ٹرمپ کم ملاقات: شمالی کوریائی فنکاروں کا کہنا ہے کہ ’ایک آمر کو اچھا نہ سمجھیں‘

0
121

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-June-2018

ایک عرصے تک تنہا سمجھے جانے والے کم جونگ اُن شاید عالمی سطح پر ایک رہنما سمجھے جانے لگے ہیں مگر شمالی کوریا کے کچھ فنکار جنھوں نے ان کی قیادت میں مظالم سہے ہیں، کہتے ہیں کہ امن مذاکرات اس ’آمر‘ کو تبدیل نہیں کر سکیں گے۔

کئی سالوں تک سونگ بائیوک شمالی کوریا کے ریاستی پروپیگنڈا کا اہم حصہ تھے۔ حکام کی نظر ہوانگائی صوبے سے تعلق رکھنے والے اس پینٹر پر پڑی اور اسے ریاستی فنکار بنایا گیا۔

سونگ نے امریکہ اور جاپان مخالف شاندار تصاویر بنائیں اور کم خاندان کے دور کے ’خوش‘ کارکنان کی بھی عکس بندی کیے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سے وہ کہتے ہیں کہ ’ایک پروپیگنڈا مصور کے طور پر آپ کو شمالی کوریا اور اس کے رہنمائوں کو دنیا میں بہترین دکھانا پڑتا ہے۔

’شمالی کوریا میں فن صرف خوبصورت ہو سکتا ہے۔ کوئی بے گھر نہیں ہے اور ہر کوئی صحت مند ہے کیونکہ سب کو کھانے کو کافی ملتا ہے۔‘ مگر حقیقت یہ نہیں ہے۔

سونگ 2002 میں ایک ایسے جیل جہاں تشدد روز کا معمول تھا، قید تھے وہ بھاگ کر جنوبی کوریا آئے تھے۔

’شمالی کوریا میں قیدیوں کے کیمپ میں رہنا مشکل تھا۔ آپ کو پرندوں کے چہچہانے کی آواز آتی یا نیلا آسمان نظٌر آتا تو آپ کا مر جانے کو دل کرتا تھا۔ اسی لیے آپ سوچ سکتے ہیں کہ میں کم جونگ ان کے بارے اچھے خیالات سن کر کتنا حیران ہوتا ہوں۔‘

سونگ کے لیے یہ معاملات اس لیے بھی بہت مشکل ہیں کیونکہ بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی منگل کو متوقع غیرمعمولی ملاقات سے قبل کم جونگ ان کو سفارتی دنیا میں ایک پسندیدہ شخصیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

متعدد ممالک کے رہنما ان کے ساتھ ملاقات کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ ایک وقت تھا کہ کم جونگ ان کو جوہری پروگرام اور انسانی حقوق کے بدترین ریکارڈ کی وجہ سے عالمی سطح پر تنہا کیا گیا تھا۔

سونگ کا کہنا ہے کہ ’اس حکومت کے ہاتھوں بہت سے لوگ مارے جا چکے ہیں اور اب ایک آمر کو اچھا کہا جا رہا ہے اور اس کی حکومت کی تعریفیں ہو رہی ہیں۔ یہ سب بہت غلط ہے۔

ادھر سیئول کے رونق والے علاقے گنگگم میں شمالی کوریا سے بھاگ کر آنے والے ایک اور فنکار چوئے سیونگک رہتے ہیں۔

شمالی کوریا میں رہتے ہوئے ان کا کام مغربی جاسوسوں کے بارے میں کارٹون بنانا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی کم جونگ ان کی تعریف کرتا ہے تو شمالی کوریائی ہونے کے ناطے انھیں شدید غصہ آتا ہے۔

’جو لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں انھوں نے کبھی میرے جیسے شمالی کوریائی لوگ دیکھے نہیں ہیں جنھیں مارا گیا ہے یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

چوئے سیونگک کو شمالی کوریائی دارالحکومت سے بدر کر کے ایک کیمپ میں اس وقت بھیج دیا گیا تھا جب وہ جنوبی کوریائی فلموں کی کاپیاں فروخت کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ 2012 میں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ملک سے بھاگ گئے۔

شمالی کوریا سے باہر رہنے والے بہت سے شمالی کوریائی باشندوں کی طری وہ بھی صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ملاقات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں ان تصاویر پر غصہ چڑھتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ کم جونگ ان عالمی رہنمائوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف ان کے وقار میں اضافہ کرے گا اور میرے عوام کو برین واش کرنے میں مدد کرے گا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کے تعلقات گذشتہ ڈیڑھ برس میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں اور یہ ملاقات ایک مرتبہ پہلے منسوخ کی جا چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملاقات کی منسوخی کے بعد پیانگ یانگ کی جانب سے مصالحاتی انداز اپنایا گیا۔

تاہم چوئے سیونگک کو خدشات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کا خیال ہے کہ وہ کم جونگ سے بات کر کے مسئلہ حل کر لیں گے مگر مجھے اس مفروضے پر حیرانگی ہے۔

کم جونگ ان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’وہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ بے بسی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور ان کے پاس اب کوئی راستہ نہیں ہے۔‘

’ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین ملک کی قیادت کرتے ہیں اسی لیے انھیں انسانیت کا خیال ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان کے پاس کوئی لائحہ عمل ہے مگر میں امید کرتا ہوں کہ وہ شمالی کوریائی افراد کو نظر انداز نہیں کریں گے۔‘

جب سونگ بائیوک سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایک دن شمالی کوریا جانا پسند کریں گے تو انھوں نے انتہائی جوش کے ساتھ کہا ہاں!

’یقیناً! پیانگ یانگ میں اپنے فن کی نمائش کرنا چاہتا ہوں اور اپنے ساتھی شہریوں کو آزادیِ اظہارِ رائے دکھانا چاہتا ہوں۔ یہ میرا خواب ہے اور امید کرتا ہوں یہ میری زندگی میں ہو جائے گا۔‘

تاہم چوئے سیونگک کی طرح سونگ بائیوک کو بھی کم جونگ ان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے حوالے سے خدشات ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کیا مون جائے کا واقعی یہ ماننا ہے کہ کم شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار ختم کر دیں گے؟ ان کی انتظامیہ نے شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی بات بھی نہیں کی ہے۔

مگر وہ اپنے ملک کے لیے پرامید بھی ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ٹرمپ۔کم ملاقات صرف ایک تقریب ہو۔

وہ کہتے ہیں ’میں امید کرتا ہوں کہ ٹرمپ اور کم کی ملاقات ہمارے ملک کے بنیادی طور پر تبدیل ہونے کی جانب ابتدائی قدم ہو۔