آنند کے لئے مشکل رہا سال، نوجوانوں نے بازی ماری

نئی دہلی 28 دسمبر (یو این آئی) طویل وقت سے ہندستانی شطرنج کے بے تاج بادشاہ رہے وشوناتھن آنند کے لئے 2017 مشکلوں بھرا سال رہا جبکہ ملک کے نوجوان شطرنج کھلاڑیوں نے اس سال اپنی چمک بکھیرکر دکھایا کہ وہ آنند سے باگ ڈور سنبھالنے کے لئے تیار ہیں۔ پانچ بار کے عالمی چمپئن آنند کے لئے یہ سال کافی اتار چڑھاو والا رہا۔وہ چیس گراں پری میں آخری نمبر پر رہے اور جارجیا میں ہوئے ورلڈ کپ میں دوسرے را¶نڈ میں ہی ہار گئے ۔گرینڈ چیس ٹور میں سب سے اوپر نہ رہنے اور ورلڈ کپ فائنل کے لئے کوالیفائی نہ کرنے کی وجہ سے آنند 2018 میں عالمی چمپئن شپ میں میگنس کارلسن کو چیلنج کرنے کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔ اس مایوسی کے درمیان 48 سالہ آنند نے اپنی کلاس بھی دکھائی۔اسکفیلڈ کپ میں وہ چمپئن کارلسن کے ساتھ مشترکہ دوسرے نمبر پر رہے ۔آنند نے سینٹ لوئس ریپڈ اینڈ بلٹز ٹورنامنٹ میں سابق عالمی چمپئن گیری کاسپارو کے ساتھ ڈرا کیا اور آئل آف مین ٹورنامنٹ میں مشترکہ دوسرے نمبر پر رہے ۔آنند نے سال کا اختتام 2782 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ کیا۔ اس سال ہندستانی نوجوان شطرنج کھلاڑیوں نے اپنی چمک بکھیرتے ہوئے دکھایا کہ ہندوستانی شطرنج محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ناسک کے 22 سالہ ودت گجراتی نے 2017 میں اپنی صلاحیت ثابت کی۔ انہوں نے ورلڈ کپ کے تیسرے را¶نڈ تک رسائی حاصل کی جو اس ٹورنامنٹ میں بہترین ہندستانی کارکردگی تھی۔ ودت اہم ٹائی بریک میں ہارنے کی وجہ سے اگلے را¶نڈ میں پہنچنے سے چوک گئے ۔ ودت کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے آئل آف مین ٹورنامنٹ میں عالمی چمپئن کارلسن کے ساتھ ڈرا کیا اور ساتھ ہی وہ 2700 ریٹنگ پار کرنے والے چوتھے ہندستانی گرینڈ ماسٹڑ بن گئے ۔اس سے پہلے یہ کامیابی آنند ، پی ھرکرشنا اور کے ششی کرن کو حاصل تھی۔ودت کے 2715 ریٹنگ پوائنٹس ہو گئے ہیں۔ھرکرشنا کے سال کے اختتام پر 2744 ریٹنگ پوائنٹس رہے ۔ خاتون شطرنج میں ھریکا دروناول¸ نے بھی کمال کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے تہران میں خواتین ورلڈ چمپئن شپ میں چمپئن بنی چین کی تان زوگی¸ کے ساتھ 162 چالوں کی بازی کھیلی اور اس میں جیت بھی حاصل کی۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں کانسی کا تمغہ بھی حاصل کیا۔انہوں نے اس کے علاوہ ریجوک اور ابو ظہبی میں ٹورنامنٹ کی سب سے بہترین خاتون کھلاڑی کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ھریکا عالمی ٹیم مقابلہ میں چوتھے نمبر پر بھی رہیں۔