آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Sports

سریز پر قبضہ کرنے کے مقصد سے اترے گا بھارت

kohli
Written by Taasir Newspaper

پورٹ الزبتھ، 12 فروری (یو این آئی) ہندوستانی کرکٹ ٹیم اپنی غلطیوں سے پچھلا میچ ہاری جس سے میزبان جنوبی افریقہ کو واپسی کا موقع مل گیا، لیکن منگل کو پانچویں ون ڈے میں اس کے پاس غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے سریز پر قبضہ کو یقینی بنانے کا دوبارہ موقع رہے گا۔ ہندستانی ٹیم جنوبی افریقہ کی زمین پر اپنا آخری ٹیسٹ اور چھ میچوں کی سیریز کے ابتدائی تینوں ون ڈے جیتنے کے بعد بہترین تال میں دکھائی دے رہی تھی لیکن ‘گلابی جرسی’ میں افریقی ٹیم لاجواب ہوگئی اور اس نے 3۔1 کے ساتھ واپسی کا اشارہ دے دیا۔اگرچہ کپتان وراٹ کوہلی کی ٹیم کے پاس 25 برسوں میں جنوبی افریقہ کی زمین پر اپنی پہلی سریز جیت کر تاریخ رقم کرنے کے ابھی دو موقع ہیں، لیکن بہتر ہوگا کہ ٹیم یہ کام پورٹ الزبتھ میں نمٹا لے ۔ جوہانسبرگ میں ہندستانی فیلڈرز نے بارش سے متاثرہ میچ میں کئی کیچ ڈراپ کئے ، نو بال اس کے لیے جی کا جنجال بن گئی تو گزشتہ تین میچوں کے ہیرو کلدیپ یادو اور یجویندر چہل کی اسٹار اسپن جوڑی نے مل کر 11.3 اوور کی گیند بازی میں 119 رنز لٹا دیئے ۔وراٹ اس کارکردگی سے اتنے خفا دکھائی دیئے کہ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہندستان اس میچ میں جیت کا حقدار نہیں تھا۔ایک بات صاف ہے کہ ٹیم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو جانتی ہے ، اور اس کی کوشش اسے دہرانے سے بچنے کی ہوگی۔ گیند بازوں میں جہاں دونوں اسپنر پہلی بار مہنگے ثابت ہوئے تو وہیں تیز گیندبازوں نے پھر سے اپنی افادیت ثابت کر دی ۔بھونیشور کمار اور جسپریت بمراہ نے سنبھلتے ہوئے 27 اور 21 رنز دیے اور ان کے حصے میں ایک وکٹ بھی آیا۔اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہاں کی پچوں پر چائنامین بولر اور لیگ اسپنر نے خود کو مضبوطی سے ہم آہنگ کیا ہے اور جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کے لیے اگلے میچ میں یہ دوبارہ خطرہ ثابت ہوں گے ۔ کپتان وراٹ کے ساتھ ٹیم مینجمنٹ کا بھی دونوں نوجوان اسپنروں پر اعتماد اور عالمی کپ ٹیم میں تقریبا اپنی جگہ پکی کر چکے ان بولروں سے آگے بھی وکٹوں کی امید کی جا سکتی ہے ۔کلدیپ اور چہل نے اب تک 12۔12 وکٹ لئے ہیں وہیں تیز گیندبازوں میں بمراہ (پانچ وکٹ) دوسرے کامیاب بولر ہیں۔ ہندستانی ٹیم کے لیے یقینا پورٹ الزبتھ میچ کافی اہم ہو گا تاکہ اسے چھٹے میچ تک دبا¶ نہ جھیلنا پڑے ۔ایسے میں ٹیم کے انتخاب پر بھی توجہ دینا ہو گی۔کیپ ٹا¶ن میں زخمی ہوئے کیدار جادھو مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں اور ٹیم کے پاس اسپن گیند بازی میں اس سے کوئی ایک متبادل کم ہو جاتا ہے ۔ان کے کھیلنے کو لے کر اب بھی شک ہے وہیں آل را¶نڈر ہردک پانڈیا نے اب تک چار میچوں میں ایک ہی وکٹ لیا ہے اور صرف 26 رنز ہی بنا سکے ہیں۔ دوسری طرف بلے بازی آرڈر میں بھی ٹیم کے لئے روہت شرما باعث تشویش ہیں جو اچھی شروعات دلانے میں ناکام رہے ہیں اور چار میچوں میں 40 رنز ہی بنا پائے ہیں جس میں 20 رن ان کا بڑا اسکور ہے ۔ساتھ ہی مڈل آرڈر میں اجنکیا رہانے نے بھی واپسی کے بعد سے بہت متاثر نہیں کیا۔انہوں نے 79 رن کی نصف سنچری اننگز کے بعد گزشتہ دو میچوں میں 08 اور 11 رنز ہی بنائے ہیں۔مڈل آرڈر میں ٹیم کا سب سے زیادہ انحصار مہندر سنگھ دھونی پر کر سکتی ہے ۔ان کی ناقابل شکست 42 رنز کی اننگز اس میں سب سے اہم رہی ہے ۔پانڈیا بھی نچلے آرڈر پر رن نہیں بنا پا رہے ہیں اور ایک بار پھر ٹیم کا انحصار وراٹ کوہلی پر سب سے زیادہ دکھائی دے رہا ہے ۔ اوپنروں میں شکھر دھون فی الحال اچھی تال میں ہیں۔انہوں نے گزشتہ میچ میں 109 رن کی اہم سنچری بنائی تھی اور 107.11 کے اسٹرائک ریٹ سے 271 رنز بنا کر دوسرے اہم اسکورر ہیں جبکہ وراٹ دو سنچری اور ایک نصف سنچری لگا کر 393 رن پر ٹیم کے ٹاپ اسکورر ہیں۔ دھون کو اگلے سرے پر روہت سے مدد نہیں مل رہی ہے جن کا جنوبی افریقہ کی زمین پر ون ڈے میں 11.45 کا خراب اوسط رہا ہے اور ایسے میں رن بنانے کا ذمہ صرف دو کھلاڑیوں اور خاص طور پر کپتان وراٹ پر آکر ٹک گیا ہے ۔وراٹ پر ٹیم کی انتہائی انحصار بھی اس کے لیے تشویش کا باعث ہے جس کی وجہ سے وہ حریف ٹیم کے گیند بازوں کے نشانے پر ترجیحی بنیاد سے رہتے ہیں۔ دوسری طرف جنوبی افریقہ ٹیم جہاں مسلسل اپنے کھلاڑیوں کے زخمی ہونے سے پریشان تھی اسے اپنے تجربہ کار بلے باز اے بی ڈی ولیرس کی واپسی سے اعتماد ملا ہے وہیں پچھلا میچ پانچ وکٹ سے جیتنے کے بعد وہ اور بھی بلند حوصلے کے ساتھ واپسی کا دعوی کر رہی ہے ۔پورٹ الزبتھ کی پچ اسپنروں کے لیے مددگار مانی جاتی ہے ایسے میں عمران طاہر، تبریز شمسی، آرون فیگسو اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی میزبان ٹیم نے اس گرا¶نڈ پر 32 میں سے 11 میچ ہارے ہیں جبکہ ہندستان نے بھی یہاں پانچ ون ڈے میں شکست کھائی ہے۔ایسے میں دونوں ٹیموں کے لیے یہاں برابری کے مقابلے کی توقع کی جا سکتی ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper