بنگلور

بنگلور میں پاپولرفرنٹ کے ’ہمیں بھی کچھ کہنا ہے‘موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں ایک لاکھ سے زائدافراد کی شرکت

Written by Taasir Newspaper

بنگلور16اکتوبر ( پریس ریلیز)۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی ملک گیر مہم ’ہمیں بھی کچھ کہنا ہے‘کے تحت کیرلا کے شہر تروننداپورم،تمل ناڈو کے مدورائی اورچنئی شہر میں انعقاد کئے گئے عظیم الشان کانفرنس کے بعد ریاست کرناٹک بنگلور شہر کے پیالس گراﺅنڈ میں عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، کانفرنس کے میدان کو حال ہی میں فرقہ پرستوں کے ذریعے گولی ما ر کر قتل کی گئی کرناٹک کی مشہور صحافی و سماجی کارکن گوری لنکیش کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔اس کانفرنس میں ریاست کرناٹک کے تمام اضلاع سے خواتین سمیت ہزاروں کی تعداد میں عوام اور کارکنان نے شرکت کی۔ پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے ریاستی صدر محمد ثاقب کی صدارت میں ہوئے اس کانفرنس میں پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے قومی چیئرمین ای ۔ ابوبکر نے کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزی بی جے پی حکومت اور اس کے ماتحت کام کررہی این آئی اے جیسی ایجنسیاں اور اقلیتوں سے تعصب برتنے والی چند میڈیا گھرانوں کے ذریعے پاپولرفرنٹ کی سماجی سرگرمیوںکو روکنے کے لیے بے بنیاد الزامات اور قیاس آرائیوں کے ذریعہ پاپولرفرنٹ پر پابندی عائد کرنے کی کوششوںمیں لگی ہوئی ہیں۔ جس کا تنظیم جمہوری و قانونی طریقوں سے مقابلہ کررہی ہے۔ فرقہ پرست جماعتوں کے ذریعے پاپولر فرنٹ کو دہشت پسند تنظیم قرار دینے کی کوششوں پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ای ۔ ابو بکر نے کہا پاپولرفرنٹ ہمیشہ سے مظلومین کی مدد کرنے کے لیے پیش پیش رہتی ہے اور تنظیم ہمیشہ اپنی سماجی خدمات جاری رکھے گی۔ انہوں نے مرکزی حکومت اور ایجنسیوں سے چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پاپولرفرنٹ اور دہشت گرد تنظیموں کے تعلقات کے جو الزامات لگائے جارہے ہیںاگر اس تعلق سے ایک بھی ثبوت ہے تو وہ تنظیم کو پیش کریں۔ جہاں تک آئی ایس آئی ایس سے پاپولر فرنٹ کو جوڑ کر جھوٹے الزامات لگایا جارہا ہے اس تعلق سے پاپولرفرنٹ نے شروع میں ہی اپنے کارکنوں کو اس بات سے آگاہ کرادیا تھا کہ آئی ایس آئی ایس ایک غیر اسلامی تنظیم ہے اور ہم نے آئی ایس آئی ایس کی دہشت گردی کی مذمت میں بھی پہل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاپولرفرنٹ ہمیشہ فسطائی نظریات کی مخالفت کرتی آرہی ہے جس سے مرکزی حکومت برہم ہے اور سرکاری ایجنسیوں کا استعمال کرکے پاپولرفرنٹ کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوںنے اس بات کی طرف زور دیتے ہوئے کہا ہم کھبی بھی ہمارے ملک سے غداری نہیں کرسکتے ۔ اس ملک کی آزادی میں جنہوں نے حصہ نہیں لیا ان کو ہمیںحب الوطنی کا سبق پڑھانے اور ہماری حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ درحقیقت ملک کے غدار اور دہشت گرد وہی ہیں جو ان کے خلاف بولنے والے اور لکھنے والے ترقی پسند شخصیات کا قتل کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم کلبرگی ، گوند پنسارے، نریندر دھابولکر اور ہماری تنظیم کی حمایت کرنے والے بے باک صحافی اور سماجی کارکن گوری لنکیش کا قتل کرنے والے کیا ملک سے محبت کرنے والے سمجھے جائیں گے ؟۔ اپنی تقریر میں گوری لنکیش کو یاد کرتے ہوئے ای ۔ ابوبکر نے کہا کہ تنظیم کی تمام سرگرمیوں کاساتھ دینے والی گوری لنکیش کاخون رائیگاں ہونے نہیں دیا جائے گا۔پاپولر فرنٹ آ ف انڈیا کے قومی چیئرمین ای ۔ ابوبکر نے کہا کہ اگر مظلوم طبقات کے لیے آواز اٹھانا، غریبوں کی مدد کرنا،بھوکوں کو کھانا کھلانا، پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانا، غریب طلبہ کو اسکول جانے کے لیے مدد کرنا اگر دہشت گردی ہے تو ہاں ہم دہشت گرد ہی ہیں۔ پاپولرفرنٹ کے سابق چیئرمین کے۔ ایم ۔ شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادی کے بعد سے ملک میں اس طرح کا ماحول دیکھا نہیں گیا۔ فرقہ پرست جماعتیں ملک میں ہندوتوا کو بڑھاوا دینے میں لگی ہوئی ہیں۔ گﺅ رکشا کے نام پر جنونی ہندوتوا عناصر سر عام معصوم مسلمانوں کا قتل کررہے ہیں اور الٹا مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جارہا ہے لیکن پاپولرفرنٹ ان فرقہ پرست طاقتوں کو کھبی اپنے عزائم میںہرگز کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاپولرفرنٹ پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے ، لوجہاد اور آئی ایس آئی ایس کے لیے کارکنان فراہم کرنے کے جو الزامات لگائے گئے تھے اس میں بھی فرقہ پرست جماعتوں کو ناکامی ہوئی ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے ریاستی صدر محمد ثاقب نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج یہاں ہزاروں کی تعداد میں جمع کارکنان اورعوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاپولر فرنٹ کے خلاف فسطائی طاقتوں کے جھوٹے پروپگینڈوں کو عوام کے سامنے رکھیں اور فرقہ پرست عناصر کے عزائم کو ناکام کرنے کا عزم لیکر جائیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے قومی سکریٹری مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں پاپولر فرنٹ پر شکنجہ کسنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن اس میں وہ کھبی کامیاب نہیں ہو پائیں گے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ پاپولر فرنٹ کو مزید طاقتور بنانے کے لیے ہر ایک کا تعاون ضروری ہے۔ ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالحنان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے ملک کو آزادی قربانیوں سے ملی تھی اور اس ملک کی ترقی کے لیے بھی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی تفتیشی ایجنسی مرکزی حکومت کی اشاروں پر ایجنٹ کی طرح کام کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ چند میڈیا گھرانے بھی متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے پاپولر فرنٹ پر پابندی عائد کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔ ملک میں کسانوں کی خود کشی، مہنگائی، بھکمری، بے روزگاری، اقلیتی پر حملے اور کئی ایسے سلگتے مسائل ہیں ان سب کو چھوڑ کر میڈیا گائے، برقع، اذان پر بے وجہ بحث و مباحثہ کرکے اپنی ٹی آر پی کو بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں جو ہمارے ملک کی ترقی کی راہ میں آڑ ہے اور اس سے ملک میں مذہبی منافرت کو فروغ مل رہاہے۔
کرناٹک مائنارٹی کمیشن کے چیئرمین نصیر احمد نے کہا کہ پا پولر فرنٹ ہمیشہ مصیبت زدہ افراد کی مدد کرنے میں پہل کرتی ہے اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی تنظیم ہے۔ ایسی تنظیم کو متحدہ طور پر تعاون دینا عوام کی ذمہ داری ہے۔ بنگلور سٹی جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہمیں پاپولر فرنٹ کے حق میں کھڑے ہوکر انصاف کا ساتھ دینا چاہئے۔ سابق ریاستی وزیر للیتا نائک نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک میں یکجہتی اور بھائی چارہ کو بڑھاوا دینے میں پی ایف آئی اہم کردار نبھاتی آرہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ پی ایف آئی کو کھبی بھی انہوںنے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں دیکھا ہے۔ نیشنل ویمنس فرنٹ کی قومی جنرل سکریٹری محترمہ لبنی سراج نے اپنی تقریر میں خصوصی طور پر خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کوایک پاک معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار نبھانا ہے۔ خواتین کو چاہئے کہ ہمارے اولادوں کو عابدہ بیگم جیسی تربیت دینی چاہئے۔ ا نہوںنے کہا کہ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا آر ایس ایس کا خواب کھبی پورا نہیں ہوگا۔ حکومتیں عورتوں کے حقوق فراہم کرنے کی جو بھی وعدے کرتی ہیں وہ سب کاغذی وعدے ہیں۔ اس کانفرنس میں میسور کے گنانا پرکاش سوامی نے کہا کہ ملک کو فسطائی طاقتوں کے چنگل سے آزاد کرانے اور فرقہ پرست جماعتوںکے ایجنڈوں کوناکام کرنے کے لیے مسلمان، دلت اور پچھڑے طبقات کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ طبقات متحد ہوجائیں گے تو ملک میں تبدیلی اور 2019میں فرقہ پرست طاقتوں کا زوال یقینی ہے۔ انہوںنے اپنے خطاب میں ٹیپو سلطان شہید ؒ کو ملک کے اولین مرد مجاہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان جیسے سیکولر حکمران کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارا ملک آزاد ملک ہے۔ انہوںنے کہا کے گائے اور بیلوں کو ذبح کرنے والوں کو قید کیا جارہا ہے اور انسانوں کا قتل کرنے والوں کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک بیلوںکا نہیں آدمیوں کا ملک ہے۔ پاپولر فرنٹ کے تعلق سے انہوں نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے والی تنطیم نہیں ہے بلکہ سماج کے مظلوم افراد کو ان کے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیم ہے۔ اس کانفرنس میں پاپولر فرنٹ کے قومی سکریٹری عبدالوحد سیٹھ، انیس احمد، بی ایس پی صدر این مہیش،ڈی ایس ایس کے ریاستی صدر موہن راج، پرجا پارٹی کے صد ربی گوپال، افسرپاشاہ، ایس ڈی پی آئی ریاستی جنرل سکریٹری عبدالمجید، پاپولر فرنٹ ریاستی جنرل سکریٹری یاسر حسن اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے سابق وزیر اعظم دیوے گوڈا، امیر شریعت کرناٹک مولانا محمد صغیراحمد خان رشادی اور سابق مرکزی وزیر آسکر فرنانڈیز شرکت کرنہ پائے۔ لیکن مذکورہ تینوں اہم شخصیات نے اپنے پیغامات جو روانہ کئے تھے انہیں کانفرنس میں پڑھ کر سنایا گیا۔ کانفرنس میں مقررین نے دلت مسلم اتحاد پر زور دیا ۔

About the author

Taasir Newspaper