بنگلور

بہت جلد خاتون وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ترقی کے منازل طے کرے گا کرناٹک:ڈاکٹر نوہرہ شیخ

Written by Taasir Newspaper

بنگلور12دسمبر(پریس ریلیز)کرناٹک بہت جلد ایک خاتون کی قیادت میں ترقی کی مزلیں طے کرے گا اور یہاں وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر ایک خاتون ریاست کی فلاح و بہبود کا فریضہ انجام دے رہی ہو گی۔یہ باتیں آج یہاں بنگلور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نوہرہ شیخ نے کہیں ۔وہ یہاں آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی لانچنگ اور کرناٹک می ہونے والے انتخابات میں پارٹی کی شرکت سے متعلق صحافیوں سے گفتگو کر رہی تھیں۔انہوںنے کہا کہ 224سیٹوں کی اسمبلی میں محض پانچ خاتون ممبر ہیں جو بڑے افسوس کی بات ہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ ریاست تع تعلیمی اعتبار سے بھی ترقی یافتہ ہے اس کے باجود یہاں خواتین کی حالت سیاسی طور پر اتنی ابتر کیوں ہے؟انہوںنے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنسی تفریق کو جڑ سے مٹا دیا جائے مگر یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ خواتین خود باگ ڈور اپنے ہاتھوں میںنہیں لیںگی۔ڈاکٹر نوہرہ شیخ نے کہا کہ سیاست کسی کی وراثت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کسی کی اجارہ داری ہے ،ہم بھی اب چہار دیواری سے نکل کر ایوان میں پہنچیں گے اور اپنے حقوق حا صل کریں گے۔انہوںنے کرناٹک میں ہونے والے انتخابات میں پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی جیت کے لئے پورا دم خم لگا دے گی۔انہوںنے امید ظاہر کی کہ یہاں کے عوام ان کا بھر پور ساتھ دیں گے کیونکہ وہ ابتدا سے ساتھ دیتے آئے ہیں۔انہوںنے بتایا کہ ان کے سب سے زیادہ ممبران کا تعلق اسی ریاست میں ہے اور یہی پہلا ہم سب کا امتحان گاہ بھی ہے ۔ مسلم خاتون بزنس آئیکن ڈاکٹر نوہرہ شیخ نے کیا ۔انہوںنے سبھی سیاسی جماعتوں کے خواتین سے متعلق ایجنڈوں اور خاکوں کو ناکام بتاتے ہوئے کہا کہ آج کے ایکسویں صدی میں بھی عورت ڈری اور سہمی ہوئی ہے ،اس کو کوئی پلیٹ فارم نہیں مل رہاہے کہنے کو تو سبھی پارٹیاں کہتی ہیں کہ وہ خواتین کو با اختیار بنائیں گی لیکن وہ دو چار فیصد سے زیادہ حصہ داری دینے پر راضی نہیں ہیں ،اسی لئے میں آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی کی تشکیل کی ہے تاکہ خواتین کو با اختیار بنایا جا سکے،انہوںنے کہا کہ آپ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دیکھ لئے لیجئے بڑی بڑی پارٹیوں کے کوٹے سے دو چار خواتین سے زیادہ ممبر نہیں ملیں گی۔کیا وجہ ہے کہ خواتین کو ان کی حصہ داری نہیں دی جاتی ہے جبکہ نہ ان میں صلا حیت کی کمی ہے اور نہ ہی وہ محنت میں کسی سے پیچھے ہیں۔انہوںنے خواتین کو ۳۳ فیصد ریزرویشن دیئے جانے کے لئے بل کے زیر التوا ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاشرہ آج بھی خواتین کو آگے نہیں بڑھا نا چاہتا ہے تو یہ معاشرہ کی بہت بڑی بھول ہے ۔ڈاکٹر نوہرہ شیخ نے ریاست میں کسانوں ،کاروباریوں اور شہریوں کی حا لت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ الیکشن میں آنے کے بعد سب سے پہلے تعلیم،ا سپتال ،کسان اور شہری ضروریات پر توجہ دی جائے گی ۔انہوںنے کہا کہ میری کوشش ہوگی کہ بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ ہو پائے ہر خاتون کو اس حق ملے ،کوئی کسان بھوکا نہ سوئے ،کسی شہری کو بنیادی ضروریات کے لئے در بدر نہ بھٹکنا پڑے۔انہوں نے اپنی پارٹی کے قیام کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک خواتین کا غالب حصہ آج بھی اپنے حقوق سے نابلد ہے ان کو معلوم ہی نہیں ہے کہ آئین نے ان کو کون کون سے حقوق دیئے ہیں،جن ریزرو سیٹوں پر ان کوپارٹیاں ٹکٹ بھی دیتی ہیں تو ان کے کام کرنے کے بجائے ان کے شو ہر ،بھائی اور والد کام کر تے ہیں،میری خواہش ہے کہ خواتین خود میدان میں آئیں الیکشن لڑیں ،زمانے کی سچائیاں دیکھیں اور آگے بڑھیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہماری پارٹی میں اسی فیصد خواتین کو ہی ٹکٹ دیئے جائیں گے کیونکہ ہمارا مقصد ہی خواتین کو با اختیار بنانا ہے اوربیس فیصد مردوں کو ٹکٹ دیئے جائیں گے ۔انہو ں نے کہا کہ یہ پارٹی ہر عورت ،ہر مرد،ہر کسان، ہر تاجر ،ہر ڈا کٹر اور ہر شہری کی ہے۔ہر ایک کو شانہ سے شانہ ملا کر چلنا چا ہئے تبھی کامیابی ملے گی۔انہوںنے اسمبلی الیکشن سے متعلق اپنی تیاریوں کا خاکہ سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہم پوری طر ح سے تیار ہیں ۔ہمارے رضا کار کرنا ٹک کے ایک ایک گھر کے دروازہ پر دستک دیں گے اور لوگوں کو بتائیں گے کہ اب تک کیا ہوتا رہا ہے اور اس الیکشن میں کیا ہو جارہا ہے۔ ،انہوں نے کہا ہم گھر گھر تک پارٹی کی آواز کو پہنچا کر لوگوں کو راغب کریں گے۔ڈاکٹر نوہرہ شیخ نے کہا کہ پانچ برس قبل اس پارٹی کا رجسٹریشن کرایا گیا تھا اب تک میں نے سروے کیا اور خواتین کے رخ کو دیکھا کہ کیا ان میں یہ استطاعت ہے کہ وہ اپنے دم پر الیکشن کے میدان میں کامکیابی حاصل کر سکتی ہیں ۔تجربے کے بعد اندازہ ہوا کہ خواتین میں کچھ کرنے کا جذبہ اور للک ہے لیکن ان کو پلیٹ فارم مہیا نہیں ہونے دیا جاتا ہے اس لئے میں نے خواتین کو سیاسی پلیٹ فارم مہیا کرانے کے لئے آج اس پارٹی کا اعلان کردیا ہے۔انہوںنے کہا کہ یہ ایک نیشنل پارٹی ہے جو پورے ملک میں انتخابات میں حصہ لے گی اور اپہنے دم پر اقتدار میں آئے گی ۔انہوںنے کہا کہ سب سے پہلے ہم اس کا آغاز بنگلوسے کر رہے ہیں اس کے بعد مختلف ریاستوں میں ہونے والے انتخابات میں ہم شرکت کریں گے اور پھر 2019کے پارلیمانی الیکشن میں پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آئیں گے۔ڈاکٹر نوہرہ شیخ کے مطابق اس وقت بارہ لاکھ خواتین ان کی پارٹی کی ممبر ہیں جن میں غالب حصہ مسلم خواتین کا ہے لیکن تیس فیصد غیر مسلم خواتین بھی ان کی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ڈاکٹر نوہرہ شیخ نے سماج میں خواتین کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہروں میں رہنے والی خواتین میں تھوڑی سی بیداری پائی جاتی ہے اور ان کو اپنے کچھ حقوق کا علم بھی ہے لیکن دیہی علاقوں کی خواتین اس معاملے میں بالکل بے دست و پا ہیں۔اس لئے ان کو تعلیم کے ساتھ ہی روزگار سے جوڑے جانے کی ضرورت ہے کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آتی ہے وہ خواتین سے متعلق بڑے بڑے اعلانات کرتی ہے ،اسکیمیں بناتی ہے مگر زمین پر کچھ نہیں دکھائی دیتا صرف کوری کاغذی کارروائی ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں،اور سیاسی اعتبار سے خواتین سب سے نچلے پائیدان پر ہیں۔انہوںنے مرکزی حکومت کی اجولا اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے اشتہارات شائع کئے گئے اور بتایا گیا کہ خواتین کو سلینڈر تقسیم کئے گئے ہیں لیکن جب زمینی سچائی دیکھی گئی تو اشتہارات اور اعلانات کے بر عکس پائی گئی ،ڈاکٹر نوہرہ نے اس کو سیاسی استحصال سے تعبیر کیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ پارٹی کسی خاص طبقہ ،مذہب اور فرقہ کی نہیں ہے بلکہ یہ پارٹی ہر اس شخص کی ہے جو یہ چاہتاہوکہ خواتین کے حقوق ان کو ملنے چاہئے ۔جب تک خواتین کو مقننہ میں نہیں لایا جاتا اس وقت تک ان کے لئے نہ تو قابل قدر اسکیمیں ہیں اور نیہ وقت کے لحاظ سے سے حکومت کے مختلف شعبوں سے فیضیاب ہو سکتی ہیں۔اس لئے سیاست کے میدان میں خواتین کا آنا نہایت ضروری ہے۔انہوںنے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ پارٹی میں کسی کے حقوق سے آنکھیں نہیں بند کی جائیں گی خواتین کے مسائل ترجیحی بنیاد بناکر کام کیاجائے گا اس کے باجود مردوں کو ہر سطح پر بہتر مقام دیا جائے گا۔اس موقع پر کثیر تعداد میں پارٹی کے عہدیداران، ممبران و بہی خواہان کے ساتھ ہی میڈیا سے وابستہ لوگ موجود تھے۔میڈیا سینٹر کے کوارڈینیٹر عبدالماجد عزیز نے آخر میں آئے ہوئے سبھی مہمانوں کو شکریہ ادا کیا۔

About the author

Taasir Newspaper