جامعہ ملیہ کے 97 وےں یوم تاسیس کے موقع پر تعلیمی میلے کا انعقاد

دہلی/اکتوبر 29اکتوبر (ابصار احمد صدیقی)نور جما ل کدوئی ماس کمیونیکشن اینڈ ریسرچ سینٹر جمعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی بتاریخ اکٹوبر کو ایک منفرد ملٹی میڈیا تجویز و تصویر نمائش کی میزبانی کر رہا ہے۔اس نمائش کا موضوع ”قوم کی خوبصورتی” پروفیسر ایف بی خان کے زیرنظر ہوی¿ی جو تصاویر امن کے واسطے وخاص منفرد ملٹی میڈیا تجویز دونوں کے صدر اور تعبیر کردہ ہیں. یہ نوجوانوں کو دور حاضر کے اہم و مناصب سوالات سے روبرو کریگا.یہ نمائش طالب علموں اور خواہشمند فوٹوگرافر کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرنے کے علاوہ یہ متعلق سوالات رکھتے ہوے اس ملک کی وسیع جھلکیاں اور اس کی شاندارعظمت کو پیش کرتا ہے جس سے اس عظیم ملک کے سبھی باشندوں کو ضرور روبرو ہونا چاہیے۔اس نمائش کا مقصد اپنے ناظرین کی توجہ ملک میں بڑھتی ہوئی شہرییت کے درمیان اس کے برعکس سنگین شکل میں کم ہوتے نباتیہ وہ حیوانیا جو ملک کی اہم وراثت کے جانب مرکوز ہے.اس نمائش میں ?? خصوصی تصاویرغوروفقر و مشتعل عنوانات کے ساتھ، ملک کے اہم لمحات کو پیمانہ میں ڈھالتے ہویے اس کی خوبصورتی، شہر، جگہوں، تنازعوں، قدرت، ماحول اورصنف قایم کردہ اصولوں سے سوال کرتے اور قائم کردہ معیارات پر غور کر تے ہیں. یہ ملک کے وسیع علاقہ، ندیوں، میدانوں، پہاڑیو ں، کوہسار اور وادیوں سے گفت و شنید کرتے ہیں اور ہر ڈھا نچہ اندرونی امن کی جستجواور یہاں تک کہ ہم آہنگی کی ضرور ت کو ظاہر کرتے ہیں اس نمائش کے صدر پروفیسرایف بی خا ن بتاتے ہیں کہ ان تصاویر میں کہی گیئں تمام با اختیار کہانیاں ناظرین کے دلوں کی ڈور کو حرکت دینگے اور ان سے سوال طلب کرین گے اور اس ملک ہندوتان کے وسیع حصّوں کے نوجوان زہن و تیزتراڑ تلاش کردہ نظروں کے معرفت کیمرے میں قید کئے گئے لمحوں کو زیادہ سے زیادہ آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ کرنے پر زور دیتے ہیں. تصاویر امن کے واسطے #اس کڈی کا دوسرا حصّہ ”خصوصی تجویز ملٹی میڈیا نمائش” بھی پہلے عنوان کی طرح ہی اپیل کرتا ہے. اس میں طالب علم اپنی تحقیق کو انتخابی طور پر خیالی شکل دینگے اور انہیں نمونہ میں تبدیل کر خود مورت کے طور پرسوشل میڈیا پلیٹفارم کے ذریعہ تبادلہ خیال کے ارادہ سے پیش کرینگے. اس حصّہ کو” تصاویر امن کے واسطے” عنوان سے پیش کیا گیا ہے. اس کا مقصد نوجوانوں سے متعلق مختلف مسائل وموضوعات پر بات کرنے کے خیال سے اور ان میں یہ یقین پیدا کرنے کی کہ ملک کو سماجی اعتبار سے مضبوط کرنے کے لئے سبھی طبقات کے جانب سے کوشش کی شرو عات کی جا سکتی ہے. سبھی انتباہ قریب ترین خیال کے حامل ہیں اور انہیں آن لائن بھی پیش کیا جاےگا. عوام ان پریشان کرنے والے موضوع پر اپنے خیالات اور اپنی بات آزاد ہوکر رکھ سکتے ہیں اور اس خوف کو کیسے ختم کیا جائے ایک رائے بنا سکتے ہیں.اس نمائش کے تخلیق کار اور صدر پروفیسر ایف بی خان کہتے ہیں کہ دوسروں سے ڈر اور خوف اعتماد کی کمی کی وجہ سے ہے.انسانی سوچ کو بدلنے والے ایسے مواقع جو نوجوانوں کو فن اور تحریر کے زریعہ شامل کرتے ہیں ایک منفرد راستہ ہے جو تمام ملّت کے لوگوں کو اپنے آرام کن حدود سے باہر لاکر فن صرف سماجی معاملات پر تبصرہ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی مسائل کے حل کوکو فروغ دینے والے نکتہ نظر کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے. فن عوام کے لئے ہونا چاہیے اور یہ کہانیوں سے سماجی کا حل فراہم کرنے کا ایک خود مختار ذریعہ ہے. یہ نمائش” تصاویر امن کے واسطے ” جمہوریت کو مضبوط کرنے اور عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت بڑھانے کی کوشش کے لئے ہے. ہم ایک عظیم ملک کا حصّہ ہیں، اس کی شاندار وراثت اور غیر معمولی مختلف شغافت بہت ہی زر خیز ہے. اس لئے ایک ذمّہ دار شہری اور فنکار ہونے کے ناتے یہ ہماری اجتمائی ذمّہ داری ہے کہ امن لئے تلاش جاری رکھیں اور اسے بہال کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔اس پروگرام کے اختتامی پیشکش میں رام رحمن ”دہلی آفٹر انڈیپنڈنس: ماڈرن آرکیٹکچر اینڈ ایٹس لیگیسی” (دہلی آزادی کے بعد: جدید علم تعمیر اور اسکے وراثت) موضوع پر بات چیت شامل ہے جس میں رحمن سٹین، کارل ہینز اور رومی خوصلا کا حوالہ دیتے ہویے دہلی کے جدید علم تعمیر اور اس کے فوٹو گرافی پر اور جامعہ میں اس روایت کے حوالے سے درس دینگے صدر پروفیسر فرحت بشیر خان امتیازی نظر کی بنیاد پر عالمی سطح پر جانے مانے انعام یافتہ فنکار فوٹوگرافر، کارکن اور ماہرین تعلیم ہیں. پروفیسر خان نے فن میں عوامی شمولیت کے ذریعے سماجی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے مختلف ملٹی میڈیا فارمیٹس کی تلاش کر چکے ہیں. ان کا ماننا ہے کہ فن عوام کے لئے ہے اور عوامی مقامات پر آزادانہ طور پر دکھایا جانا چاہیے. اسے ہم آہنگی کے ساتھ کھلی جگہوں اور عوام کے درمیان تجربہ کرنے کے لئے آزادا نہ طور پر اسے نسب کرنا چاہیے. انہیں ”عوامی فن”(folk art) فوٹو گرافی کی تخلیق کرنے اور اسے لوگوں کے بیچ سمپوزیم میں لانے کا اعجاز بھی حاصل ہے. یہ تصاویر جامعیہ کے صحن میں عوامی رسائی کو بڑھانے کے لئے نامیاتی مواد کا استمال کر پیش کیا جاےگا. انہونے نے ساتھ میں فن، ٹیکنا لوجی، ٹیلی کام، انٹرنیٹ اور مواصلات میں بھی اپنی نظریات کو وسیع پیمانے پر شائع کیا ہے۔