عوامی صحت کا سوشل ورک سے تعلق کے موضوع پر اردو یونیورسٹی میں لکچر

حیدرآباد، 6 فروری (پریس نوٹ) در اصل انسانی زندگی کی بیشتر بیماریوں کا تعلق لوگوں کی سماجی اور معاشی حالات سے ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر کئی بیماریاں گندگی سے ہوتی ہیں۔ کچھ بیماریاں غذاﺅں اور پانی سے متعلق ہوتی ہیں۔ اس لیے غریب اور پسماندہ افراد اکثر ان کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پرفیسر زبیر مینائی شعبہ سوشل ورک ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے 3 فروری کو مولاناآزاد نیشنل اردو ، شعبہ سوشل ورک کی جانب سے منعقدہ ”عوامی صحت کا سوشل ورک سے تعلق“ کے موضوع پر توسیعی لکچر میں کیا۔
مہمان پروفیسر نے وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے جنم لینے والی پریشانیوں کا ذکر کیا۔ اسی ضمن میں انہوں نے سماجی کارکنان کے رول کو واضح کیا اور کہا کہ ہمیں انسانی حقوق اور سماجی انصاف پر مبنی اس پیشہ کے فلسفہ کو برقرار رکھتے ہوپئے لگا تار عوامی صحت کے لیے فکر مند رہنا چاہیے اور اس سمت میں تعمیری کام کرنے پر زور دینا چاہیے۔پروفیسر مینائی نے سوشل ورک میں تربیت اور مہارتوں کے پہلوو¿ں پر کافی زور دیا اور کہا کہ سماجی مسائل اور کمیونٹی کی موجودہ ضروریات کے حل کے سلسلے میں اس پیشہ کے طلبہ و معلمین کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔
شعبہ صدر ڈاکٹر محمد شاہد رضا نے مہمان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے عصری تقاضوں اور سوشل ورک پروفیشن کی مداخلت پر زور دیا۔ ڈاکٹر رضا نے سال آخر کے طلبہ کو مشورہ دیا کہ انہیں اس موضوع پر کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں سے جڑنا چاہیے۔
جناب محمد اسرار عالم، اسسٹنٹ پروفیسر نے مہمان خصوصی پروفیسر زبیر مینائی کا استقبال کیا اور ان کا مختصرا تعارف پیش کیا۔ پروگرام میں ڈاکٹر آفتاب عالم ، جناب ابو اسامہ ، ڈاکٹر رفت آرا اور ریسرچ اسکالرز نے بھی شرکت کی اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی ۔