تین طلاق کا رواج ختم نہیں ہوا تو قانون بنا سکتی ہے حکومت : نائیڈو

امراوتی،20مئی(آئی این ایس انڈیا)مسلم کمیونٹی اگرتین طلاق کے رواج کوتبدیل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو حکومت قدم اٹھا سکتی ہے اور اس پرپابندی لگانے کے لئے قانون بنا سکتی ہے۔نائیڈو نے یہاں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسئلے کو دیکھنا معاشرے پر انحصار کرتا ہے اوراچھا ہو گا۔ اگر(مسلم)سماج خود ہی اس رواج کوبدل دے۔دوسری صورت میں ایسی صورت ابھرے گی کہ حکومت قانون(تین طلاق پرپابندی لگانے کا)لے آئے گی۔مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہاکہ یہ کسی کے ذاتی معاملے میں مداخلت کرنا نہیں ہے بلکہ خواتین کے لئے انصاف کا سوال ہے۔تمام خواتین کو مساوی حقوق ہونے چاہئیں۔قانون کے سامنے مساوات کامسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندو سماج میں بھی بچوں کی شادی، ستی اور جہیز جیسی بری طریقوں کو ختم کرنے کے لئے قانون بنائے گئے۔مرکزی وزیرنے کہاکہ ہندوسماج نے بچوں کی شادی پر بحث کی اور اس پر پابندی لگانے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون منظورکیاگیا۔دوسرا ہے ستی جس میں قدیم دور میں شوہر کی موت کے بعد بیوی موت کو گلے لگا لیتی تھی۔اسے ہندو سماج نے ہی قانون بنا کر بند کیا۔تیسری جہیز کا معاملہ ہے۔جہیز کے خاتمے قانون منظور کیا گیا اورہندو ماج نے اسے قبول کیا۔انہوں نے کہاکہ جب لگا کہ اس طرح کی پریکٹس معاشرے کی بھلائی کے خلاف ہے تو ہندوسماج نے ان پر تبادلہ خیال کیا اور ان میں بہتری ہوئی۔کچھ اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس سمت میں کوشش کی جانی چاہئے۔