یوم ہریانہ کے موقع پر نوح میں عظیم الشان اجلاس

نئی دہلییکم نومبر(پریس ریلیز)میوات وکاس ایجنسی کے ذریعہ آج یکم نومبر 2017کو یوم ہریانہ کے موقعہ پر تقریب کا اہتمام کیا گیا، یہ اجلاس میوات ماڈل اسکول نوح نے منعقد کیا، جس میں مہمان خصوصی اور خطیب مہمان کے طور پر جناب اندریش کمار رہنما مسلم راشٹریہ منچ نے شرکت کیا۔ پروگرام کا افتتاح شمع جلا کر جناب اندریش کمار نے کیا۔ جناب اندریش کمار نے میوات میں پھیلی مرض کے خلاف جنگ کے اعلان کے طور پر ٹی بی موبائل وین کا بھی افتتاح ہری جھنڈی دکھا کر کیا۔ نیز اس پروگرام میں تقریبا ڈیڑھ کلو میٹر لمبی طلبا وطالبات کے ذریعہ ریلی نکالی گئی۔ جناب غیر الحسن رضوی، چیئر مین مرکزی اقلیتی آیوگ ، جناب رئیس خان، ایم ایل اے پنہانا اور چیئر مین ہریانہ وقف بورڈ جناب اورنگزیب ہریانہ حج کمیٹی کے چیئر مین ۔ ضلع صدر بی جے پی ڈپٹی کمشنر ایس پی نوح کی عزت افزودگی کے طور پر موجودی درج گی گئی۔ تفصیلی رپورٹ کے مطابق جناب گریش جویال نے بتایا کہ پروگرام میں تمام مذاہب کے افراد نے شرکت کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ میوات میں پھیلی ہوئی ٹی بی کی بیماری کے خلاف بڑی مہم چھیڑتے ہوئے صحت موبائل وین کا اجرا و افتتاح کیا گیا۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کیلئے شجر کاری مہم کو بھی شروع کیا گیا۔ جناب اندریش کمار نے میوات کے تاریخی ابواب کا ذکر کرتے ہوئے غیر الحسن نامی شخص کے مکالمے کا ذکر کیا ۔ جس میں بابر کے دعوت پر غیر الحسن نامی شخص نے دو ٹوک جواب میں یہ کہا تھا کہ اگر تو مذہب کے لئے ہمیں پکارتا تو ہم تیری ہر بات پر لبیک کہتے لیکن چونکہ حکومت کرنے کیلئے اور زمین کے قبضے کیلئے طاقت کی آزمائش کا ارادہ ہے لہذا ہم بابر کی باتوں کو نہ تسلیم کرتے ہوئے اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ہم محب وطن بھارت میں کسی بھی طرح کی در اندازی کے قائل نہیں ہیں۔ گریش جویال نے ہریانہ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہریانہ کبھی ریتیلی اور کیکر کے جنگلوں کے لئے پہچانا جانے والا صوبہ تھا اب ہریانہ ریاست 51سال کا ہو گیا ہے ۔ ریاست کی تاریخ پر غور کریں تو ہریانہ 1نومبر 1966کو وجود میں آیا تھا ۔ کانگریس کے بھگوت دیال شرما یہاں کے پہلے وزیر اعلیٰ بنائے گئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہریانہ کے پاس وراست میں صرف کیکر اور ریتیلی اور بنجر سریکھے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ بنیادی سہولیات نہ کے بابر تھیں ۔ ترقی کی بنیاد کی طرف ہریانہ آگے بڑھا۔ سیاسی اور موحولیاتی کروٹیں بھی اسی حساب سے بنتی بدلتی رہیں اسی دوران یہ چھوٹا سا صوبہ اپنے سیاسی قیادت اور سوجھ بوجھ کیلئے سرخیوں میں رہنے لگا۔