پہلے مسلم ملک کامریخ پر پہلا انسانی شہر بسانے اعلان

متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی نے ’’مارس 2117‘‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت آئندہ 100 سال میں مریخ پر پہلا انسانی شہر آباد کیا جائے گا۔اگرچہ مریخ پر انسانی بستیاں بسانے کے حوالے سے یہ کوئی پہلا منصوبہ ہرگز نہیں لیکن یہ پہلا موقع ضرور ہے جب کسی مسلم ملک کی جانب سے اس طرح کا کوئی اعلان سامنے آیا ہے ورنہ اب تک اس معاملے میں امریکی، روسی، چینی، بھارتی اور یورپی اداروں اور افراد کے نام ہی سامنے آتے رہے ہیں۔متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی 2014 میں قائم کی گئی تھی اور اپنے ابتدائی 2 سال ہی میں خلائی تحقیق کے مختلف منصوبے پیش کر چکی ہے تاہم ’’مارس 2117‘‘ اس کا اب تک کا سب سے بڑا، طویل مدتی اور ممکنہ طور پر سب سے مہنگا منصوبہ ہے۔ منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مریخ پر خودکار کھوجی (پروبز) بھیجے جائیں گے جب کہ دوسرے ملکوں کی تحقیقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مریخ پر انسانی شہر کے لیے موزوں ترین مقام کا تعین کیا جائے گا۔ اس بارے میں ریاست ابوظہبی کے فرمانروا اور متحدہ عرب امارات کے صدر، شیخ خلیفہ بن زائد النہیان کا کہنا تھا کہ مریخی کھوجی، خلائی تحقیق کے عہد میں اسلامی دنیا کی ا?مد کے نمائندہ ہوں گے۔ ’’مارس 2117‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے دوسرے ممالک سے بھرپور مشاورت اور رہنمائی حاصل کی جائے گی۔فی الحال متحدہ عرب امارات کی نوزائیدہ خلائی ایجنسی کے پاس ایسی مقامی افرادی قوت موجود نہیں جو اتنے بڑے منصوبے کی ذمہ داریاں پوری کر سکے اس لیے قوی امکان ہے کہ اسے کم از کم آئندہ 50 سال تک غیرملکی ماہرین کی خدمات درکار ہوں گی جب کہ اسی دوران مقامی سطح پر تربیتی اور تحقیقی منصوبوں کے ذریعے ایسے مقامی افراد تیار کرنا ہوں گے جو ’’مارس 2117‘‘ کے علاوہ اس نوعیت کے کسی بھی دوسرے بڑے خلائی منصوبے کو کامیابی سے ہم کنار کروا سکیں۔ علاوہ ازیں اس وقت صرف مریخ تک پہنچنا ہی ایک بڑا مسئلہ ہے جب کہ وہاں انسانی بستیاں بسانا بہت دور کی بات ہے کیونکہ یہ ایک ایسی منزل ہے جو آج تک دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک کی پہنچ سے بھی بہت دور ہے۔اگرچہ متحدہ عرب امارات نے اپنے مجوزہ مریخی شہر کی خیالی تصاویر اور اینی میٹڈ ویڈیوز ضرور جاری کر دی ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس منصوبے کو کس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا اور مرحلہ وار پیش رفت کے ساتھ کیسے بروقت مکمل کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی خلائی ایجنسی نے اس بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔