ہندستان ہندوستان

وادی کشمیر میں ہڑتال کے پیش نظر ریل خدمات معطل

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-July-2018

وادی کشمیر میں چلنے والی ریل خدمات بدھ کو ایک بار پھر ایک دن کے لئے معطل کردی گئیں۔ یہ خدمات کشمیری مزاحتمی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے حالیہ شہری ہلاکتوں کے خلاف دی گئی ہڑتال کی کال کے پیش نظر معطل کی گئیں۔ یہ وادی میں جولائی کے مہینے میں تیسری مرتبہ ہے کہ جب ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر معطل کیا گیا۔

ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے ریاستی پولیس کے مشورے پر آج (بدھ کے روز ) چلنے والی تمام ٹرینوں کو منسوخ کردیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’بارہمولہ اور سری نگر کے درمیان کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔ اسی طرح سری نگر اور بانہال کے درمیان بھی کوئی ٹرین نہیں چلے گی‘۔انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا مقصد ریلوے املاک اور مسافروں کو نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔ یو این آئی کے پاس موجود اعداد وشمار کے مطابق وادی میں رواں برس کے دوران ریل خدمات کو کم از کم 22 مرتبہ کلی یا جزوی طور پر معطل رکھا گیا۔

بتادیں وادی میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مسافر ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ کشمیر میں ملک کے دوسرے حصوں کا سفر کرنے والے بیشتر لوگ جموں کے بانہال تک کا سفر ریل گاڑیوں کے ذریعے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں تعینات سرکاری اور نجی اداروں کے ملازم بھی اپنی کام کی جگہوں پر پہنچنے کے لئے ریل گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ریل گاڑیوں کو کشمیر میں آمدورفت کا سستا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم خدمات کی بار بار کی معطلی کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ریلوے کے ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ ماضی میں بھی احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے کا نقصان پہنچایا گیا۔ وادی کشمیر میں سال 2016 میں حزب المجاہدین کے سابق اور معروف کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو قریب چھ تک معطل رکھا گیا تھا۔

About the author

Taasir Newspaper