دنیا بھر سے

صومالیہ: الشباب کے ٹھکانوں کے خلاف امریکی فضائی کارروائی

Written by Taasir Newspaper

واشنگٹن 4نومبر(آئی این ایس انڈیا) امریکی فوج کی افریقی کمان (افریکوم) نے رات دیر گئے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ دہشت گرد گروپ کے خلاف کی گئی دو فضائی کارروائیوں میں ”متعدد دہشت گرد“ ہلاک ہوئے ہیں۔افریکوم نے بتایا ہے کہ ”اس وقت ہم نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں“۔ اِس سے قبل، دفاعی حکام نے جمعے کے روز بتایا کہ شمالی صومالیہ میں داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی کارروائی کی گئی۔ایک امر یکی دفاعی اہل کار نے بتایا کہ حملے میں کم از کم ایک شدت پسند ہلاک ہوا، جب کہ حملے کے اہداف کے بارے میں تفصیل نہیں دی گئی ۔قندالہ نامی قصبے کے چیرمین، جامع محمد قریشی نے بتایا کہ بوقہ کے گاو¿ں میں داعش کے شدت پسندوں کے ایک اڈے کو متعدد بار میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جو نیم خودمختار پنٹلینڈ کے خطے میں 60 کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے۔قریشی نے بتایا کہ ”سرزمین سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطا بق، اس پہاڑی علاقے میں قائم شدت پسند وں کے ٹھکانوں پر چھ میزائل لگے۔ مقا می مکینوں اور چرواہے خوفزدہ ہوئے اور علا قے سے دور بھاگ نکلے“۔ ا±نھوں نے بتایا کہ حملے سے قبل، مکینوں نے لڑاکا طیارو ں کی پروازوں سے متعلق اطلاع دی تھی۔ چو نکہ یہ علاقہ دور افتادہ ہے، اس لیے فوری طور پر فضائی کارروائی کی تفصیل واضح نہیں ہو پا ئیں، جس کے لیے مقامی باسیوں نے کہا ہے کہ وہاں صرف شدت پسند ہی جا سکتے ہیں ۔ تاہم، مقامی اہل کاروں اور مکینوں نے اس شبہے کا اظہار کیا ہے کہ شاید گروپ کے چوٹی کے سرغنوں کو نشانہ بنایا گیا ہوگا۔شمال مشرقی صومالیہ میں داعش کے حامی دھڑے کی سربرا ہی شیخ عبدالقادر مومن کر تے ہیں، جو الشباب کے سابق عالم ہیں، جنھوں نے 2015ءمیں داعش کے لیڈر ابو بکر البغدا دی سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔ سال 2016میں امریکی محکمہ خارجہ نے مومن کو عالمی دہشت گر د قرار دیا تھا۔ اکتوبر 2015 ءمیں جب سے داعش کا یہ دھڑا نمودار ہوا ہے، شدت پسندو ں نے پنٹلینڈ میں ہونے والے کم از کم چار مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper