کھیل

جب مکی آرتھر کا سر بے یقینی میں جھک گیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 16-May-2018

حارث سہیل آوٹ ہو کر پویلین کی طرف جانے لگے تو مکی آرتھر کا سر بے یقینی میں جھک گیا۔ مسلسل 13 گھنٹے بولنگ کے بعد جب خدا خدا کر کے پاکستان کی بیٹنگ آئی بھی تو صرف 14 کے سکور پہ ہی تیسرا بیٹسمین پویلین لوٹ رہا تھا۔

مکی آرتھر کی پریشانی بجا تھی۔ چوتھی اننگز کے ٹارگٹس اور پاکستانی بیٹنگ آرڈر کم کم ہی میل کھاتے ہیں۔ 160 کے تعاقب میں پہلی تین وکٹیں جس رفتار سے گریں، بعید نہیں تھا کہ میچ کی صورتحال پاکستان کو شکست خوردہ ذہنیت کی طرف لے جاتی۔

اسی طرح سے شکست و ریخت جاری رہتی تو شاید مکی آرتھر ہی بارش کا انتظار کرنے لگتے کیونکہ پچھلے ڈیڑھ دن میں پاکستان ایسی ایسی حیرتوں کا سامنا کر چکا تھا کہ کوئی بھی انہونی خارج از امکان نہیں تھی۔

فالو آن کروانے کے بعد ایسی صورتحال میں آ جانا خاصا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب سرفراز نے آئرلینڈ پہ پریشر ڈالنے کے لیے فالو آن کروانے کا فیصلہ کیا تھا، تب کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ صرف 47 اوورز میں ہی سمٹ جانے والی بساط دوسرا موقع ملتے ہی 130 اوورز پہ محیط ہو جائے گی اور وہی پریشر پلٹ کر سرفراز پہ آ جائے گا۔

کرکٹ ہی کیا، دنیا کے ہر کھیل کا بنیادی اصول اپنی قوت پہ اعتبار ہے، مخالف کی کمزوری پہ نہیں۔ جب پہلی اننگز میں ہی واضح دکھائی دے رہا تھا کہ محمد عامر مکمل فٹ نہیں ہیں، تو کیسے یہ سوچ لیا گیا کہ بلا توقف دوبارہ بولنگ شروع کر دی جائے؟

اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پہلی اننگز کے انہدام کے بعد آئرلینڈ کا اعتماد تو نہیں ڈوبا، ہاں عامر کی انجری میں شدت آ گئی۔

پیر کی صبح پاکستان بالآخر 26 اوورز پہ محیط اوپننگ سٹینڈ توڑنے میں کامیاب تو ہو گیا لیکن ایک ہی گھنٹے بعد پاکستان کی ساری جارحیت بیک فٹ پہ جانے لگی۔ ابھی آئرلینڈ کا خسارہ باقی تھا کہ سلپ سے فیلڈ نکل کر باونڈریز کی طرف جانے لگی۔

فیلڈنگ کوچ سٹیو رکسن کی پاکستان کے ساتھ یہ آخری اسائنمنٹ ہے۔ وہ مختصر فارمیٹ میں تو پاکستان کی فیلڈنگ کافی بہتر کر چکے ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں کبھی بھی ان کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا۔

بے شمار مواقع گنوائے گئے۔ یہ شاید انہی مواقع کا دکھ تھا یا بے ثمر بولنگ کی تھکاوٹ تھی کہ پیر کی دوپہر کے بعد پاکستان کی حکمت عملی حکمت سے محروم نظر آئی۔ سرفراز کیا کرنا چاہ رہے تھے؟ فیلڈ میں تبدیلیاں کس سوچ کا اظہار تھیں؟ چہروں پہ پژمردگی کیوں تھی؟

کیسے یہ ممکن ہو گیا کہ اپنی زندگی کا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے گیارہ کھلاڑی ایکا ایکی اتنے پراعتماد ہو گئے کہ فالو آن کی خفت اٹھانے کے بعد بھی میچ جیتنے کی پوزیشن میں آ گئے؟

ٹیسٹ کرکٹ صبر اور تحمل کا کام ہے، اندھا دھند جارحیت کا نہیں۔ جب نتائج و عواقب سے بے نیاز ہو کر جارحیت اپنائی جاتی ہے تو پھر یہی ہوتا ہے جو ڈبلن میں پاکستان کے ساتھ ہوا۔

پاکستان کے لیے یہ میچ انگلینڈ کی سیریز سے پہلے گویا وارم اپ تھا، اعتماد کی بحالی کا موقع تھا۔ بالآخر پاکستان یہ میچ جیت بھی گیا لیکن یہ جیت ایسی قابل فخر نہیں تھی کہ اعتماد بحال کر پائے۔ لگتا نہیں کہ ایک ہفتے بعد پاکستانی ڈریسنگ اسے یاد بھی کرنا چاہے گا۔

About the author

Taasir Newspaper