اتر پردیش

مسلمانوں کی مخالفت کے بعد یوپی حکومت نے مدرسہ ڈریس کوڈمعاملے میں قدم واپس کھینچ لئے

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 04-July-2018

لکھنؤ : اترپردیش حکومت نے مسلم مذہبی رہنماوں کی مخالفت کے بعد مدرسہ ڈریس کوڈ معاملے پر اپنے قدم واپس کھینچ لئے ہیں۔

اترپردیش اقلیتی بہبود اور حج کے وزیر مملکت محسن رضا نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ مدرسہ بورڈ میں این سی ای آر ٹی نصاب شروع کرنے کے بعد اب روایتی کرتا پائجامہ کی جگہ نیا ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کے بعد مسلم مذہبی رہنماوں نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے مذہب میں مداخلت قرار دیا تھا۔

دوسری طرف اقلیتی بہبود کے کابینی وزیر چودھری لکشمی نارائن نے حکومت کے ذریعہ ایسا کوئی قدم اٹھائے جانے کی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ مسٹرنارائن نے اپنے جونےئر وزیر کے بیان پر کہا کہ یہ ان کی اپنی رائے ہوسکتی ہے ۔

مدرسہ دارالعلوم فرنگی محل نے ڈریس کوڈ پر مسٹر رضا کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ مسلمانوں پر چھوڑ دینا چاہئے۔ خیال رہے کہ مسٹر رضا نے منگل کو ایک پروگرام میں کہا تھا کہ مدارس میں طلبہ کرتا پائجامہ پہنتے ہیں لیکن حکومت چاہتی ہے ان کا ڈریس رسمی ہو۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar