راکی کی خودسپردگی ، جیل بھیجا گیا

گیا 29 اکتوبر (یو این آئی) بہار کے سرخیوں میں چھائے آدتیہ سچدیوا قتل کے اہم ملزم راکیش رنجن عرف راکی یادو نے آج مقامی عدالت میں خود سپردگی کر دی جس کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا۔سپریم کورٹ سے کل ضمانت منسوخ ہونے کے بعد راکی یادو نے آج ایڈیشنل ضلع و سیشن جج کی عدالت میں خود سپردگی کر دی ۔ اس کے بعد اسے عدالتی حراست میں لیتے ہوئے سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔سپریم کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد کل ہی پولیس اسے گرفتار کرنے کے لئے اے پی کالوني واقع اس کی رہائش گاہ پر گئی تھی لیکن راکی کے گھر پر موجود نہ رہنے کی وجہ سے پولیس کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا تھا۔ واضح رہے کہ سات مئی کی رات راکی اپنی نئی لینڈ روور کار سے کہیں جا رہا تھا۔ ان کی گاڑی کو آگے نکلنے کے لئے جگہ نہ دینے کی وجہ سے آدتیہ سچدیوا اور اس کے دوستوں کے ساتھ اس کی بحث ہوئی اور اسی دوران مبینہ طور پر راکی نے آدتیہ کو گولی مار دی جس سے اس کی موت ہو گئی۔ اس معاملے میں 10 مئی کو پولیس نے راکی کو گرفتار کر لیا تھا۔ اسی معاملے میں 19 اکتوبر کو پٹنہ ہائی کورٹ نے راکی کو ضمانت دے دی تھی۔ اس کے بعد بہار حکومت نے ضمانت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جس پر کل عدالت نے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد راکی یادو کی ضمانت کو منسوخ کر دیا اور اسے فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا۔