف شعبہ ہائے حیات میں نمایاں کام کرنے وا لے افراد کو ایوارڈ اور سند توصیف بھی پیش کی گئیںجن میں بنگلور کے محمد عثما ن، جمشید پور کے سفیر علی،باغپت کے ڈاکٹر یونس چودھری،وجے واڈہ کے حاجی شیخ عبدا لر زاق،دہلی کے حکیم عزیر بقائی،التاج دوا خانہ کے حکیم غیاث الدین ہاشمی اوردہلی کے سریندر ارورہ قابل ذکر ہیں،کانفرنس میں پاکستان ہائی کمیشن کے پولیٹیکل کاﺅنسلر جناب طارق کریم اور سوڈان کے سفیر جناب سراج الدین حامد یوسف بھی موجود تھے اور اس کانفرنس کا افتتاح دارالعلوم دیوبند کے سابق صدر شعبہ تجوید وقرا¿ت قاری ابوالحسن اعظمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور سفیر فلسطین عدنان محمدجابر ابوالحئی کی دعاءپر کانفرنس کا اختتام ہوا۔آخر میں اس کانفرنس کے کنوینر یونس صدیقی نے سامعین اور مندبین کا شکریہ ادا کیا۔

About the author

Taasir Newspaper