کھیل

فیفا ورلڈ کپ 2018: نائیکی نے ایرانی فٹبالروں کو جوتے دینے سے انکار کر دیا

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 13-June-2018

کھیلوں کا ساز و سامان بنانے والی امریکی کمپنی نائیکی نے امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی فٹبالرز کو جوتے فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت ایرانی فٹبال ٹیم دو روز میں شروع ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2018 کے سلسلے میں روس میں ہے۔

اس فیصلے سے ایرانی کھلاڑی اور کوچ کارلوس کوئروز دونوں ہی پریشان ہیں اور انھوں نے فیفا سے کہا ہے کہ وہ ان کی مدد کریں۔

گذشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکال لیا تھا۔ انھوں نے ایران کے خلاف وہ پابندیاں بھی واپس لگانے کا وعدہ کیا تھا جو کہ 2015 میں جوہری معاہدے کے ختم ہوگئی تھیں۔

اس کے علاوہ بہت سی دیگر بڑی کمنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں گی۔

نائیکی کا کہنا ہے کہ ’امریکی پابندیوں کا مطلب ہے کہ ایک امریکی کمپنی کے طور پر نائیکی ایرانی قومی ٹیم کو فلحال جوتے فراہم نہیں کر سکتی۔ نائیکی پر لاگو ہونے والی پابندیاں کئی سال سے وضع ہیں اور قانون کا حصہ ہیں۔‘

امریکی محکمہِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

پرتگال کے سابق کھلاڑی اور ایران کے کوچ کارلوس کوئروز کا کہنا ہے کہ ’کھلاڑی اپنے ساز و سامان کے عادی ہو جاتے ہیں اور اہم میچوں سے قبل اسے تبدیل کرنا ٹھیک نہیں۔ ہم نے فیفا سے کہا ہے کہ اس سلسلے میں ہماری مدد کرے۔‘

’قومی فخر‘

متعدد ایرانیوں نے سوشل میڈیا پر نائیکی کے سامان کا بائیکاٹ کرنے کی ایک مہم شروع کی ہے اور ان کا ہیش ٹیگ ہے „نو ٹو نائیکی‘۔

ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’جب ایران اسرائیل کے خلاف کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو یہ کھیلوں میں سیاسی مداخلت ہے مگر جب نائیکی ایرانی کھلاڑیوں کو چوتے دینے سے انکار کرتا ہے تو فیفا ایک لفظ نہیں کہتا۔‘

ایک صارف نے ٹو اپنے پیغام میں نائیکی کے جوتے کوڑے میں یہ کہہ کر پھینک دیے کہ کمپنی کا فیصلہ میرے لوگوں اور فٹبال کے مداحوں کی بےعزتی ہے۔

تاہم کچھ ایرانیوں کا کہنا ہے کہ ایک نجی کمپنی ہونے کے ناطے نائیکی کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ نائیکی فیفا کے ماتحت نہیں اور اس پر لازم نہیں کہ وہ فیفا کی بات ماننے۔

About the author

Taasir Newspaper