تقرری

40 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت:جیٹلی

Written by Dr.Mohammad Gauhar

نئی دہلی، یکم اپریل (یو این آئی) وزیر مالیات ارون جیٹلی نے آج کہا ہے کہ ہندوستان کو آئندہ پانچ برس میں بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں 40 لاکھ کروڑ روپئے یعنی 646 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور اس میں نیو ڈیولپمنٹ بینک (این بی ڈی) کثیر سطحی تنظیموں کے لئے بہت امکانات ہیں۔مسٹر جیٹلی نے برازیل ، روس ، چین اور جنوبی افریقہ کی تنظیم برکس کی جانب سے 2015 میں شروع کئے گئے این بی ڈی پر یہاں چل رہی تین روزہ دوسری سالانہ میٹنگ میں کہا کہ ہندوستان کو بنیادی ڈھانچہ میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ ان میں سے 70 فیصد سرمایہ کاری بجلی ، سڑک اور شہری بنیادی سہولیات کے لئے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سرمایہ کاری کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں این بی ڈی جیسے کثیر سطحی مالی تنظیموں کے لئے بہت امکانات ہیں۔انہوں کہا کہ چیلنجوں کے اس دور میں بھی ہندوستان دنیا کی سب سے تیز رفتار سے بڑھنے والی معیشت بنا ہوا ہے ۔ بین اقوامی زرفنڈ کے اس سال جنوری میں جاری کئے گئے اندازوں کے مطابق 2016 میں ہندوستان کی معاشی ترقی کی شرح 6 اعشاریہ 6 فیصد 2017 میں 7 اعشاریہ 2 فیصد اور 2018 میں 7 اعشاریہ7 رہنے کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے کرنسی بدلنے کی دنیا کی سب سے بڑی مہم نوٹ بندی کے ساتھ ہی کئی اہم سدھار کئے ہیں۔ نوٹ بندی سے جہاں ملک کو کیش لیس (بے نقدی) معیشت میں بدلنے میں مدد ملے گی وہیں ٹیکس کی ادائیگی میں بھی اضافہ ہوگا اور نقلی نوٹوں کے خطروں کو بھی کم کیا جاسکے گا۔وزیر مالیات نے کہا کہ ریل بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کرنے کے ساتھ ہی تاریخی اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) قانون منظور کیا گیا ہے ۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہل بنایا گیا ہے اور کئی دیگر اصلاحات بھی کی گئی ہیں تاکہ ہندوستان کو پرکشش بنانے کی صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ہی عالمی سطح پر یہ ملک زیادہ مقابلوں کے لائق بن سکے ۔مسٹر جیٹلی نے کہا کہ این بی ڈی نے ہندوستان میں بنیادی ڈھانچہ میں مدد شروع کردی ہے اور اسی کے تحت اس نے مدیہ پردیش میں سڑکوں کی تعمیر کے لئے قرض دینے کے قرار پر دستخط کئے ہیں۔ این بی ڈی کی فنڈنگ سے دو ارب ڈالر کے پروجیکٹوں کی تجویز ہے ۔انہوں نے کہا کہ این بی ڈی کے تعاون سے اسمارٹ سٹی۔ جدید ترین توانائی، شہری ٹرانسپورٹ، میٹرو ریل، صاف ستھری کوئلہ ٹکنالوجی، ٹھوس کچرے کو ٹھکانے لگانے کا نظم اور شہری پانی کی سپلائی کے شعبہ میں کئی پروجیکٹ شروع کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این بی ڈی کے گورنروں کو بینک کی پانچ سالہ ٹیکس حکمت عملی پر بحث کرنی چاہیے جس میں بینک کا سرمایہ ، قرض اور رکنیت میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔ این بی ڈی کو تیز رفتار سے قرض منظور کرنے ، قرض کی لاگت کم رکھنے کے لئے تنظیم کو چھوٹا رکھ کر مقامی کرنسی میں قرض وغیرہ پر کام کرنا چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ این بی ڈی نئی تنظیم ہونے کے ساتھ ہی ایک علیحدہ تنظیم بھی ہوگی۔ اس سے نہ صرف سستے قرض کی امید کی جارہی ہے بلکہ وہ ایسا کرکے دوسرے مالی اداروں کے لئے ماڈل بن سکتی ہے ۔

About the author

Dr.Mohammad Gauhar

Chief Editor - Taasir