اسلام

اخلاق کریمانہ اپنائیں

Written by Taasir Newspaper
دانیال شہاب
ایک مرتبہ شیخ سعدیؒ اور ان کے فرزند نماز تہجد ادا کر رہے تھے ، صلواۃ وسلام اوردعا کے بعد بیٹا بولا :ابّاجان ،سب سو رہے ہیں اور ہم عبادت کر رہے ہیں … شیخ سعدی ؒنے اپنے بیٹے سے جواب دیتے ہوئے کہا : بیٹا !دوسروں کے عیبوں پر اگرتو نے نظر رکھنا تھی تو بہتر تھا کہ تو بھی سویا ہی رہتا۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد صرف ذاتی اپنی اصلاح کرنا ہے ۔ آج ہمارے معاشرے میں ہم سب کی ایک دوسرے پر عقاب کی طرح نظر ہوتی ہے اورہماری یہ عقابی نظر صرف ایک دوسرے کی خامیوں کو تلاش کرنے میںمصروف رہتی ہے،جب ہم کسی کی خامی کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے بعدان میں مرچ مصالحہ لگا کر آگے زبان کے چٹخاروں سے اسے بیان کرنا بھی اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ عیب جوئی و غیبت دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ غیبت ایک ایسی چیز ہے جو بظاہر بہت معمولی دکھائی دیتی ہے،لیکن ہماری مذہبی تعلیمات کے مطابق ایک بہت بڑا گنا ہ ہے۔ ایک مرتبہ نبی کریمؐکا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا،آپؐنے اپنے صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے میرے صحابہ ؓ ! ان دو قبروں میں مدفون اشخاص کو عذاب ہو رہا ہے اور عذاب ہونے کی وجہ کوئی بڑی نہیں ،ایک شخص کو قبر میں اس لیے عذاب ہو رہا ہے کہ وہ پیشاب کرنے کے بعداپنی طہارت کا خیال نہیں رکھتا تھا اور دوسرے شخص کو اس لیے عذاب ہو رہا ہے کہ وہ غیبت کیا کرتا تھا۔اس واقعہ کی تفصیل وتشریح میں دفاتر کے دفاتر بھی کم پڑ یں گے لیکن یہاں مختصر کرتے ہوئے صرف یہ گزارش کرنا مقصود ہے کہ غیبت کرنا،ایک کی بات دوسرے کو دوسرے سے کوئی اور بات حاصل کر کے کسی اور کو پہنچانا درست عمل نہیں۔قرآن حکیم میں بھی عیب جوئی و غیبت کے حوالے سے سخت وعیدبیان کی گئی ہے۔سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12،جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ’’ اے ایمان والو!بہت زیادہ گمان سے پرہیز کرو،بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرواور نہ تم سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے،کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے،تم اس سے ضرور نفرت کروگے،اور خدا سے ڈرتے رہو،بے شک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے‘‘۔
اب آپ خود اندازہ لگا ئیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ زہر کس تیزی سے پرورش پا رہا ہے ،ہمارے سماج میں کسی کی خوبیاں بیان کرنا ایک جرم اور عیب جوئی کرنا ایک سٹینڈارڈ سمجھا جاتا ہے۔ آپ کسی مجلس میں تشریف فرما ہوں ،جو لوگ وہا ں موجود ہوں گے،ان میں سے 90%سے زائد آپ کے منہ پر آپ کی شان میں قصیدے پڑھیں گے،لیکن آپ کا مجلس سے ادھر اٹھنا ہو ا تو دوسری جانب وہی افراد آپ کے عیب ایسی باتیںبنا ئیں گے جیسے اس سب کے بناء مجلس گفت وشنید ادھوری رہے گی۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ اپنے دوست کی خوبیاں بھری مجلس میں بیان کرو،اس سے تمہاری عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور اپنے دوست کی خامی اسے اکیلے میں بتائو،اکیلے میں بتائو گے تو وہ سنبھل جائے گا اور سب کے سامنے بیان کرو گے تو وہ بگڑ جائے گا۔ آج ہم اخلاقی اقدار کو نہایت تیزی کے ساتھ اپنے پائوں تلے روند رہے ہیں۔بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے مصداق بظاہر اپنے دوست کے ساتھ ہم بہت مخلص بھی دکھتے ہوں لیکن اس انتظار میں رہیں کہ کب موقع ملے اور اس کی پیٹھ پر وار کریں۔ ہمارا المیہ ایک یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں،ساری بیماریاں و برائیوں کی ذمہ داری بھی اسی معاشرے پر تھوپ کر خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں،ہم برائی کو برائی سمجھتے ہی نہیں اور ایک جملہ میں ،معاشرہ ہی خراب ہے کہ کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔
 اصولی طور انسان خطا ء ولغزش کا پتلا ہے۔آج کے دورِ فتن میں خوبیاں اورخامیاںہر انسان میں پائی جاتیں ہیں۔ایک بہت مشہور قول ہے کہ اگر کسی کی خوبی دیکھو تو اسے بیان کرواور اگر کسی کا عیب دیکھو تو یہاں تمہاری خوبی کا امتحان ہے۔اور اس سے بڑھ کر نبی کریم e کا فرمان ہے کہ جو شحض دنیا میں کسی کے عیبوں کی پردہ داری رکھے گا،اللہ تعالی بروز محشر اس انسان کے عیبوں کو سب سے پوشیدہ رکھے گا۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ،جو ہمارے مذہب اسلام کا حصہ ہیں،جنہیں ہم برائی نہیں سمجھ رہے ،کل ہماری آنکھوں کے بند ہونے کے بعد درد ناک عذاب کی صورت اختیار کر جائیں گی۔ہم لوگ تو دنیا میں کبھی دانت میں درد ہو جائے، اس تکلیف کو برداشت نہیں کر پاتے،تو اس اندھیری کوٹھری کے ایک ایک پل کی تکلیف کیسے برداشت کریں گے؟ آئیے ہم کسی دوسرے کے عیبوں پر نظر رکھنے سے اجتناب کریں، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنے کو چھوڑ کر ایک نئے عزم واردے اور نیکو کاری کے ساتھ صالح معاشرے کی بنیاد رکھیں، ٹوٹے ہوئے دلوں اور رشتوں کو جوڑ کر خوشی کے لمحات میں زندگی بسر کرنے کا رحجان پیدا کرنے میں اپنی اپنی حیثیت میں بھرپور کردار ادا کرتے رہیں۔

 

About the author

Taasir Newspaper