صحت

سندھ میں حفاظتی ٹیکے لگائے جانے کی شرح 50 فیصد سے کم ہے، ماہرین

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Bureau: Uploaded | 27 Apr 2018

پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے ماہرین اطفال نے حفاظتی ٹیکہ جات کے عالمی ہفتے کی مناسبت سے جمعرات کو پریس بریفنگ سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 20 کروڑ بچے مختلف امراض سے محفوظ رہنے کیلیے بنیادی حفاظتی ویکسین سے محروم ہیں، سندھ سمیت ملک بھر میں حفاظتی ویکسین کی شرح کم ہونے کی وجہ سے اس بات کا خدشہ ہوگیا ہے کہ بچوں کے امراض دوبارہ جنم لے سکتے ہیں لہذا ہمیں بچوں کو محفوظ رکھنے کیلیے حفاظتی ویکسین کی شرح (کوریج) کو 90 فیصد تک لانا ہوگا اس میں والدین کا حصہ لینا بھی ضروری ہے۔پاکستان میں مفت حفاظتی ٹیکے ای پی آئی پروگرام کے تحت لگائے جاتے ہیں جو 10 خطرناک بیماریوں کے خلاف ہوتے ہیں، اس کے باوجود سندھ میں بچوںکو حفاظتی ٹیکے لگائے جانے کی شرح 50 فیصد سے بھی کم ہے.ماہرین اطفال کا کہنا تھا کہ بچوں کو حفاظتی ویکسین لگا کر ان کو مختلف امراض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ حفاظتی ویکسین  بچوں میں قوت مدافعت بھی پیدا کرتی ہے اور اینٹی بائیوٹکس پر انحصارکم کرتی ہیں۔جنرل سیکریٹری پی پی اے سندھ ڈاکٹر خالد شفیع نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بیماریوں، معذوریوں اور اموات سے بچانے کے لیے حفاظتی ٹیکوں اور ویکسینیشن پروگرام، امیونائزیشن سے فائدہ اٹھائیں،10خطرناک بیماریوں میں تپ دق، چیچک، پولیو، نمونیا، خسرہ، خناق، تشنج، کالی کھانسی، روبیلا(جرمن خسرہ)،ممپس(گلے کا ایک مرض)، ہیپاٹائٹس بی اور ہیموفیلس انفلوئنزا ٹائپ بی شامل ہیں، ان امراض کوکنٹرول کرنے کا موثر طریقہ ویکسین وٹیکہ جات نہ صرف کامیاب ہیں بلکہ کم لاگت اور زیادہ موثر ہیں، بیماریوں سے ان تمام اموات کو حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسینیشن کے ذریعے روکا جاسکتاہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال 20 لاکھ سے 30 لاکھ زندگیوں کو حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے بچایا جاتا ہے، اسی طرح اب بھی دنیا بھر میں تقریباً19کروڑ اور50لاکھ بچے بنیادی ویکسین سے محروم ہیں۔ڈاکٹر ایم این لال نے کہا کہ یہ بات قابل ستائش ہے کہ حکومت نے روٹا وائرس ویکسین ای پی آئی پروگرام میں شامل کی ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ڈاکٹر جمیل اختر نے ویکسی نیشن کی ضرورت پر زور دیا، ان کا کہنا تھا کہ ویکسی نیشن اینٹی بائیوٹیکس ادویات کے استعمال میںکمی کا باعث بنتی ہے اور یہ اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف پیدا ہونے والی مدافعت کا بہترین ذریعہ ہے، حفاظتی ویکسین اینٹی باڈیزکو استعمال میں لاکر بیماری سے مقابلہ کرتی ہیں اور مریض کو بیماری سے تحفظ دیتی ہیں۔ڈاکٹر مشتاق میمن نے کہا کہ یہ بات قابل ذکر ہے پاکستان میں 1978میں حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام پاکستان ایکسپنڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن(ای پی آئی) شروع کیا گیا جو آج تک جاری ہے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں حفاظتی ٹیکہ جات لگوائیں۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar