بہار

ماہر تعلیم سیّد ہاشم رضا کی رحلت پر اظہار تعزیت

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 11-August-2018

دربھنگہ(فضاامام) ۱۰؍اگست: ماہر تعلیم ، ممتاز شخصیت اور بانی ہیڈماسٹر آمنہ اردو ہائی اسکول، بیتیا (مغربی چمپارن) سیّد ہاشم رضا (ولادت:یکم دسمبر ۱۹۳۵ء، محلہ: قلعہ، بیتیا) کا انتقال گذشتہ ۴؍اگست ۲۰۱۸ء کو ۳ ؍بجے سہ پہر میں طویل علالت کے بعد ہوگیا اور ۴؍اگست ۲۰۱۸ء کو تکفین بعد نماز ظہر بڑی عیدگاہ قبرستان میں عمل میں آئی۔ جنازے میں خویش و اقارب کے علاوہ شہر کے معززین اور شاگردان کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور مغفرت کی دعا کی۔ مرحوم شہر کے کئی تعلیمی اداروں ملت اکیڈمی ، بسوَریا، یتیم خانہ بدریہ وغیرہ کے علاوہ فٹ بال ایسوسی ایشن سے بھی وابستہ رہے۔ نہایت نیک، ملنسار، دیندار انسان تھے۔ فٹ بالر بھی تھے۔ اخبار بینی اور کتب بینی سے بھی شغل تھا۔ کنبہ پروری کی بھی مثال تھے۔ ایک اچھے منتظم بھی تھے ۔ ان کے دو بڑے بھائی سید اظہار الحق اور سید سعید الحق (سابق پروکٹر ،رانچی یونیورسٹی) بہت پہلے دارفانی سے دار بقا کی طرف مراجعت فرماچکے ہیں۔ مرحوم کے والد بزرگوار بیتیا رجسٹری آفس کے رجسٹرار تھے۔ پسماندگان میں بیو ہ کے علاوہ دو بیٹیاں نزہت جہاں (لوسی) اور نصرت جہاں (نوشی) اور ان کے خویش ڈاکٹر انتصار الحق (سرجن) ہیں۔ ان کے ایک بے حد عزیز شاگرد مانو ریجنل سنٹر کولکاتا کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر امام اعظم نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ’’ ان کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پُر نہیں ہوسکے گا۔ ایسی شخصیتیں باربار پیدا نہیں ہوتیں۔ خاکسار کے والدمحمد ظفر المنان ظفر فاروقی بیتیا ٹائون تھانہ میں پولیس آفیسر (۱۹۷۰ء) تھے۔ انہوں نے میرا داخلہ آمنہ اردو مڈل اسکول، امام باڑہ، محلہ:قلعہ، بیتیا میں درجہ ہفتم میں کرایا۔میرے والد کا تبادلہ جب دور دراز کے تھانوں میں ہونے لگا تو ہم دو بھائی سید اعجاز حسن امام اعظم (امام اعظم) اور سید حلیم آلِ احمر اعظم(شرفو) کو میرے والد نے مرحوم ہاشم رضا صاحب کے حوالے کیا۔ انہوں نے بالکل اپنے بچوں کی طرح اپنے گھر ، اپنے لاج جہاں جیسی ضرورت پڑی رکھا اور خورد و نوش کا انتظام ان ہی کے یہاں رہا۔ مجھے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں کسی دوسری جگہ ہوں۔ گھر جیسا ماحول ملا۔وہ پرانی تہذیب اور پرانے اقدار کے حامل انسان تھے۔ان کے کنبے کے تمام افراد مجھے اعجاز کے نام سے پکارتے اور ان کے تمام رشتہ داروں سے میرے بھی روابط رہے۔ ان کی سسرال لودی کٹرہ، پٹنہ سٹی و دیگر رشتہ داروں کے یہاں بھی آمد و رفت رہی۔ ان کی اہلیہ اور گھر کے تمام لوگوں نے کافی پیار دیا۔ ۱۹۷۵ء میں میٹریکولیشن اور ۱۹۷۷ء میں آئی ایس سی ان کے یہاں رہ کر ہی کیا۔ اس کے بعد میرے والد کا تبادلہ بھوجپور ہوگیا ۔ پھر ہم دربھنگہ اپنے وطن چلے آئے جہاں سے آگے کی تعلیم ہوئی۔ میرا رسالہ ’’تمثیل نو‘‘ کا انہیں انتظار رہتا اور گاہے گاہے اپنی رائے بھی دیتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!‘‘ ان کے دیگر اہم شاگردوں میں سیّد نیر حسنین ، پروفیسر صفدر امام قادری ، ڈاکٹر نسیم احمد نسیم وغیرہ شامل ہیں۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar