سہراب الدین انکائونٹر معاملہ میں ایک اور گواہ اپنے بیان سے ہوا منحرف

0
191

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 17-May-2018

ممبئی: سہراب الدین مبینہ انکائونٹر معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔ اس معاملے میں گواہوں کا اپنے بیان سے انحراف کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس معاملے میں اب تک کل 59 گواہ اپنے بیانوں سے منحرف ہوچکے ہیں۔ بدھ کو سماعت کے دوران ایک اور گواہ کو ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے منحرف  گواہ کا اعلان کیا۔

یہ گواہ بھی اس کیس میں اپنے پہلے دیئے گئے بیان سے پلٹ گیا، اب تک اس کیس میں کل 85 لوگوں کی گواہی ہوچکی ہے۔

بدھ کو سی بی آئی نے اس معاملے کے گواہ پیشے سے وکیل سشیل تیواری اور اس کے کلرک دویندر شرما کو کورٹ میں پیش کیا تھا جس میں سے سشیل تیواری اپنے بیان سے منحرف ہوگیا جبکہ کلرک دیویندر شرما نے اپنا نہیں تبدیل کیا۔

پہلے درج کئے گئے بیان کے مطابق سشیل تیواری نے دویندر شرما کی گزارش پر تلسی رام پرجاپتی سے اجین کی ضلع عدالت میں ملاقات کی تھی۔ پرجاپتی نے تیواری سے کہا تھا کہ جیل میں اس کی جان کو خطرہ ہے، اس پر جان لیوا حملے کئے جارہے ہیں، اس معاملے میں پرجاپتی نے تیواری سے مدد طلب کی تھی، اس لئے سشیل تیواری نے تلسی پرجاپتی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اودے پور ضلع کلکٹر کو ایک تحریری عرضی دی تھی، اس عرضی کو دیویندر شرما کے ہاتھوں میں دیا گیا تھا، جسے پوسٹ سے بھیجا جانا تھا۔

لیکن کورٹ میں سماعت کے دوران سشیل تیواری نے کورٹ کو بتایا کہ اس نے پرجاپتی کے لئے ایسی کوئی عرضی نہیں لکھی تھی اور نہ ہی دیکھی تھی۔ تیواری نے عدالت کو بتایا کہ اس کے پاس بس ایک بند لفافہ لایا گیا تھا، جس پر صرف پتہ لکھنا تھا،جسے اس نے اپنے جونئیر کو پوسٹ کرنے دے دیا۔ اس بیان کی وجہ سے کورٹ نے سشیل تیواری کو منحرف گواہ اعلان کردیا۔

آپ کو بتادیں کہ سہراب الدین شیخ اور اس کی بیوی کا نومبر 2005 میں انکائونٹر ہوا تھا جبکہ تلسی رام پرجاپتی، راجستھان اور گجرات کی پولیس کے ساتھ دسمبر 2006 میں مبینہ انکائونٹر میں مارا  گیا تھا۔ اس معاملے کی جانچ اور سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ گجرات میں اس کیس کی جانچ کو متاثر کیاجارہا تھا اور کیس کو 2012 میں ممبئی ٹرانسفر کیاگیا تھا۔

غورطلب ہے کہ سہراب الدین معاملوں میں ہورہی سیاست تو الگ بات ہے، لیکن جس طرح سے گواہ مسلسل اپنے بیان بدل رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ یہ کیس دور تک نہیں جائے گا۔