سیاست سیاست

راجیہ سبھا میں 3 طلاق بل آج3 ترمیمات کے ساتھ پیش ہوگا

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 10-July-2018

نئی دہلی ،9اگست (یواین آئی)حکومت نےتین طلاق بل کو تین ترمیمات کے ساتھ جمعہ کو راجیہ سبھا میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں زیرالتوا طلاق ثلاثہ سے متعلق بل میں تین ترامیم کرتے ہوئے اس میں مجسٹریٹ کے ذریعہ ملزم شوہر کو ضمانت دیئے جانے اور مناسب شرائط پر مفاہمت کی شقوں کو شامل کیاہے ۔بل کی مخالفت کررہی کانگریس سے بھی حکومت نے اپنا موقف واضح کرنے کو کہاہے ۔وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں آج یہاں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں ان تینوں ترامیم کو منظوری دی گئی ۔میٹنگ کےبعد قانون وانصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے صحافیوں کو بتایاکہ پہلی ترمیم کے تحت اب ایف آئی آر درج کرانے کا حق خود متاثرہ بیوی ،اس سے خون کا رشتہ رکھنے والے افراد اور شادی کے بعد بنے رشتہ داروں کو ہی ہوگا ۔اس کے علاوہ بل میں مفاہمت کا التزام بھی ہے ۔مسٹر پرساد نے بتایاکہ مجسٹریٹ مناسب شرطوں پر شوہر ۔بیوی کے مابین سمجھوتہ کراسکتاہے ۔ایک دیگر ترمیم ضمانت کے سلسلہ میں کی گئی ہے ۔اب مجسٹریٹ کو یہ اختیار دیاگیاہے کہ وہ متاثرہ کا موقف سننے کے بعد ملزم شوہر کو ضمانت دے سکتاہے ۔حالانکہ انھوں نے واضح کیاکہ یہ اب بھی غیر ضمانتی جرم برقرار ہے جس میں تھانہ سے ضمانت ملنی ممکن نہیں ہے ۔ یہ بل لوک سبھا میں منظور ہوچکاہے لیکن راجیہ سبھا میں زیرالتوا ہے ۔مسٹر پرساد نے اس معاملہ پر اپوزیشن پارٹی کانگریس سے بی اپنا موقف واضح کرنےکو کہاہے ۔انھوں نے کہاکہ کانگریس رہنمااور ترقی پسند اتحاد کی چیئرمین سونیاگاندھی اپنی جس خاندانی روایت پر فخرکرتی ہیں انھیں واضح کرناچاہئے کہ کیاوہ اس بل کے ساتھ ہونگی۔جس طرح کانگریس نے لوک سبھا میں اس بل کیحمایت کی تھی اسی طرح اسے راجیہ سبھا میں بھی حمایت کرنی چاہئے ۔انھوں نے کہاکہ کانگریس یہ سوال کرتی ہے کہ جس کا شوہر باربار جیل جائیگا اسکا خاندان کھائیگا کہاں سے ۔میں پوچھنا چاہتاہوں کہ عورتوں پر مظالم ،جہیز کے لئے قتل اور دیگر جرائم کی پاداش میں جیل میں بند مسلم مردوں کی بیویاں بھی تو اسی حالت میں ہوتی ہیں ۔اس قانون کے تحت بھی صورتحال کوئی مختلف نہیں ہوگی ۔ مرکزی وزیر نے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے کہاکہ سال 2017اور 2018میں تین طلاق کے کم سے کم 389معاملہ ہوئے ہیں جن میں سے 229معاملے تین طلاق کے بارے میں سپریم کورٹ کے 22اگست 2017کے فیصلہ سے پہلے کے ہیں جبکہ 160اس کے بعد ہوئے ہیں ۔اس سے واضح ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد بھی تین طلاق کے معاملے رکے نہیں ہیں

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar