کلبھوشن معاملے پر ہندوپاک میں تنا تنی

نئی دہلی 11 اپریل (یو این آئی) حکومت نے بے گناہ ہندوستانی شہری کلبھوشن یادو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے آج پاکستان کو سخت وارننگ دی کہ اگر اس پر عمل کیا گیا تو یہ منصوبہ بند قتل ہوگا اور پڑوسی ملک کو باہمی تعلقات کے حوالے سے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔اس کے جواب میں پاکستان نے بھی صاف طور پر کہہ دیا کہ اس معاملے میں کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نپٹنے کیلئے پاکستانی فوج پوری طرح تیار ہے۔ بحریہ کے ریٹائرڈ افسر جادھو کو پاکستان کی ایک فوجی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے سخت مذمت کی اور کہا کہ انصاف کے فطری عمل اور اقدار کی مکمل طورپر خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک معصوم شخص کو سزا سنائی گئی ہے ۔اراکین کی جانب سے تشویش کے اظہار کے بعد وزیر خارجہ سشما سوراج نے دونوں ایوانوں میں دیئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ پورا ملک جادھو کے تعلق سے فکر مند ہے اور ان کو بچانے کے لئے حکومت ہر قدم اٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بے گناہ ہندوستانی شہری کو غلط طریقے سے پھنسانے کی کوشش کی ہے ۔ اگر پاکستان جادھو کو پھانسی کی سزا دیتا ہے یہ منصوبہ بند قتل ہوگا۔ پاکستان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو پڑوسی ملک کو باہمی تعلقات کے حوالے سے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ دہشت گردی کے سبب الگ تھلگ پڑا پاکستان بین الاقوامی برادری کی توجہ بٹانے کے لئے الٹے ہندستان کو بدنام کرنے کی کوشش کے تحت اس طرح کے کام کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پورے ایوان نے ہمدردی، غصہ اور تشویش کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا ہے ۔ حکومت اراکین کی فکر مندی سے اتفاق کرتی ہے ۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ مسٹر جادھو کو بچانے کے لئے جو بھی کرنا ہوگا کیا جائے گا۔ وہ نہ صرف اپنے ماں باپ کا بیٹا ہے بلکہ ملک کا بھی بیٹا ہے ۔ ان کے اہل خانہ کو پورا تعاون دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے بتایا جادھو ایران میں کاروبار کرتے تھے ۔ انہیں اغوا کرکے پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ ہندستانی مشن کے حکام کو ان سے ملنے دینے کے لئے پاکستان سے 13 بار درخواست کی گئی لیکن ایک بار بھی اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل طور پرخلاف ورزی ہے ۔محترمہ سوراج نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے جادھو کو موت کی سزا سنائے جانے کے بعد وہاں کے محکمہ خارجہ نے ہندستانی سفارت خانہ کو خط بھیج کر جادھو سے مشروط رابطہ کی اجازت ہے ۔محترمہ سوراج نے بتایا کہ یہاں تک کہ پاکستان کے ایک سینئر لیڈر بھی اس معاملے میں کافی شواہد ہونے پر شبہ ظاہر کر چکے ہیں۔اس سے پہلے لوک سبھا میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے نے کہا کہ مسٹر جادھو کو پھانسی دینے کا پاکستانی فوجی عدالت کا فیصلہ سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے اور حکومت کو اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے نشی کانت دوبے نے اسے پاکستان کی اوچھی حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اس کے خلاف متحد ہے ۔راشٹریہ جنتا دل کے جے پرکاش نارائن یادو نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا کارخانہ چلا رہا ہے اور اس کے رویے میں بہتری آنے والی نہیں ہے ۔ وہ معصوم ہندوستانی شہری کو پھانسی کی سزا سنا رہا ہے اور اپنے یہاں محمد حافظ جیسے دہشت گردوں کو پال رہا ہے ۔ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے کہا کہ پاکستان کے پاس مسٹر جادھو کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھے اس لئے وہ معاملے کو فوجی عدالت میں لے گیا۔انہوں نے اسے پاکستان کی طرف بدلے کے جذبے سے کی گئی کارروائی قرار دیا ۔شیوسینا کے ونایک راوت نے مسٹر جادھو کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد ہندستان میں اس کے قیدیوں کو رہا کرنے پر فی الحال روک لگانے کے حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔راجیہ سبھا میں سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے یہ معاملہ اٹھایا اور حکومت سے جواب کا مطالبہ کیا۔ ان کی حمایت کئی دیگر اراکین نے بھی کی۔ ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ یہ معاملہ پارٹی کا نہیں بلکہ ملک کا ہے اور اس پر سب کو متحد رہنا چاہئے ۔