امریکی وعدوں پر اعتبار کرنا مشکل نظر آتا ہے:اردگان

0
61

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-June-2018

انقرہ،12جون ( ہ س)۔امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے کہا ہے کہ منبج میں ترک۔ امریکی عسکری تعاون کےلے ہم تیار ہیں۔ میٹس نے یہ بات محکمہ دفاع میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ منبج کے بارے میں میٹس نے کہا کہ ترک۔امریکی وفود رواں ہفتے جرمن شہر اسٹوٹ گارٹ میں ملاقات کرتے ہوئے اس منصوبے پر لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم فوجی تعاون کے لیے تیار ہیں جس میں اولین ترجیح سرحد ے دونوں جانب گشت میں اضافہ کرنا اور بعد ازاں منبج میں مشترکہ کاروائی کرنا شامل ہوگا۔دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے عراق کے علاقے قندیل میں موجود دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانوں کے خاتمے کےلئے شروع کردہ آپریشن کا دائرہ سنجار تک وسیع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر اردگان نے گزشتہ شب ایک نجی ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ ترک فضائیہ کے 20 جنگی طیاروں نے قندیل میں قائم پی کے کے کے مختلف ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہوئے انہیں تباہ کر دیا ہے جس کا دائرہ سنجار تک پھیلے گا۔صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ اس آپریشن کے بارے میں رابطہ جاری ہے ، شام کے علاقے عفرین میں پی کے کے اور اس کی ذیلی شاخوں کے خلاف بھی کاروائیوں کا سلسلہ رواں ہے جس کے نتیجے میں اب تک 4600 دہشت گرد جہنم رسید کیے جا چکے ہیں اور وہاں سے آخری دہشت گرد کو ختم کرنے تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔شامی علاقے منبج میں داعش کے خلاف جاری آپریشن اور امریکی اسلحے کی فراہمی کے بعد امریکی انتظامیہ کی طرف سے دہشت گردوں کے انخلا کے بیان پر صدر نے کہا کہ مجھے اس پر اعتبار نہیں۔صدر نے کہا کہ روس سے ترکی ایس 400 میزائل نظام کی خریداری پر امریکہ بے چینی محسوس کر رہاہے اور وہ ایف 35 جنگی طیاروں کی فراہمی میں بہانے بنانے میں مصروف ہے جس کی قیمت 800 ملین ڈالر ہم ادا کر چکے ہیں۔ اگر امریکہ نے اس معاملے میں کچھ الٹا سیدھا کیا تو ہم عالمی قوانین کی روشنی میں قدم اٹھائیں گے۔ آسٹریا کی مساجد بند کرنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ خطرہ ہے کہ یہ معاملہ ہمیں صلیبی جنگ کی طرف لے جا رہا ہے۔ یورپ کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں نے اس بارے میں جرمن چانسلر مرکل سے بات کی اور ان سے کہا کہ وہ آسٹریئن وزیراعظم کی سرزنش کرتے ہوئے راہ راست پر لائے۔