Uncategorized اسلام

اس چھوٹی سی برائی سے بھی متاثر ہو جاتا ہے روزہ

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 16-May-2018

رمضان کا مقدس مہینہ ایک بار پھر اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور رعنائیوں کے ساتھ ہم پر جلوہ افروز ہونے والا ہے۔ اس مقدس مہینہ میں اللہ کی طرف سے اس کے نیک بندوں کے لئے عنایتوں اور رحمتوں کی بارش برستی ہے۔ فرشتے روزہ داروں کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ اس مہینہ میں روزہ داروں کی دنیاوی مصروفیتیں کم ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی یاد، اس کی عبادت، قرآن کریم کی تلاوت اور فرائض و نوافل کی ادائیگی میں گزارتے ہیں۔ ان کے ذریعہ وہ اللہ سے اپنے تعلق کو بڑھاتے ہیں۔

روزہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی زور دیتا ہے۔ روٹھے ہوئے لوگوں کو منانے اور ان سے تعلقات بہتر بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنے پڑوسیوں، معاشرہ کے لوگوں اور برادران وطن کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دیتا ہے۔

کیا ہے روزہ اور کن پر فرض ہے؟

عربی زبان میں روزہ کو صوم کہتے ہیں جس کے لفظی معنی کسی چیز سے رک جانا اور اس کو ترک کر دینا ہے۔ شرعی معنی میں صوم یعنی روزہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت کی نیت سے آدمی صبح صادق سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک کھانے پینے اور جنسی ضرورت پوری کرنے سے رکا رہے۔

دلی کے اوکھلا میں واقع معروف دینی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کے سینئر استاد مولانا فضل الرحمن ندوی نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رمضان کا روزہ ہر بالغ،عاقل مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔ پاگل، مجنوں اور بیمار پر روزہ فرض نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لیکن بیمار شخص پر روزہ کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی ہے، بلکہ بیماری کی حالت میں اسے مہلت دی گئی ہے اور وہ اگلے رمضان سے پہلے پہلے جب بھی صحت یاب ہو جائے،  بقیہ روزے کو مکمل کرے۔

کیا ہے روزے کا مقصد؟

مولانا ندوی بتاتے ہیں کہ قرآن کریم میں روزہ رکھنے کا مقصد تقوی بتایا گیا ہے۔ تقوی کیا ہے، اس پر مولانا کہتے ہیں کہ تقوی اسے کہتے ہیں کہ انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہو جائے کہ جب وہ کوئی کام کرے تو یہ دیکھے کہ اللہ اس کے اس کام سے راضی ہو گا یا نہیں۔ اگر اللہ اس کے اس کام سے راضی ہوتا ہے تو وہ یہ کام کرے ورنہ اس سے باز آ جائے۔ یعنی کوئی بھی کام کرتے وقت وہ اس میں اللہ کی مرضی تلاش کرے۔

کن کن چیزوں سے متاثر ہو جاتا ہے روزہ؟

مولانا کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص روزہ رکھتا ہے اور وہ جھوٹ بھی بولتا ہے اور غیبت کرتا ہے تو شریعت کی نگاہ میں اسے تارک صوم یعنی روزہ نہ رکھنے والا نہیں مانا جائے گا۔ ہاں روزہ رکھنے میں اسے جو اجر وثواب ملنا چاہئے تھا، اس میں ضرور کمی آئے گی۔

چھوٹے بچوں میں بھی کبھی کبھار روزہ رکھوانے کی عادت ڈلوانی چاہئے

یوں تو روزہ ہر بالغ اور عاقل مسلمان مرد وخواتین پر ہی فرض ہے لیکن چھوٹے اور کم سن بچوں میں بھی وقتا فوقتا روزہ رکھوانے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اس کی حکمت بتاتے ہوئے مولانا کہتے ہیں کہ جب کم عمری میں ہی بچہ روزہ رکھنے کی عادت ڈالنا شروع کر دے گا تو پھر بالغ ہونے کے بعد اسے روزہ رکھنے میں زیادہ دقت نہیں آئے گی۔ مولانا کہتے ہیں کہ صحابہ کرام اپنے کم عمر بچوں سے وقتا فوقتا روزہ رکھواتے تھے اور وہ بچوں کے ہاتھوں میں کھلونا تھما دیتے تھے تاکہ وہ دن بھر کھلونے سے کھیلتے رہیں اور اس میں ان کا دن آسانی سے گزر جائے۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar