دنیا بھر سے

سعودی اتحادی افواج کا یمن میں حدیدہ بندرگاہ پر حملہ

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-June-2018

یمن کی اہم بندرگاہ حدیدہ پر سعودی عرب کی اتحادی افواج نے حملہ کر دیا ہے۔ یہ بندرگاہ یمن میں انسانی بنیادوں پر فراہم کیے جانے والے سامان کے داخلے کا اہم مرکز ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ حوثی باغیوں کی جانب سے انخلا کے لیے دی جانے والی حتمی ڈیڈلائن کو نظرانداز کیے جانے کے بعد کیا گيا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو فضا اور سمندر دونوں جانب سے بموں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور شہر کے مضافات میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

امدادی ایجنسیوں نے شہر پر حملہ کیے جانے کی صورت میں قیامت خیز تباہی کے لیے خبردار کیا ہے جس میں ڈھائی لاکھ جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس جنگ زدہ ملک میں 70 لاکھ سے زیادہ افراد امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی خوراک پر انحصار کرتے ہیں۔

سعودی نیوز نیٹ ورک ‘العربیہ’ نے خبر دی ہے کہ حدیدہ کو ‘آزاد کروانے’ کا کام شروع ہو چکا ہے جس میں وسیع پیمانے پر کیے جانے والے زمینی حملے کو فضائیہ اور بحریہ کا تعاون اور پشت پناہی حاصل ہے۔

صدر منصور ہادی کی یمنی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ باغیوں کو پسپا کرنے کے تمام سیاسی ذرائع ختم ہو چکے ہیں۔

سعودی عرب کی سربراہی میں منصور ہادی کی حمایت کرنے والی اتحادی فوج میں شامل متحدہ عرب امارات نے اس سے قبل حوثی باغیوں کو انخلا کے لیے حتمی الٹی میٹم دیا تھا کہ یا تو وہ واپس ہو جائیں یا پھر حملے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ انور قرقاش نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے قبل 48 گھنٹوں کی سابقہ ڈیڈلائن کے ختم ہونے کے بعد سفارتی کوششیں کرتے کرتے اتحادیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اتحادی چاہتے تھے کہ بندرگاہ کا کنٹرول اقوام متحدہ سنبھالے لیکن اگر حوثی انخلا سے انکار کرتے ہیں تو اس صورت میں وہ فوجی کارروائی کے لیے بھی تیار تھے۔

یمن کی خانہ جنگی میں گذشتہ تین برسوں میں دس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جسے اقوام متحدہ نے دنیا کی ‘خراب ترین انسانی تباہی’ کہا ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں کئی ممالک کی فوج نے مارچ سنہ 2015 میں یمن کے تنازعے میں اس وقت مداخلت کی جب صدر ہادی کی وفادار فورسز حوثی تحریک کے خلاف برسرپیکار تھیں۔

About the author

Taasir Newspaper