سیاست سیاست

وزیراعظم کے نقش قدم پر یدی یورپا نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر جھکایا سر

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 17-May-2018

بنگلورو: آج کرناٹک کے 23 ویں وزیراعلیٰ کے طورپرحلف لینے کے بعد بی ایس یدی یورپا جب اسمبلی پہنچے تو انہوں نے بھون کی سیڑھیوں کو چھوکر نمن کیا۔ یدی یورپا کے اس انداز نے سال 2014 میں وزیراعظم نریندر مودی کی یاد تازہ کردی۔

سال 2014 میں جب نریندر مودی وزیراعظم بن کر پہلی بار پارلیمنٹ آئے تھے تب انہوں نے بھی پارلیمنٹ کی سیڑھیوں میں اپنا سر جھکاتے ہوئے سیڑھیوں پر سر جھکایا تھا۔

غور طلب ہے کہ ریاست میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ ایسے میں ریاست کی 224 رکنی اسمبلی میں 222 سیٹوں پر ہوئے الیکشن میں بی جے پی کو 104، کانگریس کو 78 اور جے ڈی ایس کو 38 سیٹیں ملی ہیں، فی الحال اکثریت کے لئے 112 کا اعدادوشمار چاہئے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے بدھ دیر رات ہوئی سماعت میں یدی یورپا کی حلف برداری تقریب پر روک لگانے سے انکار کردیا تھا۔ گورنر وجو بھائی والا نے کل یدی یورپا کو حکومت بنانے کا دعوت دی تھی۔ اس کے بعد رات میں ہی کانگریس نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے گورنر پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کی مداخلت سے آئین کا انکائونٹر کیا ہے۔

ویسے اس بات کو لے کر کانگریس صدر راہل گاندھی بہت خفا ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا  کرناٹک میں ضروری اعدادوشمار نہیں ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے لئے بی جے پی کی غیر معمولی ضد آئین کا مذاق بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف بی جے پی کھوکھلی جیت کا جشن منائے گی، وہیں دوسری طرف ہندوستان جمہوریت کی شکست کا ماتم منائے گا۔

وہیں پارٹی کے جنرل سکریٹری  اشوک گہلوت نے مودی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت میں تمام بڑے آئینی اداروں ک کمزاور کیا گیا ہے اور بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے لئے جمہوریت کا قتل کررہی ہے۔

یدی یورپا کو کرناٹک کا وزیراعلیٰ بنائے جانے کے خلاف غلام نبی آزاد، اشوک گہلوت اور سابق وزیراعلی سدارمیا سمیت کانگریس ممبران اسمبلی اور لیڈروں نے اسمبلی کے باہر مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران سدارمیا نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرغور ہے۔ ان کے پاس 104 ممبران اسمبلی ہیں، جو اکثریت سے کافی دور ہیں۔

About the author

Taasir Newspaper