awr 48

شیر مادر کی طبی اہمیت و افادیت

حکیم شمیم ارشاد اعظمی
عصر حاضر میں پھر ایک بار ماں کے دودھ کی اہمیت اور اس کے طبی فوائد کو کا فی اہمیت ہے۔ یہ ایک خوش آئند قدم ہے بالخصوص ان ممالک میں جہاںماں کا دودھ پلانا بہت ہی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ جدید میڈیکل سائنس کی اس سلسلہ میں جو تحقیقات سامنے آرہی ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دودھ پلانا جہاں بچے کے لئے نہایت فائدہ مند ہے وہیں اس کی وجہ سے ماں کے اوپر بھی کافی مثبت اثرات مرتب ہو تے ہیں۔ حالانکہ آج سے بہت پہلے اطباء قدیم نے شیر مادر کی طبی اہمیت و افادیت پر کافی اہم معلومات فراہم کیں ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کے لئے بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ طبعی طور پر قدرت کی طرف سے بچہ کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور ہر طرح کی آمیزش سے پاک ہو تا ہے۔ اس کا درجہ حرارت بچہ کے لئے موزوں ہو تا ہے۔ ماں کے دودھ میں جراثیم کش صلاحیت بھی موجود ہو تی ہے جو کسی مصنوعی دودھ میں نہیں پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بچہ کے عمر کے ساتھ ساتھ ماں کے دودھ میں مستقل تبدیلیاں بھی ہو تی رہتی ہیں۔ بچے کی عمر اور ضرورت کے اعتبار سے اس کا قوام اور اس میں موجود غذائی اجزاء کا تناسب بھی تبدیل ہو تا رہتاہے۔ اس کے برعکس مصنوعی دودھ میں اس طرح کی کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوتی ہے۔

طب یونانی میں رضاعت کا تصور کافی قدیم ہے۔ اطباء قدیم نے اپنی کتابوں میں شیر مادر، اس کی اقسام، ماہیت، طبی فوائد، نیزدایہ اور اسکے اخلاق وعادات، مزاج، جسمانی و ذہنی حالات اوراس کی غذا سے متعلق جوسائنٹفک نکات بیان کئے ہیں جدید میڈیکل سائنس آج بھی اسی کے ارد گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بقراط نے لکھتا ہے کہ دودھ سینے کے پرانے امراض میں مفید ہے۔ دیسقوریدوس کے نزدیک عورت کادودھ سارے دودھوں میں زیادہ مجلی اور تغذیہ بخش ہو تا ہے۔ جالنیوس کا قول ہے کہ بچے کے لئے اس کی ماں کا دودھ سب سے زیادہ مناسب غذا ہے۔ ابن رشد کتاب الکلیات میں لکھتا ہے کہ دانت نکلنے تک بچہ کی غذا صرف دودھ ہے۔ اس طرح کے بے شمار طبی نکات ہیں جنھیں اطباء نے اپنی کتابوں میں بیان فر مائے ہیں۔ سطور ذیل میں گر چہ راقم نے ابن سینا کی القانون حصہ اول کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا ہے تاہم اس ضمن میں اطباء قدیم کے تجربات و تحقیقات سے بھی فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے دودھ کی ماہیت، خصوصیات اور فوائد سے متعلق ابن سینا اور اطباء قدیم کے تعلیمات کو جان لیں۔

دودھ کی ماہیت

دودھ تین جو ہروں سے مرکب ہوتا ہے۔ جبنیت (پنیر)، مائیت (پانی) اور زبدیت (مکھن)۔ جب ان جو ہروں کا الگ الگ کیا جاتا ہے تو ہر قسم کے علاجوں میں ان کے افعال و خواص دوائی و غذائی الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ بہتر دودھ وہ جو خوب سفید ہو، معتدل گرم ہو، اور جب اسے ناخن پر ٹپکایا جائے تو مجتمع رہے بکھرے نہیں۔ دودھ بہت زیادہ گاڑھا نہ ہو، نہ بہت پانی کی طرح ہو، زیادہ جھاگ دار نہ ہو اور نہ ہی نمکین، کھٹا اور تلخ ہو۔ دودھ کا گاڑھا پن اس طرح دیکھا جاتا ہے کہ اس کو ناخون پر ٹپکا یا جائے اگر جلدی سے بہ جائے تو یہ پانی کی طرح رقیق ہو تا ہے اور اگر جامد کی طرح ٹہرا رہے تو یہ بہت گاڑھا سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ دودھ نہ بہت زیادہ گاڑھا ہو نہ پتلا بلکہ درمیانی ہو۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں