اسلام

تو اس وجہ سے ہے رمضان کے آخری عشرہ کی بہت بڑی فضیلت اور اہمیت

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 06-june-2018

رمضان المبارک کا آخری عشرہ آج سے شروع ہو گیا ہے۔ اس عشرہ کی بڑی اہمیت اور فضیلت بتائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رمضان کا مہینہ دیگر تمام مہینوں سے افضل اور خصوصی اہمیت کا حامل مہینہ ہے لیکن رمضان شریف کے آخری دس دن کے فضائل، برکات اور خصوصیات اور بھی زیادہ ہیں۔ حدیثوں میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں اللہ کی عبادت، ذکر و اذکار اور شب بیداری میں اور بھی زیادہ منہمک ہو جاتے تھے۔

رمضان کے آخری عشرہ کے فضائل وبرکات اور اس کی خصوصیات پہلے دو عشروں کے مقابلہ میں زیادہ کیوں ہیں، یہ جاننے کے لئے نیوز 18 اردو نے دلی کے معروف تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کے سینئر استاذ مولانا فضل الرحمٰن ندوی سے ٹیلی فون پر جب بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ کئی اعتبار سے اس عشرہ کو پہلے دو عشروں کے مقابلہ میں زیادہ فضیلت اور اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عشرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لئے اپنی کمر کس لیتے تھے، وہ خود کو پوری طرح سے تیار کر لیتے تھے، ان راتوں میں آپ جاگتے، ذکر واذکار کرتے، قرآن کریم کی تلاوت کرتے، نوافل کا اہتمام کرتے اور عبادت کے لئے اپنے اہل و عیال کو بھی جگاتے تھے۔

مولانا نے مزید کہا کہ اس عشرہ کی فضیلت اور اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کیونکہ  اس میں قرآن کریم نازل ہوا، شب قدر کی مبارک گھڑیاں اسی عشرہ میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ان راتوں میں جبرئیل امین سمیت بڑی تعداد میں فرشے زمین پر اترتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان فرشتوں کی اتنی کثرت ہوتی ہے کہ اس سے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ اسی عشرہ میں اعتکاف بھی کیا جاتا ہے جس کا کرنے والا بہت زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ اتنی بڑی تعداد میں روئے زمین پر فرشتے کیوں اترتے ہیں؟ مولانا نے جواب دیا کہ انہی راتوں میں سال بھر کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ لوگوں کی رزق، ان کے اعمال اور ان کی موت وحیات کی تعیین انہی راتوں میں کر لی جاتی ہے اور اس کی ذمہ داری زمین پر بھیجے گئے فرشتوں کی ہوتی ہے۔

مولانا اعتکاف کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اعتکاف دنیاوی مصروفیات سے الگ تھلگ ہو کر مسجد میں اللہ کی عبادت کے لئے، اس کی خوشنودی تلاش کرنے کے لئے اکیسویں کی رات سے عید کا چاند نکلنے تک گوشہ نشین ہو جانا ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ اعتکاف کی حالت میں انسان بلا اشد ضرورت کسی سے اور یہاں تک کہ اپنے گھر کے لوگوں اور قریبی لوگوں سے بھی بات چیت نہیں کر سکتا۔ وہ دن اور رات کا اپنا زیادہ تر وقت اللہ کی عبادت میں ہی گزارے گا۔

مولانا سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا شب قدر کی تعیین کی گئی ہے کہ یہ کون سی رات ہے، مولانا کہتے ہیں کہ نہیں اس کی کوئی تعیین نہیں کی گئی ہے۔ لہذا ان پانچ طاق راتوں میں ہی شب قدر کو تلاش کرنا چاہئے۔ مولانا کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھا دیا گیا تھا کہ یہ کون سی رات ہے۔ آپ اپنے ساتھیوں کو یہ بتانے کے لئے مسجد نبوی میں آئے۔ یہاں دیکھا کہ دو لوگ آپس میں جھگڑ رہے ہیں۔ آپ ان کا جھگڑا ختم کرانے میں لگ گئے اور اس دوران آپ یہ بھول گئے کہ وہ کون سی رات تھی جس کے بارے میں خواب میں آپ کو بتایا گیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper