Uncategorized

پنے میں جیت کا چوکا لگانے اترے گی ماہی بریگیڈ

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

پنے/حیدرآباد 04مئی (یو این آئی) وراٹ کوہلی کی رائل چیلنجرز بنگلور ہفتہ کو چنئی سپر کنگ کے نئے گھریلو میدان پر جیت کے ساتھ اپنی پچھلی شکست کا بدلہ لینے اور آئی پی ایل 11 میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے مقصد کے ساتھ اگلے میچ میں اترے گی وہیں مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم یہاں اپنی جیت کا ‘چوکا’ لگانے کی کوشش کرے گی۔ چنئی نے بنگلور کو اسی کے گھریلو میدان پر گزشتہ میچ میں بڑے ہدف کے باوجود پانچ وکٹ سے شکست دی تھی اور اب باری وراٹ کی ہے جو چنئی کو اس نئے میدان پنے میں شکست دے کر پچھلی شکست کا بدلہ برابر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ دونوں ٹیموں کی پوزیشن پر نظر ڈالیں تو اس سے بڑا فرق لگتا ہے ، جہاں چنئی نو میچوں میں چھ جیت اور تین شکست کے بعد دوسرے نمبر پر ہے تو وہیں بنگلور آٹھ میچوں میں تین ہی جیت سکی ہے ، وہ فی الحال پانچویں نمبر پر ہے اور آگے اس کی راہ آسان نہیں ہے ۔ ہندستانی ٹیم کے اسٹار کھلاڑی اور تینوں فارمیٹس کے کپتان وراٹ کیلئے اگلے اہم میچ سے پہلے راحت کی بات اس کے سٹار اسکورر جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ولیرس کی ٹیم میں واپسی ہے جو گزشتہ کچھ میچوں میں نہیں کھیلے ہیں۔ اے بی نے تصدیق کی ہے کہ وہ اگلے میچ میں کھیلیں گے ۔ آرسی بی نے گزشتہ میچ میں خراب دور سے گزر رہی ممبئی انڈینس کو 14 رن کے فرق سے ہرایا تھا جبکہ چنئی نے دہلی ڈئیر ڈیولس کو اسی میدان پر 13 رنز سے شکست دی تھی۔چنئی کے لیے پنے کا میدان بھی کافی خوش قسمت رہا ہے اور اس نے یہاں کھیلے گئے گزشتہ تینوں میچوں میں راجستھان، ممبئی اور دہلی تینوں کو شکست دی ہے اور اس کی کوشش رہے گی کہ وہ بنگلور کے خلاف اس میدان پر اپنی مسلسل چوتھی جیت بھی درج کر لے ۔ وراٹ آٹھ میچوں میں 58.16 کی اوسط سے 349 رنز بنا کر بنگلور کے لیے سب سے زیادہ رنز بنائے ہیں جبکہ چھ میچوں میں ڈی ولیرس نے 56 کے اوسط سے 280 رن بنائے ہیں جس میں ان کی ناٹ آوٹ 90 رنز کی اننگز اہم ہے ۔اگرچہ گزشتہ چار دنوں سے بخار سے پریشان جنوبی افریقہ کھلاڑی نے واپسی کی تصدیق کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اب واپس فٹ جیسا محسوس کر رہا ہوں۔مجھے وائرل ہو گیا تھا جس کے وجہ سے میں چار دنوں سے بستر میں پڑا تھا۔لیکن اب میں ٹھیک ہوں۔ دوسری جانب نئے کپتان شریس ایر کی قیادت میں بہتر کھیل دکھا رہی دہلی ڈئیر ڈیولس کی ٹیم خراب آغاز کی وجہ سے اب نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے اور ٹاپ پر چل رہی سنرائزرس حیدرآباد کے خلاف ہفتہ کو اپنے اگلے میچ میں پلے آف کے کیلئے پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔ ٹیبل میں آخری مقام پر کھسک گئی دہلی ڈئیر ڈیولس نے کپتانی تبدیل کرنے کے بعد کہیں بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور اس نے گزشتہ مقابلے میں گھریلو کوٹلہ میدان پر راجستھان رائلس کے خلاف ڈک ورتھ لوئیس قوانین سے چار رنز سے میچ جیتا۔وہ اب نو میچوں میں تین جیت اور چھ ہار کے بعد چھٹے نمبر پر ہے اور پلے آف کی دوڑ میں رہنے کے لیے اس کے اگلے تمام میچوں میں جیت درکار ہے ۔ دہلی کا مقابلہ اگرچہ ہفتہ کو حیدرآباد کی میزبانی میں ہونا ہے جس میں آٹھ میں سے دو ہی میچ ہاری ہے ۔وہ چھ مقابلے جیت کر ٹیبل میں 12 پوائنٹس کے ساتھ اب چنئی سپر کنگ کو پیچھے چھوڑ سب سے اوپر پہنچ گئی ہے ۔کین ولیم کی کپتانی والی ٹیم نے راجستھان کو ہی اپنے گزشتہ میچ میں 11 رنز سے شکست دی تھی۔ حیدرآباد کی ٹیم جہاں اپنے گھریلو میدان پر اعتماد کے ساتھ جیت کیلئے اترے گی تو وہیں کپتان شریس کیلئے سرفہرست ٹیم حیدرآباد کو اسی کے گھر میں شکست دے کر خود کو ثابت کرنے اور ٹیم کو دوڑ میں برقرار رکھنے کی ڈبل ذمہ داری رہے گی۔دہلی نے اپنے کل جیتے ہوئے تین میچوں میں دو شریس کی قیادت میں جیتے ہیں لیکن حیدرآباد کو ہرانا بڑا چیلنج ہوگا۔ دہلی کو گزشتہ میچوں میں ملی جیت سے یقینا اس کا حوصلہ لوٹا ہے ۔ٹیم کے پاس پرتھوی شاہ، کولن منرو، کپتان شریس، رشبھ پنت، وجے شنکر، گلین میکسویل طور پر اچھا بلے بازی آرڈر ہے ۔راجستھان کے خلاف اوپننگ میں 47 رن کی اہم اننگز کھیلنے والے نوجوان بلے باز پرتھوی کی ٹیکنالوجی کو تو اب بڑے کھلاڑی سچن تندولکر سے موازنہ کر رہے ہیں۔
18 سالہ پرتھوی نے دہلی کے لیے چار ہی میچوں میں 35 کی اوسط سے 140 رن بنائے ہیں جس میں ایک نصف سنچری بھی شامل ہے ۔وہیں کپتان شریس پر بھی ٹیم رنز کے لئے منحصر ہے جنہوں نے نو میچوں میں دہلی کیلئے 51.16 کے اوسط سے 307 رن بنائے ہیں جس میں چار نصف سنچری شامل ہیں اور ناٹ آ¶ٹ 93 رنز ان کی بڑی اننگز ہے ۔ وہیں دیگر نوجوان بلے باز رشبھ پنت نے 41.66 کے اوسط سے 375 رن بنائے ہیں اور ٹیم کے ٹاپ اسکورر ہیں۔انہوں نے اب تک ایک سنچری اور تین نصف سنچری بنائی ہیں۔
پنت اور شریس کے کھیل میں تسلسل ہے اور حیدرآباد کے انتہائی مضبوط اور خطرناک گیند بازوں کے سامنے ان پر ٹیم کو مستحکم رکھنے کی ذمہ داری ہوگی۔اگرچہ تجربہ کار آل را¶نڈر میکسویل نے اب تک بہت متاثر نہیں کیا ہے اور انہیں اپنے کھیل کو بہتر کرنا ہوگا۔ دوسری طرف حیدرآباد نے اب تک اپنے گیند بازوں کے دم پر مشکل میچ بھی جیتے ہیں اور چھوٹے سے چھوٹے اسکور کا بھی دفاع کیا ہے ۔ٹیم کے پاس کپتان ولیمسن (322)، شکھر دھون، منیش پانڈے ، یوسف پٹھان، شکیب الحسن کے طور پر اچھے بلے باز ہیں۔لیکن اس کا گیند بازی آرڈر مضبوط ہے جس میں سدھارتھ کول اور افغانستان کے راشد خان سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔اس کے علاوہ شکیب ، سندیپ شرما، باسل تھمپی، یوسف بھی مسلسل بہترین گیند بازی کر رہے ہیں جو دہلی کو پٹری سے آسانی سے اتار سکتے ہیں۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar