چینی مل کے گیٹ پر دو کسانوں نے کی خود سوزی کی کوشش

مشرقی چمپارن، 10اپریل (محمد ارشد)۔ ایک طرف تو پورے ملک میں سرکاری دفاتر سے لیکر پرائیوٹ سطح پر چمپارن ستیاگرہ شتابدی سال کے جشن منائے جارہے ہیں تو دوسری جانب اس شتابدی سال میں بھی کسانوں کو ان کا حق نہیں دیا جارہا ہے۔اور کسانوں کی فلاح و بہبود کی بات تو درکنار انہیں اپنے حقوق کے مطالبہ کرنے پر پولس کے مظالم برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔جس کی وجہ سے اس شتابدی سال میں بھی کسانوں نے اپنے آپ پر پیٹرول چھڑک کر آگ کے حوالے کر نے کی کوشش کی ہے۔واضح رہے کہ چمپارن ستیاگرہ شتابدی سال پر پورے ملک میں خاص طور سے بہار میں جس طرح سے جگہ جگہ شتابدی سال پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور اس پر ہزاروں لاکھوں روپئے خرچ ہو رہے ہیں اگر سرکار چاہتی تو لا چار اور مجبور ستیا گرہ کسانوں کے قرض کو معاف کر کے ستیاگرہ شتابدی سال مناتی۔اور چینی میل کسانوں کے بقایہ کو واپس کر کے یا چینی میل مالکان سے مزدوروں کو ان کے بقایہ رقم کو دلوا کو بھی پروگرام کو مزید کامیاب بنایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ ہمیں کا غذوں میں کا م دیکھنے کی زیادہ اور زمینی سطح پر کام کے ہونے کی عادت کم پڑ گئی ہے۔مذکورہ باتیں آج چینی میل موتیہاری کے گیٹ پر مظاہرہ کر رہے کسان مظاہرے کے دوران کہہ رہے تھے ۔اس دوران کسانوں کا کہنا تھا کہ انگریزوں کے ظلم سے تو کسانوں اور ہندوستان کے باشندگان کو نجات مل گئی ہے لیکن ایک مرتبہ پھر ہندوستان کے کسان سرکاروں کی سوتیلے رویہ کے زد پر ہے۔مظاہرہ کر رہے کسانوں کا کہناتھا کہ ٹھیک آج سے ۱۰۰ سال پہلے باب قوم مہاتما گاندھی چمپارن کی سرزمین پر آئے تھے اور آج ہی کے دن ۱۰ اپریل کو گاندھی جی مظفر پور پہنچے تھے جہاں سے وہ موتیہاری کے لئے چلے تھے۔اس دن اور اس سال کو کامیاب بنانے کے لئے مرکزی سرکار سے لیکر ریاستی سرکار سمیت مختلف منجمنٹ کمپنی کے سہارے یاد گار اور تاریخی دن کے ساتھ ساتھ اپنی شان کو چمکانے میں مصروف ہیں۔اتنا ہی نہیں چمپارن کے ڈی ایم نے مختلف لیڈران اور دانشوروں کی ایک فہرست بنائی ہے اور آئندہ ۱۷ اپریل کو وزیر اعلیٰ چمپارن دورے پر بھی آنے والے ہیں ایسے میں آج ہونے والے موتیہار ی میں کسانوں پر مظالم کو لیکر ہر ایک پولس انتظامیہ کے رویہ سے ناراض ہے۔ وہیں آج کے ہی دن سالوں سے موتیہاری میں بند پڑی چینی میل کھلوانے ،کسانوں اور مزدوروں کی کروڑوں کی بقایہ رقم کی ادائیگی کے لئے مطالبات کو لیکر موتیہاری چینی میل کے گیٹ پر دو کسانوں نے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے اور انہوں نے پیٹرول چھڑک کر اپنے آپ کو آگ کے حوالے کر دیا۔خود کشی کرنے والے کسانوں میں سورج بیٹھا اور نریش سریواستو کے اسماء شامل ہیں پیٹرول چھڑک کر اپنے آپ کو آگ کے حوالے کرنے کی وجہ سے نریش بیٹھا ۹۰ فیصد تو سورج بیٹھا ۵۰ فیصد جھلس گئے ہیں جنہیں ابتدائی اعلاج کے لئے موتیہاری کے سب سے بڑے اسپتال رحمانیہ میں داخل کرایا گیا جہاں سے ڈاکٹروں نے پٹنہ ریفر کر دیا ہے۔تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہی کسان جو اپنی مزدوری کے لئے ۲۰۰۲ سے انتظامیہ سے لیکر عدالت تک کا سہارا لے چکے ہیں عدالت نے چینی میل مالک کے اراضی کو فروخت کر کے کسانوں کے بقایہ کی ادائیگی کا حکم بھی دے دیا ہے۔لیکن انتظامیہ کی تساہلی اور کسانوں کے تئیں برتے جارہے دہرے رویہ کی وجہ سے انہیں عدالت کی جانب سے جاری کر دہ حکم کے باوجود انصاف نہیں مل سکا ہے۔آج چینی میل کے کسان سڑک پر آتش زنی کر رہے تھے اسی دوران پولس اور مظاہرہ کے ماں بین چھڑپ ہوگئی۔جس کے بعد پولس نے نہتھے کسانوں پر لاٹھیاں برسانی شروع کر دی۔آنسو گیس چھوڑے گئے بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لئے گولیاں بھی چلائی گئی جس کے بعد مظاہرہ اور بھی پر تشدد ہوتا گیا۔کسانوں اور پولس والوں کے مابین سنگ باری شروع ہوگئی جس کے بعد کئی کسانوں کو چوٹیں بھی لگی ہیں۔تادم تحریر کسانوں اور پولس کے مابین سنگ باری کا سلسلہ شروع تھا حالات کو دیکھتے ہوئے ضلع پولس انتظامیہ نے پورے ضلع کے تمام تھانوں کی پولس اور تمام تھانہ انچارجوض کو موقع پر طلب کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے موتیہاری چینی میل کا علاقہ پوری طرح سے پولس چھاونی میں تبدیل ہوگیا۔اس بابت ضلع مجسٹریٹ انو پم کمار نے بتایا کہ کسانوں کا دھرنا کئی روز سے چل رہا تھا گذشتہ کل بات کرنے کے لئے بھی کچھ لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا۔لیکن کچھ لوگوں کے بہکاوے میں آکر اس طرح کی حرکت کو انجام دیا گیا ہے حالات پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔وہیں ایس پی جتندر رانا نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے پولس کی گاڑیوں پر حملہ کیا گیا ساتھ ہی بھیڑ کو اکسایا جارہا تھا ۔جس کے بعد پولس نے قابو پانے کے لئے تین راؤنڈ ہوائی فائرنگ کی اور سال لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔جب کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس کی جانب سے ۶ راؤنڈ گولیا چلائی گئی ہیں۔اس حادثے کے بعد ضلع میں ستیاگرہ شتابدی پروگرام کی خوشی غمی میں تبدیل ہوتی دیکھائی دے رہی ہے کسانوں کے لئے چمپارن ستیاگرہ کے اس شتابدی سال پر کسانوں اور مزدوروں کا یہ قدم انتظامیہ اور سرکار کا کسانوں کے تئیں کیا سلوک ہے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔جب کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپنے تمام کی شروعات چمپارن کی سرزمین سے ہی کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کسانوں اور مزدوروں کے جائز مطالبات پر ریاستی سرکار خاموشی کیوں اختیار کر رہی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق پولس اور مظاہرین کے بیچ چھڑپ کے بعد پولس انتظامیہ نے بچے ،ضعیف، خواتین اور کسانوں کو دورا دورا کر پیٹاہے۔اتنا ہی نہیں لگاتار کئی سالوں سے کسان ملک کے مختلف حصوں میں اپنے حقوق کے بازیابی کے لئے مظاہرہ کررہے ہیں جتنی محنت وہ کرتے ہیں انہیں اس کا نصف حصہ بھی نہیں مل رہا ہے۔ایسے میں سرکار کی جانب سے کسانوں کی بہتری کے خاطر کیا جانے والا دعویٰ پوری طرح سے کھوکھلا ثابت ہورہا ہے۔