دنیا بھر سے

ٹرمپ-کم کے بیچ ہوا سمجھوتہ، شمالی کوریا ختم کرے گا جوہری ہتھیار

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 12-June-2018

سنگاپور۔  شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ ایک تاریخی سمجھوتہ کر کے جزیرہ نما کوریا سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کی سمت میں کام کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن اور خوشحالی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سنگاپور میں امریکیٍ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ہوئی میٹنگ میں ان معاہدوں پر دونوں رہنماؤں نے منگل کو دستخط کئے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا اور امریکہ دونوں کوریائی ممالک کے درمیان تنازعہ کے دوران قیدی بنائے گئے فوجیوں کی باقیات جمع کرنے پر اور زندہ جنگی قیدیوں میں جن کی شناخت ہو چکی ہے انہیں ان کے ملک واپس بھیجنے پر بھی اتفاق ہوئے ہیں۔ معاہدے میں اگرچہ وضاحت کا فقدان ہے اور مختلف مسائل کی باریكياں تفصیل سے نہیں بتائی گئی ہیں۔

وہیں،  ٹرمپ نے کہا کہ ان کی یہ تاریخی بات چیت “کسی کے بھی تصور سے بہتر رہی۔” دونوں رہنماؤں نے یہاں سینٹوسہ جزیرے کے كیپیلا ہوٹل میں ملاقات کی اور دونوں ممالک کے جھنڈوں کے سامنے تقریباً 12 سیکنڈ تک ہاتھ ملایا۔ کم نے ترجمان کے ذریعے کہا “دنیا کے بہت سے لوگ اسے کسی سائنس فکشن فلم کی اسکرپٹ سمجھیں گے۔”معاہدے پر دستخط کے بعد مسٹر کم کی گاڑی براہ راست ہوائی اڈے کے لئے روانہ ہو گئی۔  ٹرمپ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے اور اس کے بعد ان کا بھی روانہ ہونے کا پروگرام ہے۔

معاہدہ دستاویزات کے مطابق، دونوں ممالک نئے سرے سے تعلقات بنانے اور جزیرہ نما کوریا میں طویل مدتی قیام امن پر متفق ہوئے ہیں۔  ٹرمپ نے شمالی کوریا کو تحفظ کی ضمانت کا وعدہ کیا ہے جبکہ  کم نے جزیرہ نما کوریا میں جوہری ہتھیاروں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم دوہرایا۔ ان دستاویزات میں امریکہ-شمالی کوریا کے درمیان پہلی ملاقات کو ’اہم‘بتایا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کی کشیدگی اور دشمنی کو کم کرنے میں مددگار ہوگی اور نئے مستقبل کے دروازے کھولے گی۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان اگلے دور کی بات چیت ہو گی جس میں امریکہ کی جانب سے وزیر خارجہ مائیک پومپيو حصہ لیں گے۔

شمالی کوریا کی جانب سے شامل ہونے والے نمائندے کا نام ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد آج ہوئے معاہدے کے فیصلوں کو نافذ کرنا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper