ہندستان ہندوستان

مہاراشٹر بند کے دوران تشدد،کئی گاڑیاں نذر آتش

Written by Taasir Newspaper

Taasir Urdu News Network | Uploaded on 10-July-2018

اورنگ آباد: 9 اگست (یو این آئی) مراٹھاکرانتی مورچہ کی جانب ریزرویشن و دیگر مطالبات پر زور دینے کے لیے آج 9 اگست کا مہاراشٹرا بند ایک بار پھر پرتشدد رخ اختیار کر گیا۔بند کو پر امن طور پررکھنے کے اپیل کو مراٹھا نوجوانوں نے نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر حکومت کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار آتش زنی، توڑ پھوڑ اور شہروں میں زبردستی راستہ روک کر کیا۔اورنگ آباد کے صنعتی علاقہ والوج میں احتجاج کر رہے ہجوم نے تین چار کمپنیوں کے سیکورٹی کیبن میں توڑپھوڑ کی اور وہاں موجود اشیاء کو نقصان پہنچایا۔اس کے علاوہ وہاں پر موجود چارکاروں کی بھی توڑ پھوڑ کی۔ اس موقع پر پولیس پر بھی پتھراو کیا گیا اور ایک پولس جیپ کو آگ لگا دی گئی۔ موقع پر پہنچے پولیس کمشنر چرنجیو پرساد کی کار پر بھی وہاں موجود دو ہزار کے قریب ہجوم نے پتھراو کیا۔ ایک پرائیوٹ بس کو نقصان پہنچا نے کی کوشش کرنے والے افراد کو روکنے پر تین پولس والوں پر حملہ کردیاگیا جس میں وہ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ اس واقعہ کی رپورٹنگ کرنے والے دو صحافیوں پر بھی حملہ کیا گیا، جس میں ایک کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔صبح کے وقت اورنگ آباد میں ٹی وی سنیٹر کے قریب کھڑی ایک پرائیوٹ بس کو نا معلوم شرپسندوں نے آگ لگا دی۔ ہنگولی ضلع کے شین گاوں میں ایک اسکول بس کو جلادیا گیا۔ناندیڑ کے قریب تروپتی ایکسپرس ٹرین پر پتھراو کیا گیا۔ بیڑ ضلع کے کیج مقام پر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے پتلے کی علامتی طور پر ‘ انتم یاترا ‘ نکالی گئی۔ بیڑ ضلع کے امبہ جوگائی مقام پر ایک فربہ بھینسہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا، جس بڑے بڑے حرفوں میں ‘ میں سرکار ‘ لکھا تھا۔اورنگ آباد میں بعض علاقوں میں اسکوٹرس اور موٹر سائکل سوراروں کو بھی راستہ سے گزرنے نہیں دیا گیا۔چکل ٹھانہ علاقہ میں ایک نجی اسپتال جانے والی ایک مسلم خاتون کو واپس اپنے گھر لوٹنا پڑا۔حالانکہ اسپتال اور دیگر ضرروی خدمات کے شعبوں کو بند سے مستنثی رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اورنگ آباد میں وکلاء نے ‘ایک مراٹھا لاکھ مراٹھا نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالا اور ضلع کلکٹر کو ایک میمورنڈم دیا۔ اس موقع پر وکلاء کے ایک نمائندے نے کہا کہ ہمارے ساتھ پورا سماج ہے،مسلم اوردلت وکلاء بھی ہمارے ساتھ ہیں۔آج دن بھر دھرنے اندولن کے درمیان مراٹھواڑہ بھر میں مختلف مقامات پر مسلم نوجوانوں نے بطور اظہار یگانگت و یکجہتی مراٹھاسماج کے افراد کے لیے پینے کے پانی اور چائے ناشتے کا انتظام کیا گیاتھا۔احتیاطی تدابیر کے پیش نظر مراٹھواڑاہ اور دیگر اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں کالجوں اور دیگر تمام تعلیمی ادارے کو ایک دن بند رکھنے احکامات دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام عدالتوں میں بھی کام کاج متاثر رہا۔ ایس ٹی بس خدمات بھی توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے خدشہ سے مکمل بند رکھی گئی تھیں۔مراٹھوڑہ کے تمام ہی اضلاع کے بشمول دیگر کئی مقامات پر چھوٹے چھوٹے دیہاتوں اور گاوں میں بازار دکانیں اور کارخانے وغیرہ بند رہے، آمدورفت مکمل طور پر متاثر ہوئی، تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے اور سڑکوں پر ٹائر اور دیگر اشیاء جلا کر راستہ جام کیا گیا۔ لوگوں نے راستوں پر ہی دسترخوان بچھائے، اور گھنٹوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ گاوں اوردیہاتوں میں لوگ اپنے جانورں اور بیل گاڑیوں کے ساتھ راستوں پر بیٹھ ہو گئے۔سیاسی لیڈروں کو نوجوانوں کے غصہ کا شکار ہونا پڑا۔ اورنگ آباد میں کانگریس، شیو سینا اور بی جے پی کے خلاف نعرے بازی کر رہے مراٹھا نوجوانوں نے شیو سینا کے ضلع صدر امبہ داس دانوے کے ساتھ دھکامکی کی گئی،اور اس مو قع پر شیو سینا کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی جس سے دو گروپوں کے درمیان کچھ دیر تناو کی کیفیت رہی۔واضح رہے کہ آج 9 اگست کو مراٹھا کرانتی دن کے موقع پر مہاراشٹرا کو مکمل بند رکھنے اور دن بھر دھرنے اندولن کرنے کا فیصلہ مراٹھا کرانتی مورچہ کی جانب سے مراٹھا کرانتی مورچہ کے قائدین اور دیگر ذمہ داروں نے کیاتھا۔ مراٹھا سماج کو ریزرویشن دیئے جانے کے مطالبہ پر زور دینے کے لیے یہاں ایک خصوصی مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھا۔اور اسے پر امن منانے کا اعلان کیا تھا مگر یہ بند پر تشدد رخ اختیار کرگیا۔

About the author

Taasir Newspaper