سیاست سیاست

گڑگاوں میں سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان 23 مقامات پر ادا کی جائے نماز جمعہ

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-May-2018

گروگرام: سائبر سٹی گڑگائوں میں نماز تنازعہ تھمنے کانام نہیں لے رہا ہے۔ نماز جمعہ کو لے کر ہندو شدت پسند تنظیموں اور مسلمانوں کے درمیان تناو نہ ہو، اسے لے پولیس اور انتظامیہ الرٹ ہے۔ مسلم فریق سے بات کرکے ضلع انتظامیہ نے 23 سرکاری مقامات پر کھلے میں نماز کے لئے طے کئے ہیں جبکہ پہلے صرف 9 مقامات دیئے جارہے تھے۔

ضلع انتظامیہ اور پولیس نے میٹنگ کرکے یہ مقامات طے کئے ہیں۔ یہی نہیں احتیاطاً 76 ڈیوٹی مجسٹریٹ لگائے گئے ہیں۔ ہریانہ کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب نماز کے لئے انتظامیہ کو اتنے بڑے پر ڈیوٹی مجسٹریٹ لگانے پڑے ہیں۔ کیونکہ دوسرے فریق کی طرف سے گڑبڑی کا خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے۔

مسلم فریق کی لڑائی لڑ رہے واجد خان، نہرو یوا سنگٹھن کے صدر شہزاد خان نے بتایا کہ پولیس نے نماز کے لئے متبادل انتظامات کے طور پر پہلے 9 مقامات طے کئے تھے، لیکن ہمارے اعتراض کے بعد اسے بڑھا کر 23 کردیا گیا ہے۔ یہ سرکاری زمین ہے جہاں کھلے میں نماز ہوسکتی ہے۔ گزشتہ جمعہ تک گڑگاوں میں 115 مقامات پر نماز ہورہی تھی۔

گزشتہ دو ہفتہ میں وزیرآباد، اتل کٹاریہ چوک، سائبر پارک، بختاور چوک اور ساوتھ سٹی علاقوں میں نماز میں رخنہ اندازی کی گئی، اس میں مبینہ طور پر وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، ہندو کرانتی دل، گئو رکشک دل اور شیو سینا کے ممبر شامل تھے۔ اب ان تنظیموں کی ایک سنگھرش سمیتی بھی بن گئی ہے۔ مخالفت کرنے والے 6 لڑکوں پر کیس درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

لیکن معاملہ تب الجھ گیا جب اس معاملے میں وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر بھی کود پڑے۔ انہوں نے کہاکہ مسجدوں، عیدگاہوں اور پرائیویٹ مقامات پر ہی نماز ادا کی جانی چاہئے۔ اسی لائن پر سرکاری افسران نے بھی بات کرنی شروع کردی۔ گڑگاوں کے ڈویژنل کمشنر ڈی سریش نے کہاکہ سڑکوں اور گرین بیلٹ پر نماز نہیں ہونے دی جائے گی۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar