دنیا بھر سے

ٹرمپ کم سربراہ ملاقات: چین کے حوالے سے تین سوال

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-June-2018

سنگاپور میں شمالی کوریا اور امریکہ کی سربراہ ملاقات کے تناظر میں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ بیجنگ پیانگ یانگ کا واحد اہم اور دیرینہ حلیف ہونے کے ساتھ واشنگٹن کا سب سے طاقتور اور پرانا عسکری حریف ہے۔

اس کی یہ حیثیت اسے اس بات کو طے کرنے میں بڑا کردار فراہم کرتی ہے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان کوئی معاہدہ طے ہوتا ہے اور آیا اس کی کامیابی کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔

جہاں سنگاپور کے سٹیج پر موجود دو رہنماؤں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں وہیں سٹیج سے باہر کھڑے طاقتور کھلاڑی کے بارے میں تین سوالات بہت اہم ہیں۔

چین کیا چاہتا ہے؟

ایک لفظ میں: استحکام۔

دوسری طرح سے دیکھیں تو چین واقعتا سب سے زیادہ کیا چيز نہیں ہونے دینا چاہتا ہے تو وہ اپنی سرحد کے قریب کوئی جوہری دہانہ گیری تو ہرگز نہیں چاہتا ہے۔

اور پیانگ یانگ کا خللِ دماغ جگ ظاہر ہے۔

وہ واشنگٹن کے وائلڈ کارڈ صدر پر بھروسنہ نہیں کرتا۔

اور چین حقیقتا لفظی جنگ سے خوفزدہ ہے جس کا نتیجہ فوجی بھول چوک اور کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایسے میں بیجنگ کے لیے سفارتکاری اور بات چیت کی جانب لوٹنا ہی بعض اوقات اپنے آپ میں حرف آخر ہے۔

لیکن حالیہ برسوں کے دوران شمالی کوریا کو برداشت کرتے رہنے پر چین کا پیمانہ لبریز ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ اس کا قدیمی حلیف ہے اور امریکہ اب تک دونوں کا مشترکہ سٹریٹیجک حریف ہے۔

اس لیے ایسے میں کم جونگ ان کا یکطرفہ طور پر مشکل سے حاصل شدہ جوہری سد راہ کے متعلق معاملات طے کر پانا مشکل ہوگا۔

اور اگر کم جونگ ان صدر ٹرمپ سے کوئی چھوٹ مثلا جزیرہ نما کوریا میں اور اس کے ارد گرد امریکی فوج کی شکل میں کوئی تبدیلی لانے میں کامیاب ہو تے ہیں تو اسے چین اپنے مفاد میں سمجھے گا۔

چین شمالی کوریا پر کس قدر اثرات ڈالے گا؟

کچھ۔

شمالی کوریا کا دنیا بھر سے ہونے والے کاروبار کا 90 فیصد حصہ چین کے ساتھ ہے۔

لیکن چین نے شمالی کوریا کو گفتگو کی میز تک لانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا ہے۔

اگر چہ بیجنگ نے اپنے پڑوسی کے خلاف لگائی جانے والی شدید ترین پابندیوں پر دستخط کیا ہے لیکن ایسا اس نے غور و خوض کے بعد اور بعض استدلال کے تحت کیا ہے کہ پیانگ یانگ معاشی طور پر جنتا زیادہ تنہا ہوگا وہ اتنا ہی اسے اپنے جوہری ڈیٹیرینس کو استعمال کرنے کی ترغیب دی جاسکے گی۔

کم جونگ ان اپنی شرطوں پر اور اپنی عسکری وجوہات کے لیے سنگاپور پہنچ گئے ہیں۔

جبکہ چین کی جانب سے عائد پابندیاں چین کے اپنے مقاصد کو پورا کرتی ہیں۔

اور اس خیر سگالی کا امریکہ کے ساتھ وسیع جیوپالیٹیکل مقابلے میں سودا کیا جاسکتا ہے۔

اور اس کا محدود حد تک ہی سہی لیکن شمالی کوریا کو یہ باور کرانے کا مؤ‎ثر استعمال ہو سکتا ہے کہ وہ چین کے مفاد کو پوری طرح نظر انداز نہیں کر سکتا۔

اس کے اثرات یقینا محدود ہوں گے کیونکہ شمالی کوریا یہ جانتا ہے کہ چین اپنی سرحد کے پاس جوں کی توں جوہری صورتحال سے کہیں زیادہ معاشی بدحالی سے زیادہ خوف کھاتا ہے۔

یہ دم پکڑ کر کتے کو ہلانے کی شاندار مثال ہے۔

خیال رہے کہ صدر شی جنپنگ کی شمالی کوریا کے چیئرمین سے پہلی ملاقات تین ماہ قبل ہوئی تھی اور اس کے بعد وہ دوبارہ پھر ملے۔

اور یہ دونوں ملاقاتیں کم اور ٹرمپ کی سربراہی کانفرنس کے اعلان کے بعد ہی ہوئی ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سفارتکاری میں آنے والی یہ تیزی کہیں اس بات کی علامت تو نہیں کہ چین کنارے کیے جانے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔

ایسے شواہد ہیں کہ پابندیوں میں اچانک قدرے نرمی آئی ہے۔

اور صدر ٹرمپ نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ چین نے دخل در معقولات کرنا شروع کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا: ‘میں کہوں گا کہ میں قدرے مایوس ہوا ہوں کیونکہ کم جونگ ان نے صدر شی سے ملاقات کی ہے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ کم جونگ ان کے رویے میں ذری تبدیلی آئی ہے۔ اور مجھے یہ پسند نہیں۔’

اگر اجلاس ناکام ہوتا ہے تو چین کیا کرے گا؟

چین کے لیے کوئی معاہدہ، کوئی روڈ میپ، گرمجوشی سے کیا جانے والا کوئی مصافحہ اور یا کوئی غیر مبہم منصوبہ یعنی ایسا کچھ بھی کامیابی مذکور ہے جس سے مذاکرات جاری رہیں۔

چین کے نقطۂ نظر سے شمالی کوریا کے نوجوان رہنما کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ڈی نیوکلیئرائزیشن کی کوئی حوصلہ مند بات نہ کریں بلکہ اپنی نوخیز اور کمزور ملکی معاشی اصلاحات کی بات کریں۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق گذشتہ ماہ شمالی کوریا کے سینیئر مندوبین نے ‘چین کی ملکی معاشی ترقی کے کارناموں کے بارے میں سیکھنے کے لیے’ بیجنگ کا دورہ کیا۔

اور یہ چین کا ہمیشہ سے ترجیحی ماڈل رہا ہے۔

چین کے نقطۂ نظر سے شاید یہ ناکامی نہیں ہوگی کہ شمالی کوریا (اپنے محدود جوہری اسلحے کے ذخیرے کے ساتھ) غیر مسلح ہونے کی کبھی نہ ختم ہونے والے مذاکرات میں الجھا رہے اور چینی کمپنیاں وہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرنے کے اپنے کام اور اپنے کاروبار کو بڑھانے میں لگی رہیں۔

یہ خوشحالی کے ذریعے استحکام کا برآمد کیا جانے والا ‘چینی خواب’ ہے جس میں کچھ حد تک دیر پا استبدادیت کا عنصر بھی ہے۔

ژاؤ تونگ بیجنگ کے کارنيگی سنگھوا سینٹر میں شمالی کوریائی امور کے ماہر ہیں۔

انھوں نے بتایا: ‘اس بات سے قطع نظر کہ اجلاس میں جوہری ہتھیار پر کتنی ہی پیش رفت کیوں نہ ہو چین کا اہم طویل مدتی سٹریٹیجک مقصد ہے۔

‘جس میں شمالی کوریا کو اس کی معیشت کی ترقی میں مدد کرنا اور اسے ایک تنہا اور اچھوت ملک کی حیثیت سے نکال کر ایک عام اور زیادہ کھلے ہوئے ملک میں تبدیل کرنا شامل ہے۔’

لیکن اگر ملاقات پٹری سے اتر جاتی ہے اور امریکہ محدود فوجی حملے کی اپنی پوزیشن پر لوٹ جاتا ہے تو بھی چین اپنے منصوبے پر گامزن رہے گا۔

شمالی کوریا کے پاس جوہری بم ہے اور وہ واضح طور پر مدبر سیاستداں کے روپ میں ہے۔

اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو شمالی کوریا کی جانب سے تحمل کے مظاہرے کو چین نظر انداز نہیں کرے گا اور وہ کوریائی رہنما کے بجائے مسٹر ٹرمپ کی جانب انگلی اٹھائے گا۔

مسٹر ژاؤ نے کہا: ‘اگر امریکہ اجلاس سے اٹھ کر چلا جاتا ہے اور اپنی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے والی مہم پر واپس آ جاتا ہے تو چین سفارتکاری کے ناکام ہونے کا الزام امریکہ پر لگائے گا۔

‘اور اگر امریکہ شمالی کوریا کے اسلحے کو ختم کرنے کے لیے کسی فوجی حملے کا اشارہ کرتا ہے تو میرے خیال یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ چین اپنی فوج کو موبلائز کرکے واشنگٹن کو مزاحمت کا اشارہ بھیجے گا۔’

چین پر تولے تیار بیٹھا ہے۔

اور سنگاپور کا سربراہی اجلاس ممکنہ طور پر کسی نہ کسی طرح اس کے اثرات میں اضافہ ہی کرے گا۔

About the author

Taasir Newspaper