online-learning-quran 14

نمازی کے آگے سے گزرنے سے پر ہیز لازم

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
 ان دنوں مساجد میں لوگوں کا ایک عجیب رویہ مشاہدہ میں آرہا ہے کہ بعض تو امام کے سلام پھیرتے ہی اور بعض امام کی اجتماعی دعا کے اختتام پر اور بعض اپنی انفرادی نمازوں یعنی سنن و نوافل کے ختم ہوتے ہی اس جلدبازی میں مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے پیچھے، دائیں یا بائیںجانب نماز ادا کر رہے مصلیان کا بھی خیال نہیں کرتے اور ان کے سامنے سے گزر جاتے ہیں حتیٰ کہ بعض کے سروں اور کندھوں کو بھی پھلانگ جاتے ہیں جو کہ نہایت ہی غیرمہذبانہ اور انتہائی قبیح عمل ہے۔بعض افراد کو ایسا کوئی فوری تقاضہ درپیش ہوسکتا ہے جس کے سبب کبھی ایسا کرنے کی نوبت آجائے لیکن جس کثرت سے لوگ ایسا کرتے دیکھے جارہے ہیں، سب کے ساتھ ایسی ہی صورتحال ہو یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ایسا لگتا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی جو ممانعت ہے یا تو انہیں اس کا علم نہیں اور وہ اسے گناہ ہی نہیں سمجھتے یا اس عمل پر جو گناہ ہے اس کو وہ معمولی اور ہلکا سمجھتے ہیںجس کے نتیجہ میں ایک تو لوگوںکی نمازیں ان کے خشوع و خضوع میں حائل ہوکر خراب کرتے ہیں اور دوسرے یہ کہ بجائے مسجد سے نیکی لے کر جانے کے گناہوں کا بوجھ لے کر جاتے ہیں۔اسی مشاہدہ اور احساس نے راقم کو اس موضوع اور اس کے متعلقہ مسائل کو اس تحریر کے ذریعہ منظر عام پرلانے کے لئے برانگیختہ کیا تاکہ لوگ اس گناہ بے لذت سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
یہ جاننا چاہیے کہ نبی کریمﷺ نے نمازی کے سامنے سے گزرنے سے بچنے کی سخت تاکید کی ہے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا : ترجمہ : ’’اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے کے بجائے چالیس (سال) تک وہیں کھڑے رہنے کو پسند کرتا‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب الصّلاۃ، بروایت ابو جہیم عبداللہ انصاریؓ)۔اس حدیث کے راوی ابوالنضرنے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ مجھ سے بسر بن سعید ؓ نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال لیکن اکثر محدثین نے یہاں چالیس سال ہی مراد لیا ہے( جس کی تائید مسند بزار کی روایت سے ہوتی ہے جس میں اربعین خریفاً کا لفظ ہے یعنی چالیس موسم خریف) اور یہ حدیث اسی طرح دیگر کتب صحاح یعنی صحیح مسلم ، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور مؤطا امام مالک میںبھی موجود ہے۔اگر اس حدیث کو مدت قلیل یعنی چالیس دن سے ہی مقید کیا جائے جب بھی نمازی کے آگے سے گزرنے کے عمل کی شناعت ظاہر ہے۔
اس کے علاوہ سنن ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں ایک حدیث ابوہریرہؓ سے مروی ہے جس میںنمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے سو سال کھڑے رہنے کو ترجیح دینے کی بات کہی گئی ہے۔ابن ماجہ کے الفاظ کا ترجمہ اس طرح ہیں: ’’اگر تم میں سے کسی کو معلوم ہوجائے کہ نماز میں مشغول اپنے بھائی کے سامنے سے گزرنے میں کتنا گناہ ہوگا تو وہ سو سال کھڑا رہنا اس (طرح گزرنے میں) ایک قدم اٹھانے سے بہتر سمجھے‘‘۔(سنن ابن ماجہ)۔نیزامام مالک نے مؤطا میں کعب الاحبارؓ کا یہ اثر نقل کیا ہے : ’’اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا کو معلوم ہوتا کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو اس کے لئے زمین میں دھنس جانانمازی کے سامنے گزرنے سے بہتر ہوتا‘‘۔(مؤطا امام مالک)گزرے تو اسے گزرنے سے روکے ، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے‘‘۔ (صحیح بخاریِ، بروایت ابوہریرہؓ ) ۔
ان احادیث کی وجہ سے فقہاء اور محدثین نے نمازی کے آگے سے گزرنے کے عمل کے سلسلہ میں سخت موقف اپنایا ہے ۔امام شوکانیؒ فرماتے ہیں کہ’’یہ حدیث (یعنی ابوجہیمؓ کی مذکورہ بالا روایت) دلیل ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا ایسے کبیرہ گناہوں (میں) سے ہے جو آگ کو واجب کرنے والے ہیں‘‘۔ (فقہ الحدیث، فقہ الحدیث پبلیکیشنز، لاہور، ۲۰۰۴؁ء، جلد ۱، صفحہ ۳۷۴)۔علامہ سید سابقؒ اپنی شہرۂ آفاق کتاب فقہ السنہ میں رقمطراز ہیں : ’’احادیث نمازی کے آگے سے یا اس کے اورسترہ کے مابین سے گزرنے کی تحریم پر دال ہیں اور یہ کبیرہ گناہ ہے‘‘۔(فقہ السنہ از سید سابق (اردو) ، مکتبہ اسلامیہ، لاہور، ۲۰۱۵؁ء، جلد ۱، صفحہ ۲۶۴)۔ علامہ ابن رشد مالکیؒ کے مطابق اس امر پر جمہور کا اتفاق ہے کہ’’ نمازی خواہ اکیلے پڑھ رہا ہو یا امام ہو ، اس کے آگے سے گزرنا ممنوع ہے جب کہ وہ بغیر سترہ کے نماز پڑھ رہا ہویا اس کے اور سترہ کے درمیان سے کوئی گزرے۔سترہ کے پیچھے سے گزرنے میں فقہاء کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے‘‘۔ (بدایۃ المجتھد و نہایۃ المقتصد اردو ترجمہ ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی، دارالتذکیرلاہور،۲۰۰۹؁ء، صفحہ ۲۵۵)۔مملکت سعودی عربیہ کے دارالافتاء کی فتویٰ کمیٹی کے رکن رہے شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن بازؒ، شیخ محمد بن صالح العثیمینؒ اور شیخ عبداللہ بن عبدالرحمٰن الجبرین کا متفقہ فتویٰ ہے کہ ’ ’نمازیوں کے آگے سے گزرنا حرام ہے خواہ وہ یہ اسلامی اسکیموں مثلاً مساجد کے بنانے یا ان کی مرمت کرنے یا ان میں قالین وغیرہ ڈالنے کے لئے صدقات جمع کرنے کے لئے ہو۔اس طرح کے فعل خیر کے لئے قیام، نمازیوں کے آگے سے گزرنے کا جواز نہیں بن سکتا کیوں کہ ابوجہیمؓ سے مروی نبیﷺ کی اس حدیث کے عموم کا یہی تقاضا ہے‘‘۔ (فتاویٰ اسلامیہ جمع و ترتیب فضیلۃ الشیخ محمد بن عبد العزیز المسند حفظہ اللہ، مطبوعہ دارالسلام ، ریاض جلد ۱، ص۳۵۷)۔
فقہاء و محدثین کے اقوال سے یہ ظاہر ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا اس وقت گناہ ہے جب نمازی اور گزرنے والے کے درمیان کوئی آڑ( جسے حدیث و فقہ میں سترہ کہا گیا ہے ) نہ ہو یا نمازی نے جو سترہ قائم کیا ہو اس کے اور نمازی کے درمیان سے کوئی گزرے۔اگر سترہ کے آگے سے کوئی گزرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اس موقف کی تائید اس روایت سے ہوتی جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ’’ تم میں سے کوئی اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز رکھ کر نماز ادا کرے تو پھر اس کے آگے سے گزرنے والے کی کوئی پرواہ نہ کرے‘‘ ۔ (صحیح مسلم، ، بروایت طلحہؓ) ۔
 اس لئے نمازی کے لئے بھی سنت طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے سامنے کوئی سترہ قائم کرلے تاکہ لوگوں کے سامنے سے گزرنے کے گناہ کا سبب نہ بنے اور اس کی نماز کے خشوع و خضوع میں خلل بھی واقع نہ ہو۔سترہ کوئی بھی چیز ہوسکتا ہے جس کی لمبائی ایک ہاتھ سے کچھ زائداور موٹائی کم از کم ایک انگشت ہو کیوں کہ کجاوے کی پچھلی لکڑی جس کا تذکرہ حدیث بالا میں ہے کا سائز کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔اگر نمازی سترہ نہ رکھ سکے تو کوئی دوسرا شخص بھی گزرنے کی خاطر اس کے سامنے سترہ قائم کرسکتا ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو گزرنے والے کو احتیاط لازم ہے ۔علامہ عبدالرحمٰن الجزیریؒ اپنی مایہ ناز تصنیف ’کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘ میں یوں رقمطراز ہیں: ’ ’نمازی کے آگے سے گزرنا حرام ہے اگرچہ نمازی نے بغیر کسی عذر کے سترہ نہ رکھا ہو۔اسی طرح نماز پڑھنے والے کے لئے بھی یہ حرام ہے کہ اپنی نماز سے لوگوں کے آنے جانے میں رکاوٹ ڈالے، بایں طور کہ بغیر سترہ رکھے ایسی جگہ پر نماز پڑھنے لگے جہاں اس کے سامنے سے لوگوں کی بکثرت آمدو رفت ہو۔ایسی صورت میں اگر نمازی کے آگے سے کوئی گزر جائے تو سردست اس بات کا گناہ (اس نمازی کو) ہوگا کہ اس جگہ نماز پڑھی جہاں لوگوں کو سامنے سے گزرنا پڑا‘‘۔ (کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ ( اردو)، علماء اکیڈمی، شعبہ مطبوعات محکمہ اوقاف پنجاب، ۲۰۱۳؁ء، جلد ۱، ص ۳۲۹)۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب درمختار میں حلیہ کے حوالہ سے اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے کی صورت میں گناہ گار کون ہوگا ، نمازی یا گزرنے والا؟ لکھا ہے کہ اس مسئلہ میں چار صورتیں ہیں؛ ’’ اول یہ کہ گذرنے والے کو گنجائش ہے کہ نمازی کے سامنے کو نہ گذرے اور نمازی نے راستہ روکا نہیں تو اس صورت میں اگر گذرے گاتو گناہ خاص کرنے والے (یعنی گزرنے والے) پر ہوگا،دوم یہ کہ اور طرف کو راستہ نہیں اور نمازی نے راستہ روک لیا ہے تو اس صورت میںگناہ نمازی پر ہوگا، سوم یہ کہ نمازی نے راستہ روکا ہے مگر گذرنے والا اور طرف کو بھی نکل سکتا ہے تو اب گذرنے سے دونوں گناہگار ہوں گے، چہارم یہ کہ نمازی نے راستہ نہیں روکا اور گذرنے والے کو اور طرف راہ نہیںتو اس میں کسی پر گناہ نہیں‘‘۔(غایۃ الاوطار اردو ترجمہ درمختار، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی ،۱۳۹۹؁ھ ، جلد ۱، صفحہ ۳۳۴)۔اس مسئلہ میں بعینہٖ یہی تفصیلات علامہ عبدالرحمٰن الجزیریؒ نے ’کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ‘ میں (حوالہ بالا) اور ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی نے اپنی تصنیف  الفقہ الاسلامی و ادلتہٗ میں تحریر کیا ہے۔(دیکھیں  الفقہ الاسلامی و ادلتہٗ  (اردو)،دارالاشاعت، کراچی، ۲۰۱۲؁ء، جلد۲، ص۵۹۴)۔
ان تفصیلات کے بعد اس مسئلہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر نمازی نے اپنے سامنے سترہ قائم نہیں کیا (جیسا کہ مسجد میں اکثر ممکن بھی نہیں ہوتا)خواہ وہ مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو تو اس کے سامنے کتنی دوری تک سے گزرنا گناہ ہے ۔فقہائے ہندنے اس سلسلہ میں جو موقف اپنایا ہے ان میں سے کچھ کی تفصیلات حسب ذیل ہیں۔محمدکفایت اللہ دہلویؒ لکھتے ہیں: ’’ نماز پڑھنے والے کے آگے سے چھوٹی مسجد یا چھوٹے مکان میں گزرنا ناجائز ہے جب تک کہ اس کے آگے کوئی آڑ نہ ہو اور بڑی مسجد یا بڑا مکان یا میدان ہو تو اتنے آگے سے گزرنا جائز ہے کہ اگر نمازی اپنی نظر سجدہ کی جگہ پر رکھے تو گزرنے والا اسے نظر نہ آئے‘‘۔(کفایت المفتی، دارالاشاعت ،کراچی، ۲۰۰۱؁ء ، جلد ۳، ص۴۹۴)۔مفتی نظام الدین اعظمی صاحب ، مفتی دارالعلوم ، دیوبند کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر میدان ہو یا بڑی مسجد جو تقریباً ۶۰ ہاتھ چوڑی اور ۶۰ ہاتھ لمبی ہو تو اس میں تین صف ’’تقریباً ۱۲ ؍فٹ‘‘ کے بعدنمازی کے آگے سے گذرجانے کی اجازت ہے اور اس سے کم میںبغیر کسی سترہ کے حائل ہوئے گذرنا درست نہیں۔( منتخبات نظام الفتاویٰ، جلد اول، طبع دوم، ۲۰۰۱؁ء، اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا)، صفحہ ۳۲۲؛ جلد دوم، مطبوعہ قاضی پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز ، ۱۹۹۷؁ء، صفحہ ۷۱-۷۲)۔شیخ خالد سیف اللہ رحمانی کی رائے میں ’’ بڑی مسجد سے مراد طول کے اعتبار سے یعنی مشرق سے مغرب چالیس ہاتھ لمبی مسجد ہے ، ایسی مسجد میں نمازی کے اتنے آگے سے گزرنے میں کچھ حرج نہیں کہ اگر وہ نماز پڑھنے والاخشوع و خضوع سے نماز پڑھے اور اپنی سجدہ گاہ پر نگاہ رکھے تو اس کی نگاہ کے دائرے میں جو حصہ آتا ہے اور بلا ارادہ نظر آجاتا ہے یہ اس سے باہر ہو ۔’ان کان بحال لوصلی صلاۃ خاشع  لا یقع بصرہ علی المار‘۔ (البحر الرائق:۲؍۱۵)۔فقہاء نے محتاط طریقہ پر اس کا اندازہ بتایا ہے کہ نمازی کی صف اور مزید ایک صف چھوڑ کر آگے سے گزر سکتا ہے‘‘۔( کتاب الفتاویٰ، زمزم پبلشرز، کراچی، ۲۰۰۸؁ء، جلد ۳، ص ۱۱۶)۔
ایک اور مسئلہ کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے نمازی کے بالکل آگے بیٹھا ہوجو نماز میں مشغول ہے تو کیا اس کے لئے اپنی جگہ سے ہٹنے کی گنجائش ہے یا اسے نمازی کے نماز ختم کرنے کا انتظار کرنا چاہیے؟ اس سلسلہ میں مفتی نظام الدین اعظمی صاحب کا فتویٰ یہ ہے کہ ’’ بیٹھے رہنا اور ختم نماز کا انتظار کرنا اولیٰ (بہتر) ہے ، اور ہٹ جانا بھی درست ہے ، البتہ اگر نمازی دائیں جانب کچھ ہٹا ہوا ہے تو اس کے بائیں جانب سے ہٹے اور اگر بائیں جانب کچھ ہٹا ہوا ہے تو اس کے دائیں جانب سے ہٹے اور اگر بالکل ہی محاذات میں ہو ہر طرف سے ہٹ سکتے ہیں‘‘۔( منتخبات نظام الفتاویٰ، جلد اول، طبع دوم، ۲۰۰۱؁ء، اسلامی فقہ اکیڈمی (انڈیا)، صفحہ۷۵-۷۶)۔بعض حضرات کو دیکھا کہ وہ اپنے پیچھے نماز ادا کرنے والے شخص کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نمازی کی طرف منہ کرکے یا تو کھڑے ہوجاتے ہیں یا بیٹھ جاتے ہیں ، یہ بھی ایک نہایت ہی مکروہ فعل اور بری بات ہے۔ جاننا چاہیے کہ جس طرح نماز ادا کر رہے شخص کے سامنے سے گزرنا ناجائز ہے، اسی طرح اس کی طرف رُخ کرکے کھڑا ہونا یا بیٹھنا بھی علماء کی نظر میں جائز نہیں کیوں کہ صحابہؓ بھی اس حرکت کو پسند نہیں فرماتے تھے۔( دیکھیں انعام الباری از مفتی تقی عثمانی، مکتبۃ الحراء، کراچی، ۲۰۱۰؁ء، جلد ۳ ، صفحہ ۲۸۸ )۔اس سلسلہ میں حضرت عثمانؓ کے بارے میں امام بخاری نے روایت کیا ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے: ’’عثمانؓ نے ناپسند فرمایا ہے کہ کوئی شخص دوسرے کا استقبال کرے (یعنی اس کی طرف رخ کرے) اور وہ حالت نماز میں ہو‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب الصلاۃ، بابُ اسْتِقْبَالِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَ ھُوَ یُصَلِّي)۔صحیح بخاری کے اسی باب میںدوسری روایت سے اس عمل پر حضرت عائشہؓ کی ناپسندیدگی کا بھی پتہ چلتا ہے۔اس لئے اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور قبلہ کی طرف رخ کرکے بیٹھ کر ہی نماز ی کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔کھڑے رہنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے گویاوہ نمازی کے سینہ پر سوار ہے اور یہ دباؤ بنارہا ہے کہ جلد از جلد نماز ختم کرو۔اس سے نمازی کو سخت کوفت ہوتی ہے اور اس کےا خشوع و خضوع میں بھی  سخت خلل واقع ہوتا ہے۔ اس طرح کھڑے ہوکر نمازی کے نماز کے اختتام کا انتظار کرنے سے تو بہتر ہے کہ فقہاء کے بتائے ہوئے طریقہ سے وہاں سے ہٹ جائے۔اب ایک آخری مسئلہ حرم کے اندر نمازی کے سامنے سے گزرنے سے متعلق ہے۔ اس سلسلہ میں یہ عرض ہے کہ’’ تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طواف کرنے والا، خانہ کعبہ میں داخل اور مقام ابراہیم پر موجود حضرات نمازی کے سامنے سے گزریں تو یہ بالکل جائز ہے، اگرچہ اس نے سترہ بھی رکھا ہوجب کہ حنابلہ کے ہاں پوری وادی مکہ میں نمازی کے سامنے سے گزرنا حرام نہیں‘‘۔( ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی، الفقہ الاسلامی و ادلتہٗ  (اردو )،دارالاشاعت، کراچی، ۲۰۱۲؁ء، جلد۲، ص۵۹۴)۔ان کا استدلال مطلب بن ابووداعہ سہمیؓ کی روایت سے ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ جب سات چکروں سے فارغ ہوئے تو تشریف لائے حتیٰ کہ حجر اسود کے برابر آگئے ۔پھر آپؐ نے مطاف (طواف کی جگہ) کے کنارے پر دو رکعتیں ادا کیں جب کہ آپؐ کے اور طواف والوں کے درمیان کوئی (شخص یا سترہ) نہیں تھا‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب ابواب المناسک، بابُ الْرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الطَّوَاف)۔ یہ حدیث سنن نسائی، کتاب مناسک الحج، باب اَیْنَ یُصَلِّی رَکْعَتِ الطَّوَاف اور سنن ابی داؤد ، کتاب المناسک، باب فِیْ مَکَّۃَ میں بھی موجود ہے۔ سنن ابی داؤد کی روایت میں اس بات کی وضاحت ہے کہ آپؐ کے آگے کوئی سترہ نہیں تھا اور لوگ آپؐ کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ اس لئے فقہاء کے مذکورہ فتویٰ کو اضطراری حالت میں دی گئی ایک رخصت پر محمول کرنا چاہیے کیوں کہ مطاف میں ہر وقت طواف کرنے والوں کی کثرت کی وجہ سے سترہ یا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بچنے کا اہتمام ممکن نہیں ہوپاتا لیکن مطاف کے علاوہ مسجد حرام کے دیگر حصوں میں ان پر اہتمام ممکن ہے اور ان حصوں میں مذکورہ رخصت کے سلسلہ میں فقہاء کا اختلاف بھی ہے ، اس لئے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو مسجد حرام میں بھی سترہ یا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے اور مسجد نبویؐ کے تعلق سے
مذکورہ رخصت نہیں ہے،اس لئے وہاں اہتمام اور بھی ضروری ہے۔  اللہ تمام مسلمانوں کو اس گناہ سے بچنے کی توفیق عنایت کرے ۔آمین!
……………..
رابطہ :سابق ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ
ای میل : mwzafar.pu@gmail.com  موبائل:09471867108

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں