Uncategorized

موسم گرما جان بھی لے سکتا ہے

Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

اگر مؤثر تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرما بیشتر امراض کا سبب بن کر جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔لْولگنا،بھوک کی کمی،سرکا درد،صفر اوی بخار،گھبراہٹ،خفقان،ٹائیفائڈ،اسہال وغیرہ جیسے امراض اسی موسم میں لاحق ہوتے ہیں۔موسم گرما میں کولا مشروبات کے بجائے دودھ یا دہی کی لسی،بزوری،صندل،فالسے،نیلو فر کا شربت اور لیموں پانی پینا چاہیے۔
اگر مؤثر تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرما بیشتر امراض کا سبب بن کر جان لیوا بھی ہوسکتا ہے۔لْولگنا،بھوک کی کمی،سرکا درد،صفر اوی بخار،گھبراہٹ،خفقان،ٹائیفائڈ،اسہال وغیرہ جیسے امراض اسی موسم میں لاحق ہوتے ہیں۔موسم گرما میں کولا مشروبات کے بجائے دودھ یا دہی کی لسی،بزوری،صندل،فالسے،نیلو فر کا شربت اور لیموں پانی پینا چاہیے۔تازہ پھل اور گوشت کھانا چاہیے۔بازار کی تیار شدہ غذاؤں کے بجائے گھر کے پکے ہوئے کھانے کھانا مفید ہے۔شدید دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں۔اگر بہت ضروری کام سے نکلنا ہوتا سادہ پانی،نمکین لسی یا لیموں پانی پی کر سرا اور گردن پر کوئی کپڑا ڈال کر نکلیں۔
اس موسم میں سوتی ملبوسات پہننا زیادہ بہتر ہے۔جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔موجودہ دور میں جو آلودہ پانی میسر ہے،اسے ہمیشہ خوب اْبال کر ہی پینا چاہیے۔بعض پھل مثلاََ خوبوزہ،تربوز اور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں۔پھل اور سبزیاں تازہ خریدیں اور انہیں اچھی طرح دھو کر کھائیں۔گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئی پھل نہ کھائیں۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت یا باسی کھانے ہرگز نہ کھائیں۔کھانا ہمیشہ تازہ اور بھوک رکھ کر کھائیں،اس لیے کہ ذرا سی بے احتیاطی آپ کو اسہال ،ہیضے میں مبتلا کرسکتی ہے۔
اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہ سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہوجاتی ہے،لہذا اس کمی کو پورا کرنے کے لئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین پینا بہت مفید ہے۔اسی طرح سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریاں دور کرنے کا بہترین علاج ہے۔ہیضے سے بچنے کے لئے سِرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کھانا مفید ہے۔سِرکہ خون صاف کرتا ہے اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے۔
پیاس بْجھاتا ہے۔جسم کی حرارات کو اعتدال پر رکھتا ہے۔غذا کو جلد ہضم کرتا ہے۔اس کے علاوہ جسم سے فاسد اور غلیظ مادّوں کے اخراج میں مدد کرتا ہے۔اگر غذائیں منتخب کرنے اور کھانے میں احتیاط کی جائے اور حفظِ صحت کے اصولوں پر عمل کیا جائے تو یقیناًہم موسم گر ما میں لاحق ہونے والے جان لیوا امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ہفتے میں دو مرتبہ مچھلی کھانے سے جوڑوں کے درد میں نمایاں کمی
بوسٹن: گٹھیا اور جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد اگر ہفتے میں دو مرتبہ تیل دار مچھلی (آئلی فش) کھائیں تو اس سے جوڑوں کی تکلیف اور سوجن میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔بوسٹن میں برگھم اینڈ وومن ہاسپٹل کی ماہر ڈاکٹر سارہ ٹیڈیشی کا کہنا ہے کہ اگر مچھلی کھائی جائے تو اس کا فائدہ بھی سپلیمنٹ کے برابر ہوتا ہے اور اس کی شناخت کے لیے انہوں نے کئی تجربات بھی کئے جس میں انہوں نے اصل مچھلیوں میں موجود فیٹی ایسڈ سے قدرے زائد مقدار مریضوں کو دی۔ یہ تجربات 176 مریضوں پر کیے گئے اور انہیں کچھ ہفتوں تک مچھلی یا اومیگا تھری دی گئی تو ان کے مرض کی شدت میں واضح کمی ہوئی۔ مچھلی کے تیل کے استعمال سے بھی مرض کی شدت کم ہو سکتی کیونکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ ایک مرض ریوماٹائیڈ آرتھرائٹٹس ( گٹھیا کی ایک قسم) میں جسم کا قدرتی دفاعی امنیاتی نظام بگڑ جاتا ہے اور ہڈیوں کے جوڑوں پر حملہ آور ہو کر درد ، سوزش اور سوجن کی وجہ بنتا ہے جب کہ پاکستان میں لاکھوں مریض اس کے شکار ہیں۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ جوڑوں کے درد اور آرتھرائٹس میں مبتلا افراد اگر مچھلی کھانے کی عادت اپنائیں تو اس سے بہت فائدہ ہو گا۔

About the author

Taasir Newspaper

Taasir Newspaper